مسجد نبویﷺ میں پیش آئے واقعہ پرمریم نواز کا ٹوئٹ،صارفین نے ماضی یاد دلا دیا

5maraymntweetskhtradaml.jpg

وزیراعظم شہبازشریف کے 3 روزہ سرکاری دورے کے دوران مسجد نبویﷺ میں پیش آنے والے غیر خوشگوار واقعے پر مریم نواز نے مذمتی پیغام جاری کیا اور ایکشن کا مطالبہ کیا تاہم سوشل میڈیا صارفین نے ماضی میں کی گئی ان کی ٹوئٹس کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ وہ پہلے کیا کہتی رہی ہیں۔

مریم نواز نے حالیہ واقعہ پر ٹوئٹ کیا کہ "حرمِ پاک مدینہ منوّرہ میں تحریک انصاف کی قیادت کی سرپرستی میں ہونے والی بےادبی سے نبی ﷺ سے محبت کرنے والے تڑپ کر رہ گئے۔


انہوں نے کہا کہ مجھے غصے میں بھرے سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ حکومت کا ایکشن سیاسی انتقام تصور ہو گا اور یہ معاملہ سیاسی نہیں ہے۔

اس پر عمران لالیکا نے کہا کہ پہلے پچھلا سارا ڈیلیٹ کر لیتے۔


ایک صارف نے کہا کہ یہ آپ کے دل کا چور ہے اور کچھ نہیں یہ ایون فیلڈ میں آپ کے ابا جان کے گھر کے باہر مظاہرہ نہیں ہوا کہ اس طرح صرف نظر کر لیں آپ یہ اللہ کے نبی کی مسجد میں گالیاں دی گئی ہیں، اور کچھ نہیں شیخ رشید کو تو پکڑیں۔


آنسہ بٹ نے کہا کہ دنیا میں اگر کوئی بدترین ڈھیٹ دیکھا ہے توآپ کو دیکھا ہے آپ تو خود اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں آپ خود روضۂ رسول ﷺکی بے حرمتی کر چکی ہیں۔


دانیال امجد نے کہا کہ کتنے منافق اور جھوٹے ہیں یہ لوگ، کون سے PTI کہ لوگ تھے؟ اور کل تک آپ اس عمل کو نظام قدرت کہتی تھی جب تک بات آپ کے حق میں تھی۔ باقی جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔


نیہا صدیقی نے کہا کہ جو شہباز شریف زندہ باد کے نعرے لگے اس پر بھی ایکشن لینا نعرے تو نعرے ہیں چور کے لگے یا شہباز شریف زندہ باد کے تقدس بہرحال متاثر ہوا ہے بے ادبی ہوئی ہیں بلکل مقدس مقامات کی اور ہم بھی مطالبہ کرتے کہ دونوں نعرے لگانے والوں کو سزا دی جائے تب پتا چلے گا کہ مقدس مقامات اہم ہیں۔


عمران شیخ نے کہا کہ اس پر دختر تاحیات نااہل کیا کہو گی کون خوش ہو رہا تھا 2019 میں مکافات عمل ہے۔

 
Advertisement

Hunter1

Senator (1k+ posts)
i am done with words, i believe its time for action, no more bajwa, no more pdm no more supreme court, no more election commission

we need to go straight to revolution,
 

feeneebi

MPA (400+ posts)
یہ غلاظت دین عمرانیہ کے لعنتی پیروکاروں نے شروع کی تھی جب کئی برس قبل حج کے موقع پر حرم کعبہ میں سیاسی نعرے بازی کرتے ہوئے فخریہ ویڈیوز اور تصویریں پھیلائی گئی تھیں اور اس بےادبی کا دروازہ کھولا گیا۔ اور جب تک اس طرح کی غلاظت جاری رہے گی، اس کا گناہ جاریہ ان شاء اللہ ان یوتھیوں اور ان لے روحانی پیشوا #عمران_ٹھاکرے کو پہنچتا رہے گا جنہوں نے یہ مذموم حرکت کی۔ کچھ بےغیرت یوتھیوں نے اس سے بھی آگے جا کر غار حرا میں سیاسی نعرے درج کیے۔
کل کے واقعے کو بھی لے کر مختلف تاویلات اور دلیلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ کچھ یوتھیے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ مسجد سے باہر ہوا۔ قطع نظر اس کے کہ وہ درست کہہ رہے ہیں یا ہمیشہ کی طرح جھوٹ بک رہے ہیں، جن وزرا کے ساتھ یہ بدسلوکی کی گئی وہ در نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسافر اور حبیب خدا کے مہمان تھے۔ ان کی تذلیل کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس کے لیے الٹی سیدھی تاویلیں بنا کر اس مذموم عمل کا دفاع کرتا ہے تو اس کے ایمان کے ناقص ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اسے نہ جہاد کہا جا سکتا ہے نہ ہی کسی اور لفظ کی ڈھال کے پیچھے چھپایا جا سکتا ہے۔
 
Sponsored Link