
جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے مسلمان کھلاڑی ہاشم آملہ کو بھی کاؤنٹی کرکٹ کے دوران شراب پینے پر مجبور کیے جانے کا انکشا ف ہوا ہے۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف سابق ویسٹ انڈین کرکٹر ٹینو بیسٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں کیا اور کہ ہاشم آملہ کو اپنے کیریئر کے دوران بار بار شراب پینے کیلئے مجبور کیا جاتا تھا۔
ٹینو بیسٹ نے اپنے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کاؤنٹی کرکٹ کی ایک تقریب میں پیش آیاجس میں ایک کھلاڑی ہاشم آملہ کو بار بار شراب پینے پر مجبور کررہا تھا مگر ہاشم آملہ تحمل اور بردبار ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس انگریز کرکٹر کو منع کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہاشم آملہ کے منع کرنے کے باوجود انگلش کرکٹر باز نہ آیا تو میں نے اس کھلاڑی کو کہا کہ ہاشم آملہ مسلمان ہیں اور وہ شراب نہیں پییں گے ، تاہم اس کھلاڑی پر میری مداخلت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ مسلسل ہاشم آملہ کو مجبور کرتا رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کاؤنٹی کرکٹ کے کلچر میں شراب بہت عام ہے، یہ کلچر اتنا غالب ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والے کو آگے بڑھنے اور چانس ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ کاؤنٹی کرکٹ کلب یارکشائر کیلئے کھیلنے والے مسلمان کھلاڑی عظیم رفیق نے برطانوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے نسل پرستی کے کلچر سے متعلق گواہی دی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا طوفان کھڑا ہوگیا تھا،عظیم رفیق نے اپنی شہادت میں برطانوی ٹیم کے کپتان مائیکل وان، ڈیوڈ لائیڈ ، برطانوی کرکٹر گیری لائنس سمیت متعدد لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں جن پر الزام ہے کہ یہ لوگ ایشیائی کھلاڑیوں کے خلاف کلچر کو پروموٹ کرنے میں شامل رہے ہیں۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/6amalbest.jpg