عاطف خان اور شہرام کو دھکے دے کر پارٹی سے نکالیں

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
عاطف خان اور شہرام کو دھکے دے کر پارٹی سے نکالیں



فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


مجھے یقین نہیں ا رہا ہے تحریک انصاف پارٹی میں دھڑے بندیوں پر بلاگ کے فوری بعد تحریک انصاف میں اتنی زیادہ مار دھاڑ ہوئی کے میں خود اپنے لکھنے کی ٹائمنگ پر حیران ہو گیا . الله جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ، بیشک ذہنوں میں خیال ڈالنے والی ذات صرف خدا کی ہے جو تمام کائنات کا خالق ہے



میں نے سوچا پہلے خیبر پختونخوا کے دونوں ہیکل اور جیکل کے میڈیا انٹرویوز سن لوں پھر کچھ رائے زنی کروں گا . ظاہر ہے کاشف عباسی اور ڈاکٹر معید دونوں وہ سوالات نہ کر سکے جسکی توقع کی جا سکتی تھی . پنجاب کے صحافیوں اور ذھن سازوں کو شریف خاندان سے فرصت ملے تو باقی صوبوں کو کوور کریں . باقی صوبے چھوڑیں ، پورا پاکستان محض رائے ونڈ تک ہمارے صحافیوں کے لئے محدود ہے لھذا پنجابی صحافی کبھی لاہور سے باہر نکلے ہی نہیں . ہم لوگوں نے سیاست پی کے پلیٹ فارم پر خیبر پختونخوا کی سیاست کو بھر پور طریقے سے زیر بحث لائے تھا . میں نے تو روزانہ خبروں کی بنیاد پر تحریک انصاف کی کارگردگی پر ایک لمبی تھریڈ بھی بنائی تھی . چلیں اپنے اصل موضوع کی طرف


١ – اپنی اپنی وزرات سے نکلنے کے بعد دونوں ہیکل اور جیکل اپنا دفاع کرنے کے لئے ٹالک شوز میں پہنچ گئے تاکے عوامی ہمدردی حاصل کی جائے . ان دونوں نے تحریک انصاف کے لئے اپنی خدمات اور قربانی گنوائیں . قربانی تو صرف جانوروں کی ہوتی ہے لھذا ان دونوں نے اپنے گندے کپڑے بھرے چوک میں دھو کر رہی سہی کسر پوری کر دی . ٹالک شوز والوں کو ریٹنگ ملی ، ان دونوں کو کیا ملا؟

ایک طرف دونوں عمران خان کے ساتھ اپنا عھد قائم رکھنے پر مصر دکھائی دئے اور دوسری طرف اپنا دفاع کرنے میڈیا پر پہنچ گئے . شہرام کو ماننا پڑا کے وہ اپنے رشتدار دار کے لئے وزرات کا طالب ہے . اتنی زیادہ اور اتنی کھلی منافقت کی امید صرف دولے شاہ کے چوہوں سے کی جا سکتی ہے . پارٹی سے اختلافات کو میڈیا کی زینت کبھی بھی نہیں بنایا جا سکتا اور مظلومیت کا کارڈ کبھی بھی نہیں کھیلا جا سکتا . کیا یہ لوگ ہمیں اتنا بیوقوف سمجھتے ہیں ؟

٢- عملی زندگی میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کے میاں اور بیوی میں طلاقیں بعض اوقات عمر کے آخری حصے میں ہو جاتی ہیں . میاں اور بیوی اپنے بچوں کے لئے بے تحاشا قربانیاں دیتے ہیں مگر پھر بھی اختلافات کی بنیاد پر عیلحدگی ہو جاتی ہے . کچھ طلاقیں آسانی سے سر انجام پاتی ہیں اور کچھ کا خاتمہ زبردست لڑایوں کے بعد ہوتا ہے . عمران خان تو اپنے ساتھ اتنا ظالم ہے کے اپنی طلاق کے بعد دونوں بیٹے قانون کے مطابق بچوں کی ماں کو دے دیتا ہے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھتا . عمران خان کتنے بھی اہنی اعصاب کا مالک کیوں نہ ہو مگر یہ غم تو انہیں ہمیشہ مارتا ہو گا . عملی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کے تحریک انصاف میں ٩٠ فیصد لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے ہوے ہیں . کیا شاہ محمود قریشی صاحب اور دوسروں نے پیپلز پارٹی کے لئے دن راتیں ایک نہیں کی تھیں . جب نظریاتی اختلاف ہوتا ہے تو لوگ پارٹی چھوڑ دیتے ہیں . بظاھر پاکستانی سیاست میں نظریاتی سیاست نہیں ہوتی ، مفادات کی سیاست ہوتی ہے . عمران خان کی پارٹی میں نئے لوگ کم از کم عمران خان کے نظرئیے پر ہیں . جاوید ہاشمی صاحب نے مسلم لیگ میں کتنی قربانیاں دی تھیں مگر انکی پارٹی نے انکے ساتھ کیا کیا تھا ؟

عاطف خان اور شہرام نے دونوں ٹالک شوز میں بہت عامیانہ باتیں کی اور حسب روایت ٹالک شوز کے ہوسٹ خصوصی ڈیزائن شدہ سوالات پڑھتے گئے . عاطف خان کی خاندانی پارٹیاں تو زوال پذیر پارٹیاں تھیں جہاں انکا کوئی مستقبل نہیں تھا . تحریک انصاف میں انکا مسقبل تھا جو انہیں ملا اور دونوں مرتبہ ملا . عاطف خان نے تو اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ اپنی منشاء سے ١٥٥ووٹوں سے ہاری تھی جسکا تحریک انصاف کو بعد میں اسکا سخت نقصان ہوا تھا



٣- سب سے اہم نقطہ - اللہ پاک استاد حسن نثار صاحب کی عمر دراز کرے . آجکل وہ جیو سے آزاد ایک بہت بڑے ویڈیو بلوگر ہیں . یو ٹیوب پر صحافی اپنی دل کی بات بغیر خوف و خطر کرتے ہیں . حسن نثار صاحب نے آجکل اپنا روایتی جارحانہ انداز سخن رکھا ہوا ہے جسکا نشہ ہم لوگوں کو ہے . حسن نثار صاحب فرماتے ہیں کے ، پاکستان کو معیشیت نہیں انسان سازی کی ضرورت ہے . وہ بار بار اس بات کا پرچار کرتے نظر اتے ہیں کے ریاست پاکستانی ایلیمنٹری اسکول پر توجہ دے تاکے اس معاشرے میں انسانوں کی تشکیل ہو ،ہمارا سسٹم محض گدھے پیدا کر رہا ہے . یہ قیمتی مشورہ صرف ایک صاحب بصیرت شخص ہی دے سکتا ہے . میری خواہش ہے کے کوئی میری تحریر حسن نثار صاحب تک پونھچا دے تاکے وہ سیاق اور سباق کے حوالے سے وہ اس اہم موضوع پر تحقیق کر کے تبصرہ کریں

حسن نثار صاحب بنیادی طور پر عمران خان کے معلم بھی ہیں . عمران خان کسی وقت تعلیمی ایمرجنسی کی باتیں کیا کرتے تھے .پہلے دور حکومت میں تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں میگا پروجیکٹ تعلیم تھا . عاطف خان کو نہ صرف تعلیم جیسی اہم وزرات دی گئی بلکے صوبہ کے بجٹ کا ٣٠ فیصد حصہ بھی دیا گیا تھا . خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے پاس اتنا بجٹ نہیں تھا جتنا عاطف خان کی وزرات کو دیا گیا تھا . عاطف خان تعلیم کا ماہر نہیں تھا مگر اسکے ساتھ ایک بہترین ٹیم دی گئی تھی جس نے صوبہ میں صوبہ میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی تھی . وہ تمام تفاصیل کا یہ بلاگ متحمل نہیں ہو سکتا . قصہ مختصر ، تمام ٹیم کا کریڈٹ بطور وزیر تعلیم عاطف خان کو گیا تھا

٤- خیبر پختونخوا کی حکومت محض چند ووٹوں پر پورے پانچ سال کھڑی رہی . تمام دنیا اسکا کریڈٹ جناب پرویز خٹک صاحب کو دیتی ہے . پرویز خٹک صاحب بھی ایک روایتی سیاستدان ہیں مگر عمران خان نے اپنا تھنک ٹینک اور بہترین لوگ انکی سپورٹ کے لئے دے تھے . پنجاب سے ناصر خان درانی کو مکمل اختیارات دے کر پولیس کا محکمہ دیا گیا تھا . سیاستدانوں نے انکی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی مگر عمران خان کا ڈنڈا کام کر گیا . پولیس کا محکمہ مکمل طور پر ریفارم کر دیا گیا جسکا فائدہ تحریک انصاف نے اگلے الیکشن میں اٹھایا . سید اشتیاق ارمڑ نے جنگلات کے محکمہ میں کامیابیاں سمیٹی . جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان نے لوکل باڈی پر کامیابیاں سمیٹی . پرویز خٹک صاحب نے اپنی روایتی سیاست قائم رکھ کر مقامی کرپٹ سیاستدانوں کو احتساب سے بچا کر حکومت کو بچائی رکھی . خٹک صاحب نے پارٹی کو ذاتی پارٹی میں بدلنا چاہا جسکے نتیجے میں قیادت ناخوش تھی . تھوڑا سا پس منظر لکھنا بہت ضروری ہے کیونکے ہم لوگ گجنی یاداشتوں کے لوگ ہیں

عاطف خان کی سیاست محض ایک دہائی پر مشتمل ہے . عاطف خان ١٩٧٢ کی پیدائش ہیں . خٹک صاحب کی تمام زندگی سیاست میں گزری ہے لھذا سنیارٹی کا حق بہرحال انھیں پہنچتا ہے . ٢٠١٨ کے الیکشن کے بعد عاطف خان گروپ بندی کر کے خیبر پختونخوا کی عوام کے پشت میں ایک کاری وار کرتے ہیں . وہ کھیڈاں گے نہ کھیڈ ن دیاں گے پر عمل پیرا ہو گئے . خیبر پختونخوا پاکستان میں واحد صوبہ تھا جس نے اپنی تمام بنیادی اصلایحات پر کام اپنے پہلے دور حکومت میں مکمل کر لیا تھا . ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ، خیبر کی عوام نے روایتی سیاسی شعور کا مظاہرہ کر کے عمران خان کو وزیراعظم بنوایا . ٢٠١٨ کے بعد خیبر پختونخوا کو اونچی پرواز کرنی چاہئے تھی مگر سیاستداؤں کی باہمی چمقلش نے قیمتی ڈیڑھ سال ضائع کر دئے . تحریک انصاف کے ساتھ عاطف خان بھی نئے تھے . دو سال تو انھیں سیکھنے میں لگے ہوں گے . اگلے ٣ سال انکی وزرات نے ڈیلیور کیا تھا . اب میں حسن نثار اور عمران خان کے ویژن کو یہاں پر رکھتا ہوں . تعلیم خیبر پختونخوا کی عوام کا حق تھا . مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اپنے بچے پرائیویٹ اسکول سے ہٹا کر گورنمنٹ اسکول میں ڈالنا شروع کئے . اتنی کامیابی سمیٹننے کے بعد عاطف خان کو تعلیم کی وزرات اپنے پاس رکھنی چاہئے تھی اور عمران خان کے ویژن کو انھیں اگے لے کر چلنا چاہئے تھا مگر وہ طاقت کے نشے میں گم ہو گئے. تجربہ تعلیم کے محکمہ میں حاصل کیا اور پھر ایک نی وزرات میں سیکھنے پر لگ گئے جو نہ قابل یقین ہے

عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی مگر کسی قربانی کے جانور کی مانند قربانی کا بکرا اپنے آپکو تصور کر لیا اور عمران خان نے انکی سیاسی قربانی قبول بھی کر لی . غضب خدا کا ، حال ہی میں ایلیمنٹری اسکول کا منسٹر اسے بنایا گیا ہے جسکی اپنی تعلیم محض میٹرک ہے . منسٹر کی قابلیت یہ بیان کی گئی ہے کے کینیڈا میں رہنے کی وجہ سے وہ انگلش بول لیتا ہے . سیاسی ڈاگ فائٹ ایک طرف ، ان سیاسی بے شرموں کو خدا کی مار پڑے جو ہم لوگوں کے مستبقل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں . عمران خان کو چاہئے کے عاطف خان سمیت تمام طاقت کے لالچی سیاستدانوں کو نشان عبرت بنا دے . خیبر پختونخوا میں سیاسی شعور اپنے عروج پر ہے . وزیراعظم عمران خان ، خیبر پختونخوا کی عوام نے اپ پر بھروسہ کیا تھا ، اپ انکی نسلوں کے اتنا بھونڈا مذاق مت کریں . پوری کیبنٹ فارخ کر دیں اگر انکی سیاست محض ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہی ہو . عوام کو ایک مرتبہ بتا ضرور دیں کے وہ کونسی وجوہات ہیں جنکی بناء پر یہ دونوں فارخ کئے گئے ہیں تاکے یہ لوگ پورپوگنڈا نہ کر سکیں
Out of sight , out of mind
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
 
Advertisement
Last edited:

Digital_Pakistani

Minister (2k+ posts)
Their coming on TV shows means they were guilty of something, now trying to clear it up by gathering public sympathy. Fools are they.
 

rtabasum2

Chief Minister (5k+ posts)
عاطف خان اور شہرام کو دھکے دے کر پارٹی سے نکالیں



فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


مجھے یقین نہیں ا رہا ہے تحریک انصاف پارٹی میں دھڑے بندیوں پر بلاگ کے فوری بعد تحریک انصاف میں اتنی زیادہ مار دھاڑ ہوئی کے میں خود اپنے لکھنے کی ٹائمنگ پر حیران ہو گیا . الله جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ، بیشک ذہنوں میں خیال ڈالنے والی ذات صرف خدا کی ہے جو تمام کائنات کا خالق ہے


موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
Just for your information so that you have a better perspective of what is going on with all this upheaval.......there is group of PMLn about 30 to 40 MNAS and MPAs who want to become Lota........the Choudaries got hold of them and started dreaming big........they went to Fazlu during his sit in n told him that they have the game in their hand and should join them in future so that why Fazlu went back..........that is why IK did not meet Choudaries or MQM who had set their eyes on bigger rewards..........according to PTI supporter JKT and Perviaz Khattak sorted out the whole mess meaning got those Lotas in their fold...........dont know if it is truth or not but seems plausible
 
عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی

یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کوئی قربانی دیتا ہے تو وہ اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنے کے لئے دھاڑیں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

منسٹری کا ملنا تو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے لوگوں کو تو اس سے دور بھاگنا چاہیے۔ مگر جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے پارٹی کے لئے فلاں فلاں قربانی دی اور اب مجھے منسٹری ملنی چاہیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نہیں مرا جا رہا۔ بلکہ اپنی جیب گرم کرنا چاہ رہا ہے اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنا چاہ رہا ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دے رہا تھا اس وقت بھی وہ بے لوث نہیں تھا بلکہ اس کا مطمع نظر سہی وقت آنے پر اپنی قیمت وصول کرنا تھا۔

یہ جتنے لوگ کہتے ہیں کہ منسٹری کی خواہش کرنا اور منسٹری ملنا ہمارا حق ہے ان سب کو اٹھا کے پارٹی سے باہر پھینک دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ذمہ داری لینے کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی پیسہ بنانے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔
 

Khan125

Chief Minister (5k+ posts)
KPK me pehly RATE LISTAIN hoti thi her DUKAN pe.
Jab se centre me PTI ki govt. Aie hy vo RATE LISTAIN GHAIB hain...
Koi poochny vala nhi. Kionky sari tawajo PUNJAB PE HY.
 

mskhan

Minister (2k+ posts)
عاطف خان اور شہرام کو دھکے دے کر پارٹی سے نکالیں



فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


مجھے یقین نہیں ا رہا ہے تحریک انصاف پارٹی میں دھڑے بندیوں پر بلاگ کے فوری بعد تحریک انصاف میں اتنی زیادہ مار دھاڑ ہوئی کے میں خود اپنے لکھنے کی ٹائمنگ پر حیران ہو گیا . الله جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ، بیشک ذہنوں میں خیال ڈالنے والی ذات صرف خدا کی ہے جو تمام کائنات کا خالق ہے



میں نے سوچا پہلے خیبر پختونخوا کے دونوں ہیکل اور جیکل کے میڈیا انٹرویوز سن لوں پھر کچھ رائے زنی کروں گا . ظاہر ہے کاشف عباسی اور ڈاکٹر معید دونوں وہ سوالات نہ کر سکے جسکی توقع کی جا سکتی تھی . پنجاب کے صحافیوں اور ذھن سازوں کو شریف خاندان سے فرصت ملے تو باقی صوبوں کو کوور کریں . باقی صوبے چھوڑیں ، پورا پاکستان محض رائے ونڈ تک ہمارے صحافیوں کے لئے محدود ہے لھذا پنجابی صحافی کبھی لاہور سے باہر نکلے ہی نہیں . ہم لوگوں نے سیاست پی کے پلیٹ فارم پر خیبر پختونخوا کی سیاست کو بھر پور طریقے سے زیر بحث لائے تھا . میں نے تو روزانہ خبروں کی بنیاد پر تحریک انصاف کی کارگردگی پر ایک لمبی تھریڈ بھی بنائی تھی . چلیں اپنے اصل موضوع کی طرف


١ – اپنی اپنی وزرات سے نکلنے کے بعد دونوں ہیکل اور جیکل اپنا دفاع کرنے کے لئے ٹالک شوز میں پہنچ گئے تاکے عوامی ہمدردی حاصل کی جائے . ان دونوں نے تحریک انصاف کے لئے اپنی خدمات اور قربانی گنوائیں . قربانی تو صرف جانوروں کی ہوتی ہے لھذا ان دونوں نے اپنے گندے کپڑے بھرے چوک میں دھو کر رہی سہی کسر پوری کر دی . ٹالک شوز والوں کو ریٹنگ ملی ، ان دونوں کو کیا ملا؟

ایک طرف دونوں عمران خان کے ساتھ اپنا عھد قائم رکھنے پر مصر دکھائی دئے اور دوسری طرف اپنا دفاع کرنے میڈیا پر پہنچ گئے . شہرام کو ماننا پڑا کے وہ اپنے رشتدار دار کے لئے وزرات کا طالب ہے . اتنی زیادہ اور اتنی کھلی منافقت کی امید صرف دولے شاہ کے چوہوں سے کی جا سکتی ہے . پارٹی سے اختلافات کو میڈیا کی زینت کبھی بھی نہیں بنایا جا سکتا اور مظلومیت کا کارڈ کبھی بھی نہیں کھیلا جا سکتا . کیا یہ لوگ ہمیں اتنا بیوقوف سمجھتے ہیں ؟

٢- عملی زندگی میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کے میاں اور بیوی میں طلاقیں بعض اوقات عمر کے آخری حصے میں ہو جاتی ہیں . میاں اور بیوی اپنے بچوں کے لئے بے تحاشا قربانیاں دیتے ہیں مگر پھر بھی اختلافات کی بنیاد پر عیلحدگی ہو جاتی ہے . کچھ طلاقیں آسانی سے سر انجام پاتی ہیں اور کچھ کا خاتمہ زبردست لڑایوں کے بعد ہوتا ہے . عمران خان تو اپنے ساتھ اتنا ظالم ہے کے اپنی طلاق کے بعد دونوں بیٹے قانون کے مطابق بچوں کی ماں کو دے دیتا ہے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھتا . عمران خان کتنے بھی اہنی اعصاب کا مالک کیوں نہ ہو مگر یہ غم تو انہیں ہمیشہ مارتا ہو گا . عملی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کے تحریک انصاف میں ٩٠ فیصد لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے ہوے ہیں . کیا شاہ محمود قریشی صاحب اور دوسروں نے پیپلز پارٹی کے لئے دن راتیں ایک نہیں کی تھیں . جب نظریاتی اختلاف ہوتا ہے تو لوگ پارٹی چھوڑ دیتے ہیں . بظاھر پاکستانی سیاست میں نظریاتی سیاست نہیں ہوتی ، مفادات کی سیاست ہوتی ہے . عمران خان کی پارٹی میں نئے لوگ کم از کم عمران خان کے نظرئیے پر ہیں . جاوید ہاشمی صاحب نے مسلم لیگ میں کتنی قربانیاں دی تھیں مگر انکی پارٹی نے انکے ساتھ کیا کیا تھا ؟

عاطف خان اور شہرام نے دونوں ٹالک شوز میں بہت عامیانہ باتیں کی اور حسب روایت ٹالک شوز کے ہوسٹ خصوصی ڈیزائن شدہ سوالات پڑھتے گئے . عاطف خان کی خاندانی پارٹیاں تو زوال پذیر پارٹیاں تھیں جہاں انکا کوئی مستقبل نہیں تھا . تحریک انصاف میں انکا مسقبل تھا جو انہیں ملا اور دونوں مرتبہ ملا . عاطف خان نے تو اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ اپنی منشاء سے ١٥٥ووٹوں سے ہاری تھی جسکا تحریک انصاف کو بعد میں اسکا سخت نقصان ہوا تھا



٣- سب سے اہم نقطہ - اللہ پاک استاد حسن نثار صاحب کی عمر دراز کرے . آجکل وہ جیو سے آزاد ایک بہت بڑے ویڈیو بلوگر ہیں . یو ٹیوب پر صحافی اپنی دل کی بات بغیر خوف و خطر کرتے ہیں . حسن نثار صاحب نے آجکل اپنا روایتی جارحانہ انداز سخن رکھا ہوا ہے جسکا نشہ ہم لوگوں کو ہے . حسن نثار صاحب فرماتے ہیں کے ، پاکستان کو معیشیت نہیں انسان سازی کی ضرورت ہے . وہ بار بار اس بات کا پرچار کرتے نظر اتے ہیں کے ریاست پاکستانی ایلیمنٹری اسکول پر توجہ دے تاکے اس معاشرے میں انسانوں کی تشکیل ہو ،ہمارا سسٹم محض گدھے پیدا کر رہا ہے . یہ قیمتی مشورہ صرف ایک صاحب بصیرت شخص ہی دے سکتا ہے . میری خواہش ہے کے کوئی میری تحریر حسن نثار صاحب تک پونھچا دے تاکے وہ سیاق اور سباق کے حوالے سے وہ اس اہم موضوع پر تحقیق کر کے تبصرہ کریں

حسن نثار صاحب بنیادی طور پر عمران خان کے معلم بھی ہیں . عمران خان کسی وقت تعلیمی ایمرجنسی کی باتیں کیا کرتے تھے .پہلے دور حکومت میں تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں میگا پروجیکٹ تعلیم تھا . عاطف خان کو نہ صرف تعلیم جیسی اہم وزرات دی گئی بلکے صوبہ کے بجٹ کا ٣٠ فیصد حصہ بھی دیا گیا تھا . خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے پاس اتنا بجٹ نہیں تھا جتنا عاطف خان کی وزرات کو دیا گیا تھا . عاطف خان تعلیم کا ماہر نہیں تھا مگر اسکے ساتھ ایک بہترین ٹیم دی گئی تھی جس نے صوبہ میں صوبہ میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی تھی . وہ تمام تفاصیل کا یہ بلاگ متحمل نہیں ہو سکتا . قصہ مختصر ، تمام ٹیم کا کریڈٹ بطور وزیر تعلیم عاطف خان کو گیا تھا

٤- خیبر پختونخوا کی حکومت محض چند ووٹوں پر پورے پانچ سال کھڑی رہی . تمام دنیا اسکا کریڈٹ جناب پرویز خٹک صاحب کو دیتی ہے . پرویز خٹک صاحب بھی ایک روایتی سیاستدان ہیں مگر عمران خان نے اپنا تھنک ٹینک اور بہترین لوگ انکی سپورٹ کے لئے دے تھے . پنجاب سے ناصر خان درانی کو مکمل اختیارات دے کر پولیس کا محکمہ دیا گیا تھا . سیاستدانوں نے انکی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی مگر عمران خان کا ڈنڈا کام کر گیا . پولیس کا محکمہ مکمل طور پر ریفارم کر دیا گیا جسکا فائدہ تحریک انصاف نے اگلے الیکشن میں اٹھایا . سید اشتیاق ارمڑ نے جنگلات کے محکمہ میں کامیابیاں سمیٹی . جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان نے لوکل باڈی پر کامیابیاں سمیٹی . پرویز خٹک صاحب نے اپنی روایتی سیاست قائم رکھ کر مقامی کرپٹ سیاستدانوں کو احتساب سے بچا کر حکومت کو بچائی رکھی . خٹک صاحب نے پارٹی کو ذاتی پارٹی میں بدلنا چاہا جسکے نتیجے میں قیادت ناخوش تھی . تھوڑا سا پس منظر لکھنا بہت ضروری ہے کیونکے ہم لوگ گجنی یاداشتوں کے لوگ ہیں

عاطف خان کی سیاست محض ایک دہائی پر مشتمل ہے . عاطف خان ١٩٧٢ کی پیدائش ہیں . خٹک صاحب کی تمام زندگی سیاست میں گزری ہے لھذا سنیارٹی کا حق بہرحال انھیں پہنچتا ہے . ٢٠١٨ کے الیکشن کے بعد عاطف خان گروپ بندی کر کے خیبر پختونخوا کی عوام کے پشت میں ایک کاری وار کرتے ہیں . وہ کھیڈاں گے نہ کھیڈ ن دیاں گے پر عمل پیرا ہو گئے . خیبر پختونخوا پاکستان میں واحد صوبہ تھا جس نے اپنی تمام بنیادی اصلایحات پر کام اپنے پہلے دور حکومت میں مکمل کر لیا تھا . ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ، خیبر کی عوام نے روایتی سیاسی شعور کا مظاہرہ کر کے عمران خان کو وزیراعظم بنوایا . ٢٠١٨ کے بعد خیبر پختونخوا کو اونچی پرواز کرنی چاہئے تھی مگر سیاستداؤں کی باہمی چمقلش نے قیمتی ڈیڑھ سال ضائع کر دئے . تحریک انصاف کے ساتھ عاطف خان بھی نئے تھے . دو سال تو انھیں سیکھنے میں لگے ہوں گے . اگلے ٣ سال انکی وزرات نے ڈیلیور کیا تھا . اب میں حسن نثار اور عمران خان کے ویژن کو یہاں پر رکھتا ہوں . تعلیم خیبر پختونخوا کی عوام کا حق تھا . مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اپنے بچے پرائیویٹ اسکول سے ہٹا کر گورنمنٹ اسکول میں ڈالنا شروع کئے . اتنی کامیابی سمیٹننے کے بعد عاطف خان کو تعلیم کی وزرات اپنے پاس رکھنی چاہئے تھی اور عمران خان کے ویژن کو انھیں اگے لے کر چلنا چاہئے تھا مگر وہ طاقت کے نشے میں گم ہو گئے. تجربہ تعلیم کے محکمہ میں حاصل کیا اور پھر ایک نی وزرات میں سیکھنے پر لگ گئے جو نہ قابل یقین ہے

عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی مگر کسی قربانی کے جانور کی مانند قربانی کا بکرا اپنے آپکو تصور کر لیا اور عمران خان نے انکی سیاسی قربانی قبول بھی کر لی . غضب خدا کا ، حال ہی میں ایلیمنٹری اسکول کا منسٹر اسے بنایا گیا ہے جسکی اپنی تعلیم محض میٹرک ہے . منسٹر کی قابلیت یہ بیان کی گئی ہے کے کینیڈا میں رہنے کی وجہ سے وہ انگلش بول لیتا ہے . سیاسی ڈاگ فائٹ ایک طرف ، ان سیاسی بے شرموں کو خدا کی مار پڑے جو ہم لوگوں کے مستبقل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں . عمران خان کو چاہئے کے عاطف خان سمیت تمام طاقت کے لالچی سیاستدانوں کو نشان عبرت بنا دے . خیبر پختونخوا میں سیاسی شعور اپنے عروج پر ہے . وزیراعظم عمران خان ، خیبر پختونخوا کی عوام نے اپ پر بھروسہ کیا تھا ، اپ انکی نسلوں کے اتنا بھونڈا مذاق مت کریں . پوری کیبنٹ فارخ کر دیں اگر انکی سیاست محض ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہی ہو . عوام کو ایک مرتبہ بتا ضرور دیں کے وہ کونسی وجوہات ہیں جنکی بناء پر یہ دونوں فارخ کئے گئے ہیں تاکے یہ لوگ پورپوگنڈا نہ کر سکیں
Out of sight , out of mind
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
I agree, these bastards are now going around tv channels talking crap like ministries were for life for them.

they were shit in their job and were trying to fail the CM
 

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی

یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کوئی قربانی دیتا ہے تو وہ اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنے کے لئے دھاڑیں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

منسٹری کا ملنا تو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے لوگوں کو تو اس سے دور بھاگنا چاہیے۔ مگر جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے پارٹی کے لئے فلاں فلاں قربانی دی اور اب مجھے منسٹری ملنی چاہیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نہیں مرا جا رہا۔ بلکہ اپنی جیب گرم کرنا چاہ رہا ہے اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنا چاہ رہا ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دے رہا تھا اس وقت بھی وہ بے لوث نہیں تھا بلکہ اس کا مطمع نظر سہی وقت آنے پر اپنی قیمت وصول کرنا تھا۔

یہ جتنے لوگ کہتے ہیں کہ منسٹری کی خواہش کرنا اور منسٹری ملنا ہمارا حق ہے ان سب کو اٹھا کے پارٹی سے باہر پھینک دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ذمہ داری لینے کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی پیسہ بنانے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔
I can't agree more. KP people has given more sacrifices then anyone else.
Just for your information so that you have a better perspective of what is going on with all this upheaval.......there is group of PMLn about 30 to 40 MNAS and MPAs who want to become Lota........the Choudaries got hold of them and started dreaming big........they went to Fazlu during his sit in n told him that they have the game in their hand and should join them in future so that why Fazlu went back..........that is why IK did not meet Choudaries or MQM who had set their eyes on bigger rewards..........according to PTI supporter JKT and Perviaz Khattak sorted out the whole mess meaning got those Lotas in their fold...........dont know if it is truth or not but seems plausible
Let's just confine this discussion to KP. This political rift started with the formation of new government This is known and established fact. Both senior members did not let government run with their conspires
People were the ultimate victim.On the media,they are proving themselves as biggest well wisher of Imran Khan How they could be well wisher of Imran Khan if they are using media platform to hide their malicious campaign against the party.
عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی

یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کوئی قربانی دیتا ہے تو وہ اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنے کے لئے دھاڑیں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

منسٹری کا ملنا تو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے لوگوں کو تو اس سے دور بھاگنا چاہیے۔ مگر جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے پارٹی کے لئے فلاں فلاں قربانی دی اور اب مجھے منسٹری ملنی چاہیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نہیں مرا جا رہا۔ بلکہ اپنی جیب گرم کرنا چاہ رہا ہے اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنا چاہ رہا ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دے رہا تھا اس وقت بھی وہ بے لوث نہیں تھا بلکہ اس کا مطمع نظر سہی وقت آنے پر اپنی قیمت وصول کرنا تھا۔

یہ جتنے لوگ کہتے ہیں کہ منسٹری کی خواہش کرنا اور منسٹری ملنا ہمارا حق ہے ان سب کو اٹھا کے پارٹی سے باہر پھینک دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ذمہ داری لینے کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی پیسہ بنانے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔
عاطف خان محض ٤٦ سال کی عمر میں وزرات اعلی کے خواب دیکھنے شروع ہو گئے . تعلیم کے شعبے میں اگر پانچ سال مزید اچھی کارگردگی دکھاتے تو مقامی سیاست میں وہ امر ہو جاتے . ٥٠ سال کی عمر کے بعد وزرات اعلی انکی جھولی میں ہوتی

یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کوئی قربانی دیتا ہے تو وہ اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنے کے لئے دھاڑیں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

منسٹری کا ملنا تو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے لوگوں کو تو اس سے دور بھاگنا چاہیے۔ مگر جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے پارٹی کے لئے فلاں فلاں قربانی دی اور اب مجھے منسٹری ملنی چاہیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نہیں مرا جا رہا۔ بلکہ اپنی جیب گرم کرنا چاہ رہا ہے اپنی قربانی کی قیمت وصول کرنا چاہ رہا ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دے رہا تھا اس وقت بھی وہ بے لوث نہیں تھا بلکہ اس کا مطمع نظر سہی وقت آنے پر اپنی قیمت وصول کرنا تھا۔

یہ جتنے لوگ کہتے ہیں کہ منسٹری کی خواہش کرنا اور منسٹری ملنا ہمارا حق ہے ان سب کو اٹھا کے پارٹی سے باہر پھینک دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ذمہ داری لینے کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی پیسہ بنانے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔
I can't agree more. KP people given more sacrifices then anyone else. What sacrifices he has given. He joined a political party and become minister soon.Whatever he did for the party, party rewarded him with a strong ministry. At the age of 48 and with only 10 years experience, he was asking too much from Imran Khan.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں