سویڈن کا پولیس اہلکار کو قتل کرکے فرار ہونے والے ملزم کی حوالگی سےانکار

12khurramanisaksjksjksj.png

سوئیڈن کی حکومت نے ایک شہری کو قتل کرنے کے بعد پاکستان سے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم کی حوالگی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 21 نومبر 2022ء کو خرم نثار نامی ملزم نے عبدالرحمان نامی شاہین فورس کے اہلکار کو کسی معاملے پر تلخ کلامی کے بعد قتل کر دیا جس کے بعد وہ پاکستان سے فرار ہو گیا تھا۔ خرم نثار 2 برس قبل پاکستان سے فرار ہوا تھا جس کی حوالگی کے لیے سوئیڈن حکومت سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے ملزم کی حوالگی سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ذریعے سوئیڈن حکومت سے ملزم کی حوالگی کے لیے رابطہ کیا تھا، پولیس نے بتایا ہے کہ خرم نثار کو سویڈن حکومت کی طرف سے حراست میں لے لیا گیا تھا لیکن ان کی طرف سے ملزم کو پاکستان کے حوالے سے کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

سوئیڈن حکام کا موقف ہے کہ ملزم کی پاکستان اور سوئیڈن کے درمیان معاہدے کی رو سے حوالگی کرنا ممکن نہیں ہے، سوئیڈن کی عدالت شواہد کی روشنی میں ملزم کو سزا دینے کا فیصلہ کرے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم کو اس کیس میں سیلف ڈیفنس میں بری کیے جانے کا امکان ہے، پولیس اب خرم نثار کے قتل سے متعلقہ تفتیشی شواہد وزارت خارجہ کے ذریعے سویڈن کے حوالے کرے گی۔

https://twitter.com/x/status/1595311627968069633
دوسری طرف وزارت خارجہ کی طرف سے سوئیڈن حکومت کی طرف سے ملزم کی حوالگی کے انکار سے سندھ ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہین فورس کے اہلکار عبدالرحمن کو 21 نومبر 2022ء کو ڈیفنس فیز 5 میں خرم نثار نے تلخ کلامی ہونے پر مشتعل ہو کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ بعدازاں کراچی پولیس کے ایف آئی اے کے ذریعے سوئیڈن حکومت سے رابطہ کرنے پر ملزم کو حراست میں لیا گیا تھا۔