انورمقصود انتہائی مایوس،عجیب وغریب دعادیدی،اوریا مقبول جان

ranaji

President (40k+ posts)
ایسی ہی حرام زدگی نطفہ حرامی غداری کچھ زانیوں شرابیوں حرامیوں غداروں کنجروں مثلیوں میراثیوں چوڑوں نے مشرقی پاکستان میں بھئ کی تھی بنگالی عوام کو انکا مینڈیٹ نا دے کر بلکہ انکی عورتوں انکی بچیوں کا ریپ کیا انکی توہین کی انکے نہتے مردوں عورتوں بچوں کا قتل عام کیا پھر اللہ نے ان مظلوم بنگالیوں پر کئے گہے ظلم زیادتی نا انصافی کا بدلہ دنیا میں ہی لے لیا اور ان ہی کے سامنے انکو زلیل کیا ان کے جنگی جرائم کے بدلے انکی پتلونیں اتار کر ننگا کرکے ان کو کتے طرح مار مارکر ننگا کیا انکے ہتھیار پھکوالئے اور انکو عبرتناک شرمناک زلت ناک شکست ہوئی انکی کاغذی بہادری جو صرف اپنی نہتی عوام کے سامنے انکے پچھواڑے سے نکل کر سامنے آتی ہے اور یہ جانوروں کی طرح بے غئرت اور ہیجڑوں کی طرح صرف اپنی عوام پر شیلنگ کرتے ہیں انکے گھروں میں گھستے ہیں عورتوں بچیوں کو گرفتار کرتے ہیں جنگی جرائم کرتے ہیں اور بڑے پھنے خان نظر آنی کی کوشش کرتے ہیں وہ بنھی اس لئے کہ مقابلے میں نہتی عورتیں بچے اور بے ضرر عوام ہوتے ہیں لیکن جہاں انکے ہم پلہ دشمن کی فوج ہو ہتھیار بند ہو وہی بہادری جو اپنی نہتی عوام کے سامنے نظر آتی ہے وہ بہادری دشمن کے سامنے انکے پچھواڑے میں گھس جاتی دشمن کے سامنے یہ ہیجڑے زنخے کھسرے اور گیدڑ بن جاتے ہیں کان لپیٹ کر دم دبا کر بے ضرر پلے بن جاتے ہیں اور ہتھیار پھینک کر پتلون اتار کر ننگے ہوکر چیاؤں چیاؤں کرتے ہوئے ملک توڑ دیتے ہیں یہ سب حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے اس میں کوئی بھی بات جھوٹ نہیں تاریخئ سچ ہے
انکے اپنے لگائے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ یہ آج تک کوئی جنگ نہیں جیتے اور تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ یہ ہر جنگ میں زلت ناک شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور انکے اسی وزیر دفاع نے بتایا کہ یہ انڈیا سے ہر جنگ میں زلت ناک عبرتناک ، شرمناک شکست کے باوجود ہر سال اس غریب عوام کا اربوں ڈالر سینہ چوڑا کرکے بے غیرتوں کی طرح کلیم کرتے ہیں اور کھا جاتے ہیں وہ پیسہ جو غریب عوام پر خرچ ہونا چاہے جو صحت پر ہسپتالوں پر سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں پر تعلیم میں خرچ ہونا چاہے وہ پیسہ جو صاف پانی بجلی گیس پر عوام کے لئے خرچ ہونا چاہے وہ پیسہ بلینز آف ڈالر ہر سال کھا جاتے ہیں ہر جنگ میں زلت ناک طریقے سے ہارنے کے لئے پھر انکے ہی اپنے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی بتایا کہ کہ انڈیا کے حملے کے ڈر سے انکے آرمی چیف کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور آواز لرزتی ہے پتلون آگے سے گیلی پیچھے سے پیلی ہوجاتی ہے وہی بزدل ہیجڑا کھرب پتئ بن کر اس قوم کو لوٹ کر نطفہ حرام کی طرح بھاگ جاتا ہے اس قوم سے لوٹا ہوا اپنا سارا پیسہ اربوں ڈالر باہر لے جانے کے بعد دم دبا کر غائب ہوجاتا ہے اور پھر وہی ملک توڑنے کے بعد مشرقی پاکستان سے کتوں کی طرح مار کھانے بعد بھی انکو عقل نہیں آتی وہی حربے پھر بلوچستان اور پھر کے پی کے اور پھر پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ کے بھی بعض علاقوں میں وہی نطفہ حرامئ غداری شروع ہوجاتی ہے جو بنگال میں ہوئی یہ قوم اب اپنا اصل مجرم جان چکی ہے باجوے اور اس کی باقیات کے شرمناک ملک دشمن غداری والی حرکتوں سے اب مِلک بچانے اور انکو انکی اوقات کھا کر انکی اصل ڈیوٹی سرحدوں کی حفاظت پر بھیجنے کی ضرورت ہے