ہمارے کچھ ردِ عمل

chacha jani

Minister (2k+ posts)
کسی ترکھان کی بند دکان میں کہیں سے ایک سانپ گهس آیا. یہاں اُسکی من پسند کوئی چیز نہیں تهی، وہ رینگتا جا رہا تھا کہ اچانک اس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا گیا اور وہ معمولی سا زخمی ہو گیا۔ گهبراہٹ میں سانپ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا، سانپ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔

اگلی بار سانپ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی کوشش میں پورا زور لگا دیا، جانتے ہو پھر کیا ہوا۔۔۔؟

دوسرے دن جب ترکھان نے دکان کهولی تو وہاں ایک سانپ کو آری کے گرد لپٹے ہوئے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں صرف اپنی طیش، غصے اور جھوٹی انا کی بهینٹ چڑھ گیا تها۔

میرے عزیز دوستو! بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنا زیادہ نقصان کر لیا ہے۔ لہٰذا عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ دوسروں کی کڑوی کٹی باتوں اور ناپسندیدہ رویوں کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ویسا ہی ردِ عمل دکهائیں۔ یقین کیجئے ہمارے کچھ ردِ عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے، بلکہ ہو سکتا ہے ہماری جان بهی لے لیں، یہ مثال آپکے سامنے ہے۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں