
لاکھوں عازمین حج مناسکِ حج کا آغاز کر چکے ہیں جس کے لیے منیٰ میں خیمہ بستی آباد ہو چکی ہے اور اس دوران گرمی کے باعث عازمین حج کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی حکومت ان کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
دوسری طرف ہر سال کی طرح اس سال بھی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق منیٰ میں آباد خیمہ بستی میں پاکستانی عازمین حج شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ، پاکستان سے 1 لاکھ 60 ہزار پاکستانی عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ منیٰ میں آباد ہونے والی خیمہ بستی میں پاکستانی حکام کی طرف سے بدانتظامی کے باعث پاکستانی حجاج کرام کے مشکلات میں پھنسے ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کے عازمین حج کو منیٰ خیمہ بستی میں مکتب فراہم نہیں کیا گیا اور پاکستان کے لیے مختص کیے گئے مکتب میں دوسرے ملکوں کے عازمین حج موجود ہیں۔
اطلاعات آ رہی ہیں کہ منیٰ میں آباد خیمہ بستی میں پاکستانی عازمین حج کو خیمے نہ ملنے کے باعث پاکستانی عازمین حج نے سارا دن کڑی دھوپ میں کھڑے ہو کر گزارا۔ پاکستانی عازمین حج کڑی دھوپ میں بسوں میں یا خیمہ بستی کے باہر ہی بیٹھے رہے جبکہ یہ بھی پتا چلا ہے کہ عازمین حج کو کھانا بھی نہیں پہنچایا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ منیٰ میں آباد خیمہ بستی میں پاکستان عازمین حج کیلئے تعینات رضاکار بھی موجود نہیں جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے عازمین حج کو منیٰ میں پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے اب تک سرکاری طور پر موقف جاری نہیں کیا گیا۔
عازمین حج منیٰ میں قیام، نمازوں کی ادائیگی وعبادات کے بعد کل صبح میدان عرفات کے لیے روانہ ہو جائیں گے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا۔ عازمین کرام غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہونے کے بعد مغرب وعشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد کھلے آسمان تلے رات بسر کریں گے جہاں سے رمی جمرات کیلئے کنکریاں جمع کریں گے۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/minnnaahhaha.png