اسمبلی اجلاس کے دوران گورنر راج بھی نہیں لگایا جاسکتا، وزیراعلی پنجاب

9parvezelahiassmeblyijlaass.jpg

وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ اس وقت پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے لہذا ایسے وقت میں وفاقی حکومت صوبے میں گورنر راج بھی نافذ نہیں کرسکتی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے لاہور میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی، وفد میں ایسوسی ایشن کے صدر میر شکیل الرحمان، جنرل سیکرٹری میاں عامر محمود سمیت مختلف چینل مالکان نے شامل تھے۔


اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ اپوزیشن پنجاب اسمبلی میں اقلیت میں ہے اور وہ اقلیت میں ہی رہے گی، عدم اعتماد لانا ان کے بس کی بات نہیں ہے،اپوزیشن والے صرف نعرے بازی کرسکتے ہیں، جسے عدم اعتما د لانے کا شوق ہے وہ یہ شوق پورا کرلے، ان سیشن اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہوسکتی اور نا ہی اس دوران گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔


انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو صرف مانگنا آتا ہے اور وہ یہ کام اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں، بھکاری ایک در پر بار بار بھیک مانگے تو گھر والے دروازے بند کرلیتے ہیں، وفاقی حکومت نے معیشت کا برا حال کردیا ہے ، عوام اب پی ڈی ایم کی حکومت کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دےرہے ہیں، شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک پائی بھی نہیں دی ، ہم نے اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی آبادکاری اور بحالی کا کام کیا ہے۔


چوہدری پرویزالہیٰ نے کہا کہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، جب بھی عمران خان کہیں گے پنجاب اسمبلی تحلیل کردیں گے، ہم اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں ، ہمیں اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، ہمارے پاس 191 اراکین کی حمایت موجود ہے۔
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
اور ن-لیک کے 18 ممبران پہ اسمبلی کے 15 سیشنز کی پابندی ہے ۔ جبکہ ابھی پہلا سیشن پچھلے 4 مہینوں سے چلا رہا ہے اور ختم نہیں ہوا۔ تو اعتماد کی تحریک کے لیے ن-لیک کے 18 ممبران مزید کم ہیں۔
 
Sponsored Link