لاہور کے قدیم حصے کی بحالی کا منصوبہ

CanPak2

Minister (2k+ posts)
لاہور کے قدیم حصے کی بحالی کا منصوبہ




شمائلہ جعفریبی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور




آخری وقت اشاعت: بدھ 7 اگست 2013 ,* 15:49 GMT 20:49 PST



130807122329_lahore_old_city3041.jpg

شاہی گزرگاہ پر مسجد وزیر خان کے ارد گرد سیوریج لائنوں کی مرمت اور یہاں سے تجاوزات ہٹانے کا کام بھی منصوبے کا حصہ ہے


ٹریفک کی بھیڑ اور پیدل چلنے والوں کا ایک سمندر لاہور کے اندرون شہر میں دہلی دروازے تک پہچنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔دہلی دروازے کے اردگرد درجنوں دکانیں ہیں جہاں پلاسٹک کے برتنوں، سستی چپلوں، مصالحوں، تولیوں اور مسواک سے لے کر عام زندگی کی ضرورت کی تقریباً ہر چیز سستے داموں خریدی جا سکتی ہے یعنی اس جگہ کو غریب آدمی کی لبرٹی مارکیٹ ہی سمجھ لیجیے۔
ا

یہی وجہ ہے کے یہاں سال کے بارہ مہینے رونق لگی رہتی ہے اور تو اور دروازے کے اندر بھی کئی دکاندار اپنی رہڑیاں سجائے بیٹھے ہیں۔دہلی دروازے سے شروع ہونے والی سڑک شاہی گزر گاہ کہلاتی ہے۔ یہ سڑک ڈیڑھ کلومیٹر طویل ہے اور کوتوالی پہنچ کر ختم ہوتی ہے۔ شاہی گزر گاہ پر مسجد وزیر خان، شاہی حمام اور سنہری مسجد سمیت کئی اہم تاریخی عمارتیں قائم ہیں۔
130807122327_lahore_old_city304-2.jpg
اگر آپ تین منزلہ عمارت پر کام کر رہے ہیں تو پہلی منزل والا آپ کو کام کرنے دے گا لیکن دوسری منزل والا اعتراض کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ تیسری منزل والا اپنے حصے کو تالہ لگا کر کہیں چلا جائے۔ ایسے حالات میں دکانوں محلوں اور مکانوں کی مرمت جوئے شیر لانے سے کم نہ تھی۔۔۔"


آرکیٹیکٹ نعیم محمود

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ قلعے سے نکل کر اسی راستے حمام اور جمعے کو سنہری مسجد نماز ادا کرنے کے لیے آتے تھے۔ اسی مناسبت سے اس سڑک کو شاہی گزر گاہ کا نام دیا گیا ہے۔
سڑک کے دونوں جانب جو بازار ہے وہ اتنا تنگ ہے کہ یہاں گاڑیوں کا داخلہ بند ہے جبکہ بازار کے دائیں اور بائیں جانب گلیوں کا ایک جال ہے جس میں سینکڑوں مکان ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس علاقے کی ہر عمارت ہی تاریخی ہے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لاہور کا یہ جیتا جاگتا ثقافتی ورثہ اپنے رہائشیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب ورلڈ بینک کے اشتراک سے پنجاب حکومت نے پرانے شہر کے حسن کو محفوظ کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس کے پہلے مرحلے پر ستر کروڑ لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
130807122406_lahore-walled-city304-3.jpg
"ہم پہلے ایک ہی کمرے میں رہتے تھے یہاں ایک طرف باورچی خانہ اور غسل خانہ تھا۔ کھانہ پکانے کے لیے گرمی میں کمرے کا پنکھا بند کرنا پڑتا، بہت دقت ہوتی تھی لیکن اب انھوں نے دو کمرے کچن اور غسلخانہ بھی الگ بنا دیے ہیں۔ ہماری تو زندگی میں سکون میں آیا ہے"


مقامی رہائشی طلعت




منصوبے کے آرکیٹیکٹ زیغم محمود بتاتے ہیں کہ کئی نسلوں سے آباد رہائشیوں اور دکانداروں کو بحالی کے منصوبے میں تعاون کے لیے تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
’اگر آپ تین منزلہ عمارت پر کام کر رہے ہیں تو پہلی منزل والا آپ کو کام کرنے دے گا لیکن دوسری منزل والا اعتراض کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ تیسری منزل والا اپنے حصے کو تالہ لگا کر کہیں چلا جائے۔ ایسے حالات میں دکانوں محلوں اور مکانوں کی مرمت جوئے شیر لانے سے کم نہ تھی۔ لیکن ہماری سوشل موبیلایزیشن ٹیموں نے بہت محنت کی اور لوگوں کو قائل کیا کہ یہ منصوبہ ان کے فائدے کے لیے ہے۔ ان مسائل کے باعث ابتدا میں یہ منصوبہ تاخیر کا شکارہوا‘۔
طلعت چار بچوں کی ماں ہیں۔ ان کا سسرالی خاندان دہلی دروازے کے سرجن سنگھ سٹریٹ میں قیام پاکستان سے بھی پہلے سےرہائش پذیر ہے ۔ بحالی کے منصوبے کے دوران طلعت اور اس کے محلے میں دوسرے مکانوں کی مرمت بھی کی گئی۔
’ ہم پہلے ایک ہی کمرے میں رہتے تھے یہاں ایک طرف باورچی خانہ اور غسل خانہ تھا۔ کھانہ پکانے کے لیے گرمی میں کمرے کا پنکھا بند کرنا پڑتا، بہت دقت ہوتی تھی لیکن اب انھوں نے دو کمرے کچن اور غسلخانہ بھی الگ بنا دیے ہیں۔ ہماری تو زندگی میں سکون میں آیا ہے‘۔
130807122331_lahore-walled-city304-5.jpg
قدیم شہر کی بحالی کے لیے پرانی طرز کا تعمیراتی میٹریل استمعال کیا جا رہا ہے


دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس سارے کام کے لیے محض رسمی سا معاوضہ ادا کیا ہے۔ سرجن سنگھ سٹریٹ کے ایک اور رہائشی شیخ جہانگیر کہتے ہیں ’مکان کی حالت بہت خراب تھی۔ پیسے ہم نے کیا دینے تھے صرف فارمیلٹی پوری کی ہے۔ لاکھ دو لاکھ روپیہ کیا چیز ہے۔ اتنا پیسہ تو اگر ہم خود بنواتے تو ملبہ اٹھانے والوں نے لے لینا تھا‘۔
شاہی گزرگاہ پر مسجد وزیر خان کے ارد گرد سیوریج لائنوں کی مرمت اور یہاں سے تجاوزات ہٹانے کا کام بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
قدیم شہر کی بحالی کے لیے پرانی طرز کا تعمیراتی میٹریل استمعال کیا جا رہا ہے جسے دلی دروازے کے قریب ہی ایک ورکشاپ میں خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔
اس ورکشاپ میں لکڑی کی جالیاں روایتی دروازے اور جھروکے بنائے جاتے ہیں جبکہ سرخ مٹی کی ٹائلیں جو قدیم شہر کی عمارتوں کا اہم جز ہیں یہیں تیار ہو رہی ہیں۔ عمارتوں کی مرمت چونے اور کنکر سے بنے خاص آمیزے سے کی جا رہی ہے۔
"جب کبھی ہم نے اپنی تاریخ کو دکھایا بھی ہے تو اسے یادگاروں عمارتوں اور عجائب گھروں جیسی بے جان چیزوں تک محدود رکھا ہے۔ لیکن ہماری ثقافت کا ایک جیتا جاگتا رخ بھی ہے اور وہ ہے اندرون لاہور کی زندگی، وہاں کا رسم و رواج، بازار، گلیاں، کھیل تماشے اور کھانے جسے ہم دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں"

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری




اولڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری کہتے ہیں کہ اس منصوبے کا مقصد ایک جیتی جاگتی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ بنانا ہے۔
’جب کبھی ہم نے اپنی تاریخ کو دکھایا بھی ہے تو اسے یادگاروں عمارتوں اور عجائب گھروں جیسی بے جان چیزوں تک محدود رکھا ہے۔ لیکن ہماری ثقافت کا ایک جیتا جاگتا رخ ایک اور بھی ہے اور وہ ہے اندرون لاہور کی زندگی، وہاں کا رسم و رواج، بازار، گلیاں، کھیل تماشے اور کھانے جسے ہم دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
منصوبے کے پہلے مرحلے پر ساٹھ فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ سو برس میں پہلی بار یہاں گلیوں میں ٹائلیں لگانے اور نئی سیوریج لائنیں بچھانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ بجلی کی تاریں بھی زیرزمین بچھائی جا رہی ہیں۔
توقع ہے کہ منصوبہ اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔


http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130807_lahore_old_city_rk.shtml
 

CanPak2

Minister (2k+ posts)
Well done Punjab Govt... Can other provinces take a cue.. Especially PTI must do same for Peshawar.. whatever has been left of it after afghan refugees and terrorists have done with it.....

It will surely be a gift for the generations to come plus a great source of income for the province from tourists, whenever our country comes to peace..
 

MUmmah1

MPA (400+ posts)
This is a good work, and a good work must be appreciated no matter done by whomsoever. Punjab govt well done for this project.