عامر لیاقت کی بیوہ دانیہ ملک نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کیوں دائر کی؟

amiri111.jpg


کراچی: گزشتہ ماہ انتقال کرنے والے رکن قومی اسمبلی و معروف اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ ملک نے عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت اور کیس میں فریق بننے کیلئے وکیل کی خدمات حاصل کر کے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی ومعروف اینکرپرسن عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ ملک نے سندھ ہائیکورٹ میں اپنے شوہر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت اور کیس میں فریق بننے کیلئے درخواست دائر کر دی ہے۔ رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین دانیہ ملک کے ساتھ اختلافات کے بعد 9 جون کو اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

درخواست کی سماعت دو رکنی پینل نے کی جس میں جسٹس کوثر سلطانہ حسین اور جسٹس محمد اقبال کلہوڑو شامل تھے۔ اسی طرح کی درخواست میں بطور فریق شامل ہونے کی درخواست عدالت نے منظور کر لی ہے۔ عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم سے متعلق کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جس میں دانیہ شاہ والدہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

عامر لیاقت حسین کے خاندان کے وکیل ضیا اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ دانیہ شاہ کی وجہ سے عامر لیاقت حسین پریشان تھے، دانیہ شاہ نے ہی معروف اینکر عامر لیاقت حسین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیں۔ عامر لیاقت حسین کے خاندان کے وکیل کے مطابق عامر لیاقت حسین کی لاش پر کوئی نشان نہیں ملا، ان کے بچے والد کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔

دوران سماعت دانیہ شاہ کے وکیل نے عدالت سے عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا۔ وکیل قاضی حمید ایڈووکیٹ نے کہا کہ دانیہ ملک عامر لیاقت حسین کی بیوہ ہیں، ان کی موت کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ پوسٹ مارٹم کون نہیں کرنے دے رہا؟ عامر لیاقت حسین کے خاندان کو کیوں اعتراض ہے؟ یہ خاندان کے جذبات کا معاملہ نہیں قانونی ضرورت ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ بینظیر بھٹو شہید کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کیا گیا تھا جس پر جسٹس کوثر سلطانہ نے ریمارکس دیئے کہ بینظیر بھٹو شہید کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا ليکن ملک کا پوسٹ مارٹم ہو گیا جبکہ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ريمارکس دیئے کہ بینظیر بھٹو شہید کا پوسٹ مارٹم نہ ہونے پر سب کو افسوس ہے، اس پر کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں، پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔


درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پولیس رپورٹ پر ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے عامر لیاقت حسین کی تدفین کی اجازت دی جبکہ کسی اور کی درخواست پر دوسرے مجسٹریٹ نے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سرکاری وکیل کی رائے معلوم کی تو سرکاری وکیل نے کہا کہ پولیس نے عامر لیاقت حسین کی موت کی وجہ نہیں لکھی۔

عدالت نے کہا کہ ہم سب کو سن کر فیصلہ دیں گے، عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہونا چاہیے جبکہ فریقین کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی اور مزید سماعت 28 جولائی تک ملتوی کردی۔