میاں صداقت، چوڑی دار پاجامہ اور فنون لطیفہ

میاں صداقت، چوڑی دار پاجامہ اور فنون لطیفہ

صداقت میاں عجیب کشمکش سے دو چار تھے کے بیگم صداقت نے عجیب مشکل میں ڈال دیا تھا. انکو حکم خاص تھا کے آج اس عید قرباں پے چوڑی دار پاجامہ ہی نچوڑ کے پہننا پڑیگا. صداقت میاں اس غیرمعمولی حکم پے بڑے تلملاۓ ہوۓ تھے. آخری مرتبہ جب انہونے چوڑی دار پاجامہ پہنا تھا تو انکی چولیں تک حل گئیں تھیں. جنکو بعد میں جگہ پے آنے میں ہفتوں لگ گئے تھے.اور وہ مزید تجربہ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے لیکن بیگم صداقت کا سختی سے حکم تھا کے اس عید پے چونکے بیگم نوازش بھی تشریف لا رہی ہیں تو صرف چوڑی دار پاجامہ ہی پہننا پڑیگا.


بیگم نوازش بڑی رکھ رکھاؤ اور ذوق والی خاتون ہیں. فنون لطیفہ سے بھی انھیں خاص لگاؤ اور اس پے کافی عبور بھی رکھتی ہیں. انکو شدید ناپسند ہے ہیکہ عید جیسے مخصوص تہواروں پے بھی قمیض اور پتلون زیب تن کی جائے. لیکن مسّلہ صداقت میاں کے ساتھ تھا کے وہ اس دوہری اور ناگہانی آفت سے سخت پریشان تھے. ایک تو چوڑی دار پاجامے کا طوفان جسنے انکے جسم کے پرزے پرزے ہلا دیے تھے اور دوسری طرف بیگم نوازش کی تندو و تیز آمد وہ بھی فنون لطیفہ کی آندھیوں کے ساتھ. حالانکہ صداقت میاں کا فنون لطیفہ سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھااور انکے مشاہدےمیں کوئی ایسی کتاب بھی نہیں تھی جس سے کچھ مدد لی جاسکے.

جہاں تک صداقت میاں کی یادداشت کام کر رہی تھی انکو یاد پڑ رہا تھا کے انکا کوئی بہت دور کا رشتے دار جسکو غلطی سے فنون لطیفہ کا شوق بخار کی حد تک ہوگیا تھا. لیکن اتنی گہری سوچ رکھ نے والا انسان برادری کو بلکل بھی قابل قبول نہیں تھا جو کے کھانے کے وقت یا بعد میں اتنی ثقیل گفتگو کرے جو نظام ہضم پے گراں گزرے اور اسکی چولیں ہلا دے. لہذا اس سے پہلے کے موصوف کا یہ بخار ١٠٠ ڈگری سے تجاوز کر جائے. برادری کے بڑوں نے انکی گددی کے نیچے دو لگانے اور قطع تعلقی کا پروانہ دیکر بیچارے کو برادری سے ناصرف یہ کے بیدخل کر دیا گیا بلکے یہ بھی حکم صادر کر دیا کے آئندہ اگر ١٠٠٠ کلو میٹر کے قریب بھی نظر آیا تو فنون لطیفہ سمیت ٹانگیں توڑ کے محلے کے آوارہ کتوں کو کھلا دینگے. بس وہ دن اور آج کا دن برادری میں پھر کبھی کسی کی ہمت نہیں ہوئی کے کوئی فنون لطیفہ پے شب خون مارسکے .

صداقت میاں اپنے اس اکلوتے رشتے دارکو یاد بھی کررہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں اپنے مستقبل کا خوف بھی کھانے جا رہا تھا. جو آج بیگم نوازش کے ہاتھوں خنون لطیفہ کی شکل میں متوقع نظر آرہا تھا. انھیں یقین تھا کے آج ضرور فنون لطیفہ کی لاشیں، کلیجی اور گردوں کی طرح بکھری ہوئی ہونگی اور داستان بھی نہ ہوگی انکی داستانوں میں. لیکن اب بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا. اب صداقت میاں کو اس طوفان اور آندھی کا خود ہی تن ہے تنہا بغیر کسی بیرونی امداد کے مقابلہ کرنا تھا .صداقت میاں چوڑی دار پاجامہ میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد بلآخر پاجامہ میں پنڈلیوں سمیت آچکے تھے. ایک طوفان کی شدت تو بہرحال کسی طرح کم کرنے میں کامیاب ہوگنے تھے. لیکن اس دھینگا مشتی میں ٹخنوں پے آئی ہوئے زخم کمر میں خم ڈال چکے تھے.

بیگم نوازش آدھمکی تھیں کھانے کی میز پے خوب محفل جمی ہوئی تھی. بیگم نوازش کی شخصیت نے اور انکی خوبصورت باتوں نے نے ایک سما سا باندھا ہوا تھا. لیکن صداقت میاں کے دماغ میں ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے کے اچانک بیگم نوازش نے صداقت میاں سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا آجکل کونسی کتاب زیر مطالعہ ہیں. صداقت میاں منہ میں آئ ہوئی بوٹی کو جلدی سے نگلا. اپنے حواسوں کو بحال کرتے ہوۓ بولے آجکل تین کتب میرے زیرمطالعہ ہیں. ایک کا نام ہے، شب روز، دوسری کا روز شب ، اور تیسری بے رحم شب. صداقت میاں نے اپنے اپ کو شاباش دی کے اتنے مشکل سوال کا جواب اتنے خوبصورت انداز میں دیا. لیکن صداقت بیگم اس جواب پر بہرحال بہت ہکا بکا تھیں. اور مان گئیں تھیں کے چوڑی دار پاجامہ کام کر رہا ہے.

فنون لطیفہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور لوگوں کی اس سے عدم دلچسپی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ میری برادری، جی کیا مطلب، میرا مطلب کے معاشرے میں کشش ثقل نہیں رہی. ذرا واضح کریں، بیگم نوازش نے گفتگو میں دلچسپی لیتے ہوۓ کہا کشش ثقل کا اس سے کیا تعلق بنتا ہے؟ ایک وقت تھا کے کشش ثقل اور معاشرہ کے اوپر فنون لطیفہ کے سیب آکر گرتے تھے تو لوگ انکی پزیرائی کرتے ہوۓ انکو گرنے سے پہلے ہی کھا لیا کرتے تھے اور پھر مزید سیبوں کے گرنے کا انتظار کرتے. اس سے پہلے کے فنون لطیفہ کے یہ سیب مزید گرتے اور کشش ثقل کی تھیوری پے تربوز آکے گرنے لگیں. بیگم صداقت نے صورتحال کو قابو کرتے ہوۓ کے اس سے پہلے انکے گھر میں فنون لطیفہ پے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا جائے موضوع کا پینترا بدل دیا.

بیگم نوازش کو اور بھی بہت سی جگہ جانا تھا تو انہونے اجازت چاہی. صداقت میاں آپ سے گفتگو کر کے بہت اچھا لگا. آپ کو زبان پے جسطرح عبور حاصل ہے وہ قابل ستایش ہے. آپ سے موضوع سخن پھر کسی اور نشست میں مزید بات چیت ہوگی. اب اجازت چاہونگی. بیگم نوازش کے جانے کے بعد صداقت میاں نے شکر کا سانس لیا. واہ بھئی واہ کیا گفتگو کرتے ہیں آپ زبان پے اتنی روانی ایسا لگ رہا تھا کے جیسے کے قصائی نے بڑی صفائی سے کلیجی ، گردے، اور چانپیں الک الگ کاٹ کر رکھ دی ہوں. بیگم صداقت نے میاں صداقت کی حوصلہ افزائی کی قصیانا قصیدے پڑھ نہ شروع کر دیے. صداقت میاں نے ذرا طنزیہ انداز اپنا تے ہوۓ کہا اگر اجازت ہو تو میں اس چوڑی دار پاجامہ سے صفائی سے نکل جاؤں کے یہ موقع بھی ہے محل بھی ہے اور دستور بھی ہے. ہان وہ تو نکل جاؤ لیکن یہ بتاؤ یہ کتابوں والی بات تمھارے دماغ میں کس نے ڈال دی؟ صداقت میاں نے مسکراتے ہوۓ کہا تمھارے شب و روز نے.
تحریر
محمد عارف انصاری
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Eyeaan

Minister (2k+ posts)
روزنامہ میں کالم کیلئے تو بہت خوب ـــ زبان بھی ٹھیک
مگر ادبی مزاح کیلئے؟-مزاح میں اختصار اور نشتر شرط ہے- اور اسپر الفاظ کا چناؤ اور ذو معنویت مزید ، ـ-نہ کہ بات الفاظ کے الجھاؤ میں الجھ کر رہ جاۓ ـ

امید کہ آپ تنقید پر برا نہ منایں گے​
 
Last edited:
[QUOTE="Eyeaan, post: 5013567, member: 101576 آپ کی تنقید میں اصلاح کا پہلو ہے. میں کو شش کرونگا کے آپ کے مشورے سے سیکھوں. اور اپنی تحریر کو مزید بہتر کرروں
آپ کا بہت شکریہ.
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion