
لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تعلقات ہائی لیول پر کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو بھی مسلم لیگ ن کی قیادت سے شدید ناراض ہیں۔
اپنے ایک بیان میں گورنر پنجاب نے واضح کیا کہ ہر بار مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد پیپلزپارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اب اس مخمصے کا شکار ہے کہ حکومت میں رہنا ہے یا نہیں، جس کا حتمی فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی مجبوری کے تحت مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت میں شامل ہے لیکن یہ دونوں الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں اور ان کے درمیان کوئی ٹھوس مفاہمت نہیں ہے۔ گورنر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنا سیاسی نقصان برداشت کر لیا، لیکن ملک کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔
بلاول بھٹو کے تحفظات اور شریف فیملی کے متنازع بیانات
چند روز قبل بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کو مشاورتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا جا رہا ہے اور طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان بیانات کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنان میں بھی غصہ بڑھ رہا ہے۔
ادھر شریف فیملی کے ترجمان کے حالیہ بیان نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حسن نواز کے برطانیہ میں مبینہ دیوالیہ ہونے پر شریف خاندان نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قیادت نے خاموش رہنے کی ہدایت دی ہے، ورنہ مسلم لیگ ن کے حوالے سے تمام راز افشا کر دیتے۔
یہ کشیدہ صورتحال دونوں جماعتوں کے اتحاد کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے۔
- Featured Thumbs
- https://i.ibb.co/dQbJQwN/gov.jpg