سرفراز احمد پر کالج کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام،حقیقت سامنے آ گئی

10%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B2%D9%82%D8%A8%D8%B6%DB%81.jpg

کالج کی پرنسپل کی جانب سے قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد پر زمین پر قبضہ کرنے کا الزام، حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق کالج کی خاتون پرنسپل نے سابق کپتان سرفراز احمد پر کالج کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا ، پرنسپل کا کہنا تھا کہ انہوں نے کالج کی زمین پر قبضہ کرکے اکیڈمی بنا لی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی اور ترجمان پیپلزپارٹی مرتضیٰ وہاب نے خاتون کے الزامات مسترد کرتے ہوئےمعاملے کی حقیقت کھول کر عوام کے سامنے رکھ دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ خاتون کو سرفراز احمد پر ایسا الزام عائد کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی چاہیئے کہ کسی بھی معاملے کی خبر تحقیقات کرنے کے بعد شائع کرے۔


مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سرفراز احمد نے کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کیا، 2017میں چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد اس وقت کے میئر کراچی وسیم اختر کی جانب سے سرفراز احمد کو یہ زمین کرکٹ اکیڈمی بنانےکے لیے دی گئی تھی۔


ترجمان پیپلزپارٹی مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ کرکٹ اکیڈمی کی زمین کے ایم سی کی ملکیت ہے ، اس کے دو دروازے ہیں جس میں سے ایک دروازہ کالج کی طرف ہے جہاں سے ٹریفک کے باعث میدان خراب ہونے کا خدشہ تھا، جس کے بعد میدان کی انتظامیہ کی جانب سے وہ دروازہ بند کردیا گیا۔


واضح رہے کہ خاتون پرنسپل کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا،یہ زمین کالج کی ہے جس پر کرکٹر سرفراز احمد نے قبضہ کیا ہوا ہے، آج کالج کے بچے کھیلنے آئے ہیں تو گراوَنڈ میں تالے لگا دیئے گئے ہیں اور ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔


خِاتون پرنسپل نے مزید کہا کہ ان کو دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں، انہوں نے حکام سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کریں اور اس کا حل نکالیں۔
 
Sponsored Link