دکھ

Veila Mast

Senator (1k+ posts)
لمحے لمحے کی سیاست پر نظر رکھتے ہیں
ہم سے دیوانے بھی دنیا کی خبر رکھتے ہیں
اتنے نادان بھی نہیں کہ بھٹک کر رہ جائیں
کوئی منزل نہ سہی، راہ گزر رکھتے ہیں
مار ہی ڈالے جو بے موت، یہ دنیا وہ ہے
ہم جو زندہ ہیں تو جینے کا ہنر رکھتے ہیں
اس قدر ہم سے تغافل بھی نہ برتو صاحب
ہم بھی اپنی دعاوؑں میں اثر رکھتے ہیں

دکھ اس بات کا نہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں حالیہ لوک سبھا کے انتخابات میں تین ہزار چار سو چھپن کڑوڑ کی مالیت کی قیمتی دھاتیں، شراب، نشہ آور ادویات، نقدی وغیرہ بحق سرکار ضبط ہوئیں جو یار لوگوں کے بقول ووٹروں کی دل جوئی کے لیے صرف کی جانی تھی، اس کا بھی دکھ نہیں بھاجپا کے دور اقتدار میں بغیر بحث و تمحیص کے وہ بل پاس ہوا جس کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کی کارپوریٹ فنڈنگ حاصل کرنے پر کوئی پوچھ گچھ نہ ہونی تھی، دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ بھارت کے سب سے بڑے ایلیکٹورل ٹرسٹ نے سب سے زیادہ خیرات بھاجپا کو دی، دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ انتخابات سے قبل پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کی ہلاکت کا بدلہ پاکستان سے لینے کی کوشش کی گئی جبکہ پلوامہ سے دو سال قبل سقمہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر چپ سادھ لی گئی تھی، چونکہ وہ حملہ سرخوں نے کیا اس لیے دیش بھگتی کا جھوٹا پرچار وہاں نہیں ہو سکتا جو پلوامہ میں ہوا، دکھ اس بات کا بھی نہیں نریندر مودی پلوامہ کی فوجیوں کی ہلاکت کی دہائیاں دے دے کر لوگوں سے ووٹ بٹور رہے تھے جبکہ ایسا کرنا آئین کے
تحت منع تھا

یوگی ادیتا نات تو تھے ہی جو اپنے بھاشنوں میں علی یا بجرنگ بلی کا ڈھول پیٹتے لوگوں کو تقسیم کر رہے تھے، تم ایک مارو ہم سو ماریں گے کی دھمکیاں دے رہے تھے، طرفہ تماشا تو یہ ہوا میلا گاوؑں بلاسٹ کی ملزمہ پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دی گئی جس نے ہیمنت کرکرے کی
ہلاکت کو اپنی بد دعا کہا، کرکرے کا قصور اتنا تھا کہ اے بی وی پی کے کاری کرتا جو بلاسٹ کے اصل مجرم تھے انہیں پکڑنے کی ہلاکت کر بیٹھے، مزید برآں پرگیا ٹھاکر نے بابری مسجد کی شہادت میں اپنے مکروہ کردار کا بھی پرچار کیا، گوڈسے جو راشٹریہ سیوک سنگ کا ایک رکن تھا جس نے موہن داس کرم چند گاندھی کو مارا، پرگیا اسے محب وطن بتانے پر مصر رہیں

نریندر مودی نے اپنے بھاشنوں میں ہر شعبہ زندگی کا مزاق اڑایا، کبھی تاریخ کا مزاق کہ سکندر اعظم بھارت میں ہارے، کبھی سائنس کا مزاق کہ پہلی پلاسٹک سرجری بھارت میں ہنومان کی ہوئی یا پھر حالیہ بادلوں کی آڑ میں لڑاکا طیاروں کا ریڈار سے چھپ جانا، گنگا جمنا تہذیب کا مزاق کہ گجرات کے دنگوں میں مسلمانوں کا مرنا ایسے جیسا کسی کتے کا گاڑی کے پہیے تلے آ جانا، پڑھے لکھے لوگوں کا مزاق کہ پکوڑے بیچ کر روزگار کمائیں، کبھی دو کڑوڑ نوکریوں کے جھانسے، کبھی ہر شہری کو پندرہ لاکھ دینے کے جھانسے، اخلاقیات کا مزاق کہ لوگوں کو گالیاں دینے والوں کو ٹوئیٹر پر فالو کرنا، پھر ان کے دور اقتدار میں انصاف کا قتل کہ خود جج صاحبان جمہوریت کے خلاف حکومتی سازشوں کی دہائی دینے پریس کانفرنس کرنے کو آئے، گوری لنکیش جیسی صحافیوں کا قتل اور یوں بھارت کبھی صحافیوں کی جان و مال کے عدم تحفظ کرنے پر فریڈم آف ایکسپریشن کے پائیدانوں سے گرا تو کبھی ورلڈ ہیپی نس انڈیکس میں پاکستان سے بھی پیچھے رہ گیا

ان باتوں کا دکھ اس لیے نہیں کہ شرق و غرب یہی تو جمہوریت کا حسن ہے، ہاں جس کا دکھ ہوا وہ تو متعصب مورخ ہیں جنہوں نے کبھی محممود غزنوی تو کبھی اورنگزیب کو مندر گرانے کے گھناوؑنے اپرادھ کا دوشی مانا جبکہ ان کے تازہ بھگوان نریندر مودی نے وارانسی میں
نجانے کتنے مندروں کو ڈھایا، اس پر نہ ہی گودی میڈیا چیخا اور نہ ہی مذہب کے ٹھیکیداروں نے دہائی دی، ان مورخوں نے بھارت کو لوٹنے کا الزام مسلمانوں کو دیا جبکہ جو کوہ نور لے فرار ہوئے، جلیانوالہ باغ میں یا بنگال کے کارکنوں کے انگوٹھے کٹوائے یا قحط میں ناقص انتظام ہونے کی بنا پر لاکھوں بھارتیوں کے مر جانے کا سبب بنے ان کااس شد و مد سے ورودھ نہ ہوا جو مسلمانوں کا ہوا

محمود غزنوی و اورنگزیب تو قصہ پارینہ ہوئے، اشد دکھ تو اس بات پر رہا کہ بھگتوں کو علی گڑھ یونیورسٹی میں قیام پاکستان سے بھی قبل محمد علی جناح کی آویزاں تصویر بھی ہضم نہ ہوئی اور اس کے ہٹانے کے درپے ہوئے، محمد علی جناح کا قصور اتنا تھا کہ وہ دو قومی نظریے کے حامی تھے جبکہ بھگتوں کے اپنے ہیرو ساورکر جسکا مجمسہ بھاجپا کے پہلے دور حکومت میں اٹل بہاری واجپائی نے پارلیمنٹ میں عین گاندھی کے مجسمے کے سامنے لگوایا، وہ بھی اسی نظریے کے تبلیغ کرتے رہے، محمد علی جناح سے اتنا تعصب کہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے پر انہیں کرسی کا لالچی گردانا گیا جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ اگر ابوالکلام کانگریس کا مکھیا ہو سکتا تھا تو ایک کرسی انہیں بھی مل سکتی تھی، مگر وہ اس سے دور رہے، ان کی بگڑتی صحت کو صیغہ راز رکھا گیا کہ کہیں مخالفوں کو اس کا علم ہونے پر ہندوستان کی تقسیم کٹھائی میں نہ پڑ جائے، ایسے شخص کرسی کا لالچی کہنا کہ جس کی بگڑتی صحت اس بات کی اجازت نہ دے کہ وہ کرسی پر لمبے عرصہ براجمان ہو سکے نرے تعصب کے سوا کیا ہو سکتا ہے

چاہ گئی، موہ گئی، من بے پرواہ
جسے کچھ نہیں چاہیے وہی شہنشاہ

اگرچہ بھگتوں کے لیے اس بات کا جانچنا انتہائی آسان تھا کہ محمد علی جناح سیکولر تھے یا مذہبی کیونکہ سپرنیم سوامی ان میں موجود ہیں، جنہوں نے پارسی سے شادی رچائی، اپنی ایک بیٹی مسلمان سے بیاہی، رام مندر و کاشی ناتھ جیسے مندروں کے سنچالک اور موجودہ انتخابات میں مذہبی کارڈ کے استعمال کے مشیر، اب ایسے کو بھگت کیا کہیں گے سیکولر یا مذہبی؟

نریندر مودی کے پردھان منتری بننے میں جہاں غیروں کا خون شامل رہا وہیں اپنوں کا بھی شامل رہا، چاہے وہ گجرات کے ہیرن پانڈیا ہوں جو گجرات کے دنگوں میں داخلہ امور کو دیکھ رہے تھے یا پھر لال کرشن ایڈوانی جو اپنے تئیں سٹیٹ مین شپ کا مظاہرہ کرتے کراچی آئے اور محمد علی جناح کی مزار پر حاضری دی، بھگتوں نے ایڈوانی کے اس کالے کرتوت پر انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا

تاریخ شاید اپنے آپ کو دہراتی ہے، شب قدر کو پاکستان آزاد ہوا اور آج شاید شب قدر ہو، علما کےایک گروہ کے نزدیک اگر طاق راتوں میں سے کوئی رات جمعرات کو آئے تو ظن غالب یہی ہوتا ہے کہ وہی شب قدر ہو، اسی رات نریندر مودی دوسری مرتبہ پردھان منتری کے پد پر فائز ہو رہے ہیں، حالات وہی ہیں جو 1935 کے بعد والی بننے والی اسمبلی کے بعد ہوئے، سات عشروں بعد پھر تاریخ نے ثابت کر دیا محمد علی جناح کی وچار دھارا ہی امر ہے ، دعا ہے اللہ ان کی قبر انور پر کڑوڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ملک خداداد کو
قائم و دائم رکھے

آمین بجاہ نبی الامین
 
Last edited by a moderator: