خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں خواتین کے ملوث ہونے کا انکشاف

10kpk[olikwhd.png

2 خواتین اداروں کو دہشت گردی واقعات میں ملوث ہونے کے مقدمات میں مطلوب ہیں : رپورٹ

صوبہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں خواتین کے ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی کی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ سال 2014ء سے لے کر رواں برس 30 نومبر 2023ء تک 51 خواتین دہشت گردی اور سہولت کاری میں براہ راست ملوث پائی گئیں۔ محکمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان خواتین کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق پچھلے 9 سالوں کے دوران دہشت گردی کے، بھتہ خوری اور شدت پسندوں کو مالی معاونت دینے میں براہ راست 51 خواتین ملوث تھیں جن میں سے 30 خواتین دہشت گردی واقعات، 13 اغوا برائے تاوان اور 3 خواتین ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں براہ راست ملوث پائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق بھتہ خوری کے واقعات میں 2 خواتین کے علاوہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے میں 3 خواتین ملوث رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 2 خواتین اغوا، بھتہ خوری اور 2 خواتین دہشت گردی واقعات میں ملوث ہونے کے مقدمات میں مطلوب ہیں جن کو گرفتار کرنے کے لیے متعلقہ ادارے کوششیں کر رہے ہیں۔

ڈی آئی جی انسداد دہشت گردی فورس عمران شاہد کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں چادر اور چاردیواری کے تقدس کے باعث خواتین ملزموں کو گرفتار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین میں اداروں کے نہ ہونے کے باعث میں معلومات نہیں مل پاتیں۔