اے پیا جے انقلاب، دلچسپ تبصرے

inquilab.jpg


اے پیا جے انقلاب۔۔ ن لیگ کے موقف میں تبدیلی پر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کا دلچسپ ری ایکشن

ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ تنقید ن لیگ کے حامی صحافیوں اور ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے ہورہی ہے جن کا موقف ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی مرضی کا ڈی جی آئی ایس آئی لگانا چاہتے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فوج کے معاملات میں بے جا مداخلت کررہے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ عمران خان جان بوجھ کر معاملے کو متنازعہ بنارہے ہیں۔

ن لیگ جو سویلین سپریمیسی کا نعرہ لگاتی ہے وہ بھی اس ایشو پر فوج کیساتھ کھڑی ہے اور عمران خان پر تنقید کررہی ہے، ایک طرف کیپٹن صفدر کہتے ہیں کہ فوج کی تعیناتیوں میں مداخلت وزیراعظم کا اختیار نہیں تو دوسری طرف مریم نواز یہ الزام لگاتی نظر آتی ہیں کہ عمران خان جنات کے ذریعے تقرریاں کرنا چاہتے ہیں

دو روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ فوج کی تعیناتیوں میں مداخلت وزیراعظم کا اختیار نہیں،گریڈ 21، 22 کی پوسٹنگ ٹرانسفر وزیراعظم کا کام نہیں، انکاکام مہنگائی کنٹرول کرنا ہے، کیا کبھی آرمی چیف نے کہا ہے کہ فلاں کو سیکرٹری داخلہ ، فلاں کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ لگاؤ؟


مریم نواز نے بھی گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اہم تقرریوں پر ملک کو تماشا بنا دیا ہے اور وزیر اعظم کی جگہ اہم ترین تقرریاں جنات کرتے ہیں۔ یہ آدمی جادو ٹونے کے ذریعے ملک چلارہا ہے۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ سچ ایک دن ضرور سامنے آتا ہے، آئین، جو اختیارات ایک منتخب وزیر اعظم کو دیتا ہے اس پر کوئی دو آرا نہیں ہیں لیکن عمران خان آئینی وزیر اعظم نہیں ہیں، انہوں نے نواز شریف کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا ہے۔عمران خان کا حساب کتاب جادوٹونہ ، جنترمنتر، عوام کیلئے کیوں نہیں؟ اگر جادو ٹونہ چلتا ہے تو آٹا چینی سستی کرواؤ۔


مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مسئلہ ڈی جی آئی ایس آئی کا نہیں ایک لیفٹیننٹ جنرل کا مسئلہ ہے جو آرمی چیف کے حکم کا پابند ہے وزیراعظم ایک غلط چیز پر جاہلانہ انداز میں کھڑے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف کے ماتحت ہے، وزیراعظم کو اس حد تک مداخلت نہیں کرنی چاہیئے کہ نظام متاثر ہو ۔

مریم نواز، کیپٹن صفدر، مولانا فضل الرحمان اور انکے حامی صحافیوں کے ان بیانات پر مختلف صحافی اور سوشل میڈیا صارفین یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کہاں گئی ان کی سویلین سپریمیسی؟ کہاں گیا انقلاب؟ جو لوگ دن رات سویلین سپریمیسی کی باتیں کررہے تھے، اب ایکسپوز ہورہے ہیں

اینکر عمران خان نے اس پر تبصرہ کیا کچھ لوگ اپنا سی وی لیکر جی ایچ کیو کے باہر کھڑے ہیں۔


خاورگھمن نے اس پر تبصرہ کیا کہ وہ لوگ جو ہمیں دن رات بتاتے تھے وزیر اعظم عمران خان کی حثیت اسلام آباد کے مئیر جتنی ہے۔۔۔اب کچھ اور فلسفے بیان کرتے سنائی دیتے ہیں،،ویسے کتنی عجیب بات ہے۔


خاور گھمن کا مزید کہنا تھا کہ صرف ایک سمری کے معاملے نے کتنے سارے دانشوروں کو بے لباس کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سر میں دھول ڈال کر کپڑے پھاڑ کر سڑکوں پر دیوانہ وار گھو منے کی کسر باقی رہ گئی ہے۔۔۔۔


ارم زعیم نے تبصرہ کیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی والے معاملے پر ن لیگی انقلاب پاکستان کے سب سے گندے گٹر میں بہہ گیا۔ رایونڈ سے پنڈی تک “سرکار مالشی حاضر” کی صدائیں بلند۔


بلاگر مغیث علی کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی مریم صفدر نے آج پریس کانفرنس کے ذریعے سی وی کو ٹاکی مار کر جی ایچ کیو بھیجنے کی کوشش کرکے یہ ثابت کیا ہے " آپ حکم کریں ہم حاضر ہیں " مریم صفدر نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر "باس" کی چاپلوسی میں شوباز شریف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا یہ ہے منافقت


اعزازسید نے ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی وزیراعظم عمران خان پر تنقید، ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹنگ جنرل باجوہ کا ساتھ دینے کا اعلان


جس پر اکبر نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ اے پیا جے انقلاب جس چیف گناہ زدہ ایکسٹنشن پر بیٹھا ہے جسکی ایکسٹنشن کے گناہ میں مریم شامل نہں تھی مریم اسکے ساتھ کھڑی ہوگئی اتنے یو ٹرن اتنی منافقت ؟ روز نیا چورن ؟

 
Advertisement

rmunir

Minister (2k+ posts)
نوٹ: مریم کی اس منافقت کو یو ٹرن ہرگز نا سمجھا جائے، بلکہ اس کو سیاسی داؤ پیچ کے طور پڑھا اور لکھا جائے ۔
 
Sponsored Link