سندھ حکومت کتنے ہزار ارب روپے کی مقروض ہے؟ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں

11sindhqrakjskjsj.png

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 2024-25ء کیلئے 3 ہزار 56 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے اور انکشاف سامنے آیا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں سندھ حکومت پر ملکی وغیرملکی قرضوں کا حجم 13 سو 41 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال 2023-24ء میں سندھ حکومت پر ملکی وغیرملکی قرضوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا جس سے مجموعی قرضوں کی مالیت 1 ہزار 57 ارب روپے سے بڑھ کر 1 ہزار 341 ارب تک پہنچ چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی وغیرملکی قرضوں میں گزشتہ مالی سال 2023-24ء کے دوران 325 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سندھ حکومت نے 41.65 ارب روپے کے قرضوں کی ادائیگی کی گئی۔ رواں مالی سال 2024-25ء کی بجٹ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ جاپان اور مختلف غیرملکی ڈونرز ایجنسیوں سے لیے گئے قرضوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران 325 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کی طرف سے 40 ارب روپے کے واجب الادا غیرملکی قرضوں کی ادائیگی بھی کی گئی، گزشتہ مالی سال کے اختتام تک غیرملکی قرضوں کا مجموعی حجم 1328.9 ارب روپے پر پہنچ چکا تھا۔ سندھ حکومت نے اس مدت کے دوران مقامی قرض نہیں لیے تاہم 1 ارب 48 کروڑ روپے مقامی قرض کی مد میں ادا کیے۔

دستاویزات سے پتہ چلا کہ 1 ارب 48 کروڑ روپے مقامی قرض کی مد میں ادائیگی کے بعد مقامی قرضوں کے حجم میں کمی ہوئی اور وہ 13 ارب 73 کروڑ سے کم ہو کر 12 ارب روپے 24 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا قرض لے گی جبکہ اس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت 131 ارب روپے کا قرضہ لے گی۔
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستانیوں کی تو عادت ہی بن گئی ہے ہر وقت مایوسی پھیلانے کی یہ تو دیکھو کہ اگر ہزاروں ارب روپیہ قرض لیا ہے تو باہر کے ملکوں میں اس قرض سے اپنے بینک اکاؤنٹ بھی تو بھرے ہیں کیا دبئی میں جائیدادیں مفت بن جاتی ہیں نہیں نا اس قرض سے ہی جائیدادیں بنتی ہیں پاکستانیوں کو تو بجائے بھوک کے فخر سے مر جانا چاہئیے کہ ان کے لیڈروں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں بینک اکاؤنٹ ہیں کاروبار ہیں بچے ہیں پاکستانیوں سیاستدانوں جرنیلوں سے حسد نہ کرو بلکہ ان کے کارنامے خو ش ہو ہو کر سنایا کرو