
سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کی حمایت بڑھ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق انوار الحق کاکڑ نے آج نیوز کے پروگرام"نیوز انسائٹ ود عامرضیاء" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ صوبے میں دہشتگروں کے حملے اتنے منظم کیسے تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ حیران ہیں کہ دہشت گردوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا، اس وجہ سے صوبے کے عوام میں دہشتگردوں کی حمایت بھی بڑھ گئی ہے، یہ نکات قابل تشویش ہیں۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ 2022 کے دوران نیٹو اپنا بہت سا سامان یہاں چھوڑ کر خطے سے نکل گیا، اس سامان میں شامل چھوٹے ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ خطے میں پھیل گئی، یہ سامان پاکستان سے لر کر شرق قشط تک غیر ریاستی عناصر کے ہتھے چڑھ گیا اور آج دہشت گرد اسی سامان کی بنیاد پر مختلف ریاستوں کو چیلنج کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھوڑی سی دھاندلی ہو تو قابل قبول ہے، لوگوں کو دھاندلی سے نہیں بلکہ دھاندلی کی شدت سے مسئلہ ہے، دھرنا سیاست یا دھرنا کلچر کا آغاز 2013 کے انتخابات کے خلاف ہوا، یہ کلچر کسی معاشی مسئلے یا دہشت گردی کے خلاف سامنے نہیں آیا۔
سابق نگراں وزیراعظم کا کہناتھا کہ عمران خان کی ٹیم سے کچھ توقعات تھیں جو پوری نہیں ہوسکیں، عمران خان نے بھی اپنے دور میں مسائل کو حل کرنے کے بجائے دکھاوے اور ذہن سازی پر زیادہ کام کیا، موجودہ حکومت کیلئے بھی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہے، پیرومرشد کی حیثیت پی ٹی آئی کو نہیں دے رہا اور یہ حیثیت پی ڈی ایم کو بھی نہیں دے سکتا۔
https://twitter.com/x/status/1829064432422445111
https://twitter.com/x/status/1828796220082724905
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/anwar-kakar121.jpg
Last edited by a moderator: