گردشی قرضہ، 1250 ارب کی نئی سیٹلمنٹ کیلئے آئی ایم ایف کو درخواست

12ifffgjkasADFSDGG.png

100 ارب روپے کی رقم نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو جاری کی جائے گی: ذرائع

پاکستان کی طرف سے توانائی شعبے کے گردشی قرضے میں کمی کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو 1250 ارب روپے کی نئی کی نئی سیٹلمنٹ کرنے کیلئے دوبارہ سے درخواست دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے عالمی مالیاتی ادارے کو دوبارہ سے 1 ہزار 250 ارب روپے کی نئی سیٹلمنٹ کرنے کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔

درخواست وزارت خزانہ کی مشاورت کے ساتھ وزارت توانائی نے سیٹلمنٹ منصوبے پر بات کرنے کیلئے دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے نئی حکومت قائم ہونے کے بعد گردشی قرضے کی سیٹلمنٹ کے لیے جواب دیا جائے گا۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کے توانائی کے شعبے کا 1 ہزار 250 ارب روپے کے گردشی قرضے کو سیٹل کرنے کا منصوبہ منظور کرنے سے انکار کیا جا چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کے لیے 250 ارب اور پٹرولیم سیکٹر کے لیے 1ہزار ارب روپے کیش کی صورت میں جاری کیا جائے گا، ایسے ہی 600 ارب روپے او جی ڈی سی ایل، 150 ارب روپے بی پی ایل اور 170 ارب روپے جی ایچ پی ایل کو جاری کیے جائیں گے جبکہ 100 ارب روپے کی رقم نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو جاری کی جائے گی۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے 1300 ارب روپے کے ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، اشیائے خوردونوش، ادویات، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹکس کم سے کم 18 فیصد تک بڑھانے کا کہا گیا ہے۔ آئی ایم ایف ماہرین کے مطابق ٹیکس سے ریونیو بڑھانے کیلئے تمام ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی ضرورت پڑے گی جس سے جی ڈی پی کا 1.3 فیصد اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔