سول ہسپتال کراچی، کینسر کے علاج کی کروڑوں روپے کی ادویات چوری

10civilalahospiatalllksks.png

کراچی کے سول ہسپتال سے کینسر کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی 76 ہزار گولیاں چوری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس پر 2 ہسپتال ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے سول ہسپتال سے کینسر کے علاج میں استعمال کی جانے والی 76 ہزار گولیاں چوری کر لی گئیںجن کی مالیت 36 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ ادویات چوری کرنے میں سول ہسپتال کے 2 ملازم اقبال احمد چنا اور نیاز احمد خاصخیلی سمیت ودیگر عملہ ملوث پایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کے 2ملازمین اقبال احمد چنا اور نیاز احمد خاصخیلی کے خلاف مقدمہ تھانہ عیدگاہ میں سول ہسپتال کراچی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سید محمد خالد بخاری کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ کے متن کے مطابق ہسپتال سے کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دوائیں چوری کرکے غیرقانونی طریقے سے مارکیٹ میں فروخت کر دیا جن کی قیمت 36 کروڑ روپے ہے۔

سول ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے مقدمہ نمبر 24/160گزشتہ روز درج کروایا گیا تھا، سید محمد خالد بخاری نے پولیس کو بتایا کے دونوں ملازمین نے ہسپتال عملہ کے ساتھ ملی بھگت کر کے دوائیاں چوری کر کے فروخت کر دیں۔ کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ایلبونکس( 50MG) اور (125MG) کی 76 ہزار گولیاں چوری ہوئیں جن کی قیمت 36 کروڑ روپے بنتی ہے۔
محکمہ صحت کی طرف سے 14 جون 2024ء کو دونوں ملازموں کے خلاف تحقیقات بھی کی گئیں اور ایم ایس سول ہسپتال کو خط میں لکھا گیا ہے کہ 16ویں گریڈ کے نیازی احمد خاص خیلی (ڈسپنسر اور کنٹرول روم ایوننگ شفٹ کے انچارج) اور 16 ویں گریڈ کے سٹاف نرس اقبال چنا دوائوں کی چوری میں ملوث ہیں۔

محکمہ صحت کی طرف سے لکھے گئے خط میں ان ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ ادارے کی طرف سے 14 جون 2024ء کو اقبال احمد چنا اور نیاز احمد خاصخیلی کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں، فوری طور پر کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
Raid Bilawal House Karachi and recover them.
وہاں مال نہیں کیش پہنچتا ہے اور بھی مال بکنے کے بعد
اور یا پھر ڈائرکٹ غیرملکی اکاؤنٹ میں پہنچتا ہے
اس لئے کوئی فائدہ نہیں ریڈ کا ریڈ کرنے والوں کو انکا حصہ جرنیلی سڑک سے پہنچتا ہے
چھہتر سال سے جرنیلی سڑک یعنی جی ٹی روڈ ہے اس چوری اور لوٹ مار میں ایک سیف روٹ کے طور پر استعمال ہورہی ہے اور جرنیلی سڑک پر ٹول ٹیکس وصول کرکے بیرئیر کھول دیا جاتا ہے