
نجی خبر رساں چینل سماء نیوز کے مطابق لاہور کے میو اسپتال میں لگنے والی آگ لگی نہیں تھی بلکہ لگائی گئی تھی اور اس آتشزدگی کے واقعہ میں مبینہ طور پر اسپتال کے ملازمین ہی ملوث ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح میواسپتال کے ریکارڈ روم میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں کوئی جانی نقصان یا کسی مریض کو تو پریشانی نہیں ہوئی البتہ اس واقعہ میں اسپتال کا اہم ریکارڈ جل کا خاکستر ہو گیا ہے۔
آگ لگنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پتہ چلا ہے کہ صبح 10 بج کر 32 منٹ پر اسپتال کے 2 ملازمین وارڈ بوائے ذیشان اور ذوالفقار ریکارڈ روم میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر آگ لگا کر باہر نکل آئے۔
اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ریکارڈ روم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جلد ہی کھڑکیوں اور روشندانوں سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھنے لگے۔ اسپتال کی تیسری منزل پر دھواں ہونے کے باعث مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کیا گیا اور افراتفری کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فائربریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر اہم ریکارڈ جل گیا، ادھر ایم ایس میواسپتال کے مطابق مبینہ طور پر آگ لگانے والے دونوں ملازمین کے خلاف کرپشن کی انکوائری چل رہی ہے۔
ایم ایس نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نےدونوں ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تھانے میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ جبکہ تحقیقات پر مبنی ابتدائی رپورٹ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی پیش کردی ہے۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/fire-bg-mayo-hos.jpg