وزیراعظم اسمبلی توڑنے سے پہلے کونسے کام کرنا چاہتے ہیں؟

Haha

MPA (400+ posts)
اگر آرمی کے کچھ حرام خور جرنیل اپنی حرام خوری کی وجہ سے بار بار اسی امرتسری کرپٹ خاندان کے کانے ہونے کی کسی وجہ سے ان کو بار بار اقتدار دلا کر لانے کی حرامُزدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک مہمُ چلا کر ایئر فورس اور نیوی کے سربراہوں کو بھی ان جرنیلوں کے برابر لانا ہوگا
کیوں ہماری نیوی اور ائیر فورس کے چیف آرمی چیف کے برابر نہیں کیوں انکوآرمئ۔ کے جرنیلوں سے نچلے درجے ہر رکھا جاتا ہے کیوں آرمی چیف ہی کرپٹ نکلتے ہیں ائیر فورس میں اج تک کوئی جنرل ضیا۔ نہیں نکلا جس نے اپنی منافقت اور حکومت قائم رکھنے کو یہ امرتسری کرپٹ کنجر خاندان ہمارے پاکستان پر مسلط کیا کوئی جنرل کیانی نہیں نکلا جس نے اپنے حرام خور کرپٹ بھائیوں کو نواز شریف کے کرپٹ وزیروں سے پارٹنرئ کراکے ان سے عوام کے اربوں روپے کی لوٹ مار کرا کے انکو سپین فرار نہیں کرایا پہلے خود وہاں سفیر لگا اور پھر اپنے نیب زدہ بھائیوں کو فرار کرا دیا اسی جنرل کرپٹ کیانی نے جنرل ضیا کے پاکتو کتے نواز شریف کو تین تہائی اکثریت دلا کر اپنے بھائیوں کی لوٹ مار کے واسطے راہ ہموار کی کیا آج تک کسی۔ ائیر فورس نے ایسا کیا کسی نیوی چیف نے ایسا کیا۔ مہیں
سوائے ایڈ مرل منصور کے نیوی میں بھی کوئی کرپٹ بندہ نہیں گزرا آرمی چیف مشرف نے ہی این آر او دے کر لوٹ مار والوں کو دوبارہ موقعہ دیا آرمی چیف نے ہی ڈان لیکس میں این آر او دیا لیکن اب نہیں کسی کے باپ کا ملک نہیں کہ جو ۔۔۔۔ انُکرپٹ لوگوں کو بار بار این آر او دے کر لوٹ مار کا موقعہ دیتے ہیں اب آرمی چیف ایئر فورس چیف اور نیوی چیف کا عہدہ اور اتھارٹی برابر ہونی چاہئے آرمی جرنیلوں میں کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوے جو ائیر فورس اور نیوی میں نہیں اب اور تماشہ نہیں اب اور کرپشن نہیں اب اور اینُ آر او نہیں تینوں فورسز کے چیف برابر ہیں اور برابر ہونے چاہئیں
این آر او دینے والے جرنیلوں کے باپ کا ملک نہیں ائیر فورس نیوی اور بائیس کروڑ عوام کا بھی ہے اب کوئی حرا م زدگی کوئی این آ ر او نہیں ان کوئی آرمی چیف ائیر فورس چیف اور نیوی چیف سے برتر نہیں سب چیف برابر ہیں
این آر او دینا عوام سے ملک سے غداری ہے
 
Last edited:

Haha

MPA (400+ posts)
سپریم ہیرا منڈی آف پاکستان سپیریم منی لانڈر سپریم حرام خور سپریم فراڈیا سپرام لعنتی فراڈ عیسئ
 

Kavalier

Chief Minister (5k+ posts)
Aaao gay , ahista ahista saray issi tarf aaogay. k mulk k sab maslon ki aik hi root cause hay aur woh hay fouj.. jab tak fouj k khilaf baqaida sab aik nhhongay, fouj ko under PM nahi kiya jayega aur inko jawabdeh nhi banaya jayega, yeah mulk roz-baroz tabahi ki tarf hi jayega... kuch din tak sabko Qazi faiz isa na yad aaya tou kehna, aray zalimo, samajty kiyon nhi, we need people like Fiaz Isa who dare to challenge these generals...
 

Haha

MPA (400+ posts)
قاضی فراڈ عیسی سےبڑا حرامی فراڈیا منی لانڈر لعنتی حرام خور چور نا آج تک آیا نہ آئے گا
 

Haha

MPA (400+ posts)
Real face of Qazi Easa
غدار باپ کا کرپٹ بیٹا
یاد رہے کہ تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔
قیام پاکستان کے کچھ علاقوں میں عوامی ریفرینڈم کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں عوام کی اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کو ترجیح دی۔ بلوچستان میں البتہ گوروں نے یہ اصول اپنانے سے انکار کردیا، کیونکہ انگریز چاہتا تھا کہ بلوچستان آزاد حیثیت میں قائم رہے تاکہ برصغیر سے انخلا کے فوری بعد انگریز اپنی گورننس وہاں منتقل کردے اور پھر وہاں بیٹھ کر بتدریج خطے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرسکے۔ چنانچہ بلوچستان میں عوامی ریفرنڈم کی بجائے وہاں کے شاہی جرگے کے اکثریتی ووٹ کی بنا پر فیصلہ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
یہ نہایت حساس معاملہ تھا، اگر شاہی جرگہ الحاق پاکستان سے انکار کردیتا تو پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن بہت کمزور ہوجاتی۔
شاہی جرگے کے متعلق جان لیں۔ بلوچستان کے کچھ علاقے بشمول کوئٹہ، پشتین تو برطانوی ریاست کے زیرانتظام تھے، لیکن دوسرے علاقے بشمول ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست مکران، ریاست لسبیلہ وغیرہ آزاد ہوا کرتے تھے۔ بلوچستان کے معاملات چلانے کیلئے انگریز نے ان علاقوں کے قبائلی سرداروں پر مشتمل ایک جرگہ بنا رکھا تھا جسے شاہی جرگہ کہا جاتا تھا جس کا صدر ایجنٹ ٹو گورنر جنرل آف برٹش انڈیا ہوتا تھا اور عام طور پر انگریز کا وفادار سمجھا جاتا تھا۔
جب الحاق پاکستان کا معاملہ شاہی جرگہ میں جانے کا فیصلہ ہوا تو کانگریس اور انگریزوں کو اطمینان ہوچکا تھا کہ جرگے کا اکثریتی فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق آئے گا۔ یہ صورتحال چند قبائلی لیڈروں کیلئے قابل قبول نہ تھی کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے۔
اس وقت کاکڑ قبیلے کے سربراہ نواب محمد خان جوگیزئی آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے ہم خیال قبائلی لیڈروں کو ساتھ ملا کر پاکستان کے حق میں مہم شروع کردی۔ دوسری طرف عبدالصمد اچکزئی بباہنگ دہل کانگریس کی حمایت میں سامنے آگئے اور قیام پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے لابنگ شروع کردی۔
نواب جوگیزئی کا ساتھ دینے کیلئے جمالی قبیلے کے میر جعفر خان جمالی آگے آئے اور انہوں نے بھی پاکستان کے حق میں کیمپین شروع کردی۔
دوسری طرف عبدالصمد اچکزئی نے جرگہ کے سرداروں سے کہنا شروع کردیا کہ اگر پاکستان کے ساتھ نہیں جاتے تو ہندوستان کی حکومت جرگہ کو فی الفور 18 کروڑ روپے نقد اور سالانہ ساڑھے چار کروڑ روپے بطور سپورٹ فنڈ دیا کرے گی۔ اتنی پرکشش آفر سن کر بہت سے سرداروں کا فیصلہ ڈگمگا سکتا تھا، چنانچہ نواب جوگیزئی اور جمالی نے بھرپور کیمپین شروع کی اور ہر سردار کے پاس جاکر قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کی سفارش کرنا شروع کردی۔
جس وقت نواب جوگیزئی، جمالی اور نسیم حجازی جیسے لوگ شاہی جرگہ کے اراکین کو پاکستان کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے، عین اسی وقت مسلم لیگ بلوچستان کے صوبائی صدر نے شاہی جرگہ کے صدر، ایجنٹ ٹو گورنر جنرل سے اپیل کی کہ شاہی جرگہ سے قلات، کاکڑ اور جمالی قبائل کے سرداروں کو نکال دیا جائے۔ یہ مطالبہ حیران کن تھا، کیونکہ اگر ان سرداروں کو نکال دیا جاتا تو پھر قیام پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے والا کوئی نہ رہتا۔
ریفرینڈم کی تاریخ 29 جون کو طے ہوئی تھی اور اس وقت تک نواب جوگیزئی اپنے ساتھ اچھی خاصی حمایت اکٹھی کرچکے تھے۔ لیکن بلوچستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر کی درخواست کا جائزہ لینے کیلئے شاہی جرگہ صدر نے 28 جون کی رات اعلان کردیا کہ 29 جون کے اجلاس میں صرف وائسرائے کا پیغام پڑھ کر سنایا جائے گا، اور ووٹ 3 جولائی کو ڈالا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگلے چند دنوں کے اندر جرگہ کی کمپوزیشن تبدیل کی جاسکے۔
نواب جوگیزئی، نسیم حجازی اور جمالی کو سازش کی بھنک پڑچکی تھی، چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن وائسرائے کا پیغام پڑھنے کے فوراً سب قبائلی سردار کھڑے ہوکر پاکستان میں شمولیت کا اعلان کردیں گے۔
اگلے دن 29 جون کو اجلاس شروع ہوا، وائسرائے کا پیغام پڑھا گیا اور اس کے فوراً بعد جوگیزئی، جمالی، کاکڑ اور دوسرے قبائل کے سرداران اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور اعلان کردیا کہ وہ پاکستان میں شمولیت چاہتے ہیں۔
65 کے جرگے میں 40 سے زائد سرداران نے جب یہ اعلان کردیا تو پھر 3 جولائی کے اجلاس کی اہمیت ختم ہوگئی اور یوں بلوچستان اللہ کی مہربانی سے پاکستان کا حصہ بن گیا۔
جاننا چاہیں گے کہ مسلم لیگ بلوچستان کا صوبائی صدر کون تھا جس نے شاہی جرگہ سے پاکستان کے حامی سرداروں کو نکالنے کی سفارش کی؟
اس کا نام قاضی عیسیٰ تھا جو کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج قاضی فائز عیسی کا باپ ہے۔ جی ہاں، وہی قاضی فائز عیسیٰ کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے فرزند کا بیٹا ہے، درحقیقت قاضی عیسیٰ ایک خودپسند، اناپرست شخص تھا جس نے اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے پورے بلوچستان کی شمولیت خطرے میں ڈال دی تھی۔
اوپر بیان کئے گئے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔
آخر میں سلام ان بلوچ لیڈروں کو، جنہوں نے 1947 میں کروڑوں کی آفرز ٹھکرا کر پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
قاضی عیسیٰ ان بلوچ اور پختون لیڈروں کی دھول کے برابر بھی نہیں!!!
منقول
مصنف قیوم نظامی
کتاب:قائد اعظم بحیثیت گورنر جرنل
 

JunaidMarwat

MPA (400+ posts)
Illegal Banigala has been legalised and Aleema Baji has been given amnesty. Do not think Khan needs to do much before dissolving assemblies. Both Wasim Akram plus and Buzdar plus have also accumulated enough wealth. He wouldn't mind saying good bye.
 

Haha

MPA (400+ posts)
اب اگر کسی ۔۔۔۔ کے بچے نے دوبارہ جنرل ضیا اور جنرل جیلانی کے پالتو کتے نواز شریف یا اس کے خاندان کے کرپٹ حرام خور چور فراڈئیے منی لانڈر فور جر یا پرجر کو دوبارہ لانے کی حرام زدگی کی تو وہ لانے والا انشااللہ عوام کے ہاتھوں کتے کی موت مرے گا چاہے جج ہو یا جرنیل اب مزید یا دوبارہ کسی حرام زادے کرپٹ کو لانے والا اور کرپٹ انشااللہ کتے کی موت ہی مرے گا
کیا ان حرام خوروں چوروں کے علاوہ بائیس کروڑ عوام میں کوئی ایماندار نہیں
اب کوئی پرانا پاپی نہیں
 

Diesel

Chief Minister (5k+ posts)
Aaao gay , ahista ahista saray issi tarf aaogay. k mulk k sab maslon ki aik hi root cause hay aur woh hay fouj.. jab tak fouj k khilaf baqaida sab aik nhhongay, fouj ko under PM nahi kiya jayega aur inko jawabdeh nhi banaya jayega, yeah mulk roz-baroz tabahi ki tarf hi jayega... kuch din tak sabko Qazi faiz isa na yad aaya tou kehna, aray zalimo, samajty kiyon nhi, we need people like Fiaz Isa who dare to challenge these generals...
Qazi isa is a chor judge. chor ki kya majal jo fouj ko challenge kre. Qazi chor challenged only brother judges.. aj agar mera trial ho raha hai To kal ap logo ka bi trial hoga which is on record what qazi chor told to his brother judges.
 

Haha

MPA (400+ posts)
Qazi isa is a chor judge. chor ki kya majal jo fouj ko challenge kre. Qazi chor challenged only brother judges.. aj agar mera trial ho raha hai To kal ap logo ka bi trial hoga which is on record what qazi chor told to his brother judges.
صرف چور ہی نہیں حرامی بھی ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں