کیا عورت کا چہرہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے؟

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
کیا پردہ صرف دل کا ہوتا ہے؟
جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے،

اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی و ہدایت کے لیے قرآن پاک کو نازل فرمایا اور انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ منصب پر فائز فرما کر انسانیت کو معراج بخشی اور مرد وعورت کو مختلف رشتوں کے ذریعے ایک دوسرے کا ہمدرد بنایا، مرد کو عورت پر قوت عطا فرمائی جیسا کہ اس کا فرمان ہے۔

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجمۂ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (پارہ5، نساء، آیت34)

صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں: عورتوں کو شوہر کی اطاعت لازم ہے۔ مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رعایا کی طرح حکمرانی کریں اور ان کے مصالح اور تدابیر اور تادیب و حفاظت کی سر انجام دہی کریں۔(تفسیر خزائن العرفان، پارہ5، نساء، آیت34، ص164)

مرد کو باہر جاکر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جبکہ عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کی ذمہ داری عنایت کی گئی ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب مرد باہر کی ہوا کھاتے ہیں تو ان کو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے۔ گھر کے کام کاج اور اپنے بال بچوں کی دیکھ بھال کر کے وہ ایسی خوش رہتی ہے جیسے چمن میں بلبل۔ گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں، بلکہ عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔ جیسے بکری اسی لیے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر، چیتا اور محافظ کتا اس لیے ہے کہ ان کو آزاد پھرایا جائے، اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اس کو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۰۴)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے مختلف احکامات بیان فرمائے ہیں، انہی احکامات میں سے ایک حکم پردے کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پردہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے تاکہ معاشرے سے بدنگاہی، بدکاری ختم کی جاسکے اور انسان کو اس بات کا پابند بنایا جاسکے کہ اللہ پاک کی حرام کردہ اشیا کو دیکھنا ممنوع ہے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (پارہ18، سورۃ نور،آیت30)

اسی طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ارشاد فرماتا ہے: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاجزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہوتو ستائی جائیں۔ (پارہ 22، احزاب،آیت59)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر ستر بہکتا ہے۔ (انوار رضا، ص۳۹۱)

کن اعضا کا پردہ ضروری ہے:

پردہ کا معنی: ڈھانپنا، چھپانا ہے۔ مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت چھپانا لازمی ہے، جس میں ناف شامل نہیں، عورت کو دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں کے تلوؤں،پاؤں اور ہاتھوں کی پشت اور منہ کی ٹکلی کے علاوہ سارا جسم چھپانا ضروری ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، ج۱، ص۶۵)

حکم شرعی:

آج کل یہ بات سماعت کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملے میں قرآن پاک کی اس واضح آیت کے انکار کا پہلو موجود ہے، جس میں ظاہری جسم کو چھپانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے پارہ22، سورۃ احزاب، آیت33 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

بے حیائی کے حیا سوز سمندر کی موجیں ٹھاٹیں مارتی ہوئی بے لگام ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو خوب سجا سنوار کر کار کی فرنٹ سیٹ پر اور بائیک پر پیچھے بٹھاکر سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما تے ہیں: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کا نافرمان اوردیوث اور مردانی وضع کی عورت۔(المستدرک للحاکم، ج۱، ص۷۲)

حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ در مختار میں دیوث کی تعریف یوں کرتے ہیں : دیُّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی محرم پر غیرت نہ کھائے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۱۳)

اگرشوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے: وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔(پارہ6، مائدہ، آیت79)۔ (فتاوٰی رضویہ)

دور حاضر میں بے پردگی کے اسباب

دور حاضر میں بے پردگی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں فلمیں، ڈرامے بھی ہیں کیونکہ ان میں پردہ کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا اور شرعی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلمیں ڈرامے دیکھنا حرام ہے۔ بنت حوا کے سر سے چادر اتروانے میں بہت بڑا کردار موبائل اور انٹرنیٹ کا بھی ہے۔ رہی سہی کسر کیبل اور سستے کال اور ایس ایم ایس پیکجز نے پوری کردی۔ سیر و تفریح کے نام پر پارکس اور مخلوط تعلیمی نظام نے بھی پردے کی پاکیزگی کو سراسر روند کر رکھ دیا ہے۔ پہلے بھی عشق و محبت کیا جاتا تھا لیکن چھپ کر مگر اب تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا ناپاک رشتہ قائم کرکے پارکس اور یونیورسٹی میں کھلم کھلا حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے اور یہ بے تکلف دوستی اس خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نہ ہونے کا ہو جاتا ہے۔ پھر والدین کو شادی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، اگر والدین راضی نہ ہوں تو گھر سے بھاگ کر شادی کی جاتی ہے۔ ان تمام کی وجوہات کو اگر ایک لفظ میں تحریر کیا جائے تو اسے بے پردگی کا نام دیا جائے گا۔

میرا جسم میری مرضی:

کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر یہ عنوان زیر بحث رہا مگر ایسا ہرگز نہیں ہمارا جسم ہماری مرضی نہیں کیونکہ ہمارا خالق و مالک اللہ پاک ہے۔ اس نے ہمیں صرف اور صرف عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور ہمیں دین اسلام کی نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس طرح ہر مذہب، ہر تنظیم اور ہر ادارے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح اسلام بھی اپنے ماننے والوں سے اللہ پاک اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اسلام نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے، ہمارا جسم، ہماری روح، ہمارے اعضا کا ایک ایک ذرہ اُسی کی تابع ہے، لہذا ہمیں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرتے ہوئے پردہ کو اپنانا چاہئے کیونکہ جو کار کپڑے سے ڈھکی ہوئی ہو، مٹی سے محفوظ رہتی ہے، اپنی آنکھوں کو جھکا کر رکھیں، اس طرح ہم بدنگاہی سے بچنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے!

بعض لوگوں کا کہنا ہے: دنیا بہت آگے نکل چکی ہے، پردے کے معا ملے میں اتنی زیادہ سختی نہیں کرنی چاہئے تو ان کی خدمتوں میں عرض ہے کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جو مسلمان پر اس کی طاقت سے زائد ہو۔ جیسا کہ پارہ3، سورۃ البقرہ، آیت286 میں ارشادِ خُداوَندی ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

موجودہ دور کی بے پردگی کو دیکھیں تو اکبر الہ آبادی کی روح تڑپ کر کہتی ہے:

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑگیا

پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ! وہ کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا

گھر کے سربراہ کو چاہئے کہ اپنے گھر کی خواتین کو پردہ کروائے اور اپنے گھر والوں کی کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے۔ پارہ28، سورۃ التحریم کی چھٹی آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: تم سب اپنے متعلقین کے سردار و حاکم ہو اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مجمع الزوائد، ص۳۷۴)

یاد رکھئے! شوہر اپنی بیوی کا، باپ اپنے بچوں کا اور ہر شخص اپنے ماتحتوں کا ایک طرح سے حاکم ہے اور ہر حاکم سے قیامت کے دن اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پردہ کرنے اور دیگر شرعی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
O bhai Quran key ayat ka ghalath tarjama tu na karo.
Ahdeeth man made hain Islam ka iss say koi talluq nahi.
 

Sher-Kok

MPA (400+ posts)
عورت کے چہرے اور سر کے پردے کا حکم نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔ ہاں اسلامی معاشروں میں اس کا چلن عام رہا ہے، اور اس سے عورت کے وقار میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
ایسے چھچھلتے ہوئے سوالات کا مقصد سوائے چھچھورپن، رذالت، بد تہذیبی اور کمینگی کے کچھ بھی نہیں۔
 

Diabetes

Councller (250+ posts)
تو آپ کے کمنٹ سے ثابت ہوا کہ پردے کا کوئی لینا دینا نہیں اس مسئلے سے۔
پچھلا کمنٹ پڑھیں جہاں آپ پردے کو ہی کوس رہے ہیں کہ اس کے ہونے کی وجہ سے لوگ اتنے دیوانے ہوئے جا رہے ہیں کہ لاشوں کے ساتھ بے حرمتی کرتے ہیں۔

محترم، باتوں میں نہ گھمائیں۔ اصل بات پر آئیں۔
My point of view was that why “Pardah” could not manage “Bahayai” “Fagashi” Badkari etc. Why it failed to stop rapes of little kids. Rapes & killing of little children does not happen in western societies as often as it happens in your parda far society.
 

Diabetes

Councller (250+ posts)
صاحب، اگر یاد داشت کمزور ہو تو یہاں بھی دوبارہ عرض کر دوں کہ مسئلہ کہاں سے کہاں گیا؟

آپکا سوال: اسلام میں پیداور وغیرہ پر ٹیکس ہے یا نہیں یا صرف زکوٰۃ ہے؟

اسکا مدلّل جواب: عشر، خمس، خراج وغیرہ۔

آپکا سوال: اسلام میں قرض سے کاروبار نہیں کیا جاسکتا، اسلام بینکنگ کے حساب سے کیا نظام پیش کرتا ہے؟
اسکا مدلّل جواب: جناب اسلام صرف سود کو منع کرتا ہے۔ باقی پرافٹ اینڈ لاس شئیرنگ کو نہیں۔ ذرا پرافٹ اور لاس شیئرنگ کو پڑھ لیجیئے۔

اس کے بعد۔۔۔۔ آپ غائب


اس میں پانی میں کس نے مدھانی پھیری ہے صاحب؟ اس نے جس نے جوابات دیئے یا اس نے جو بغیر کچھ پڑھے اور جانے اٹھ کر آگیا سوالات کرنے اور جواب ملنے کے بعد بھاگا ۔۔۔۔ کہ جناب آپ تو جذباتی بیان بازی کر رہے ہیں۔

اب پرافٹ اینڈ لاس شئیرنگ کا سسٹم جذباتی سسٹم ہے؟ یا بینکنگ کا سسٹم ہے؟

اگر آپ اسے جذباتی سسٹم کہتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ ڈکشنری نئی لے لیں۔ نہیں تو اگلی مرتبہ کسی کے دینی مسائل پر اعتراضات اٹھانے سے پہلے خود کچھ پڑھ کر آیا کریں۔
From your post, it looks like you don’t know anything about of Finance. First of all Preferred shares are a form of debt and are based on 100% interest. If you don’t know please read any book of finance or google it. Secondly, Banks are not allowed to invest equities due to Asset & Liability management and govt regulations. Since, you might not aware of risk management or risk tolerance levels of banks and individuals, so it is hard to make you understand unless you have a back ground of it.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
Rapes & killing of little children does not happen in western societies as often as it happens in your parda far society.
Please back up your claim with supportive references and statistics. Otherwise, it is just your personal opinion rather than a fact.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
From your post, it looks like you don’t know anything about of Finance. First of all Preferred shares are a form of debt and are based on 100% interest. If you don’t know please read any book of finance or google it. Secondly, Banks are not allowed to invest equities due to Asset & Liability management and govt regulations. Since, you might not aware of risk management or risk tolerance levels of banks and individuals, so it is hard to make you understand unless you have a back ground of it.
Not only that you have quoted the wrong post of mine, you have also taken the wrong point out of my explanation.

The point is not Preferred Stock, it is the Common Stock. Can you explain what it is?

Does it share the risk? Is there any hedging against the funds?

For preferred stock investment (and subsequent liquidations in case of insolvency), I already stated in my post that it is like "killing a goat for a pound of flesh".... did you read that?
 

Diabetes

Councller (250+ posts)
Common stock investments are not suitable for every investor. You should consult the risk tolerance levels of individual customers. Common stocks are not suitable for older and retired individuals who depends upon income from the investments.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں