ریکوڈک کیس، پی آی اے کے اربوں کے اثاثے منجمد

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
پسپای اور ذلت کا سفر جاری و ساری ہے۔ نالائق حکومت کی ایک اور نااہلی سامنے آچکی ہے۔ ریکوڈک کیس میں برطانوی عدالت نو جنوری کو پی آی اے کے اثاثے جن میں امریکہ میں روزویلٹ ہوٹل اور پیرس میں سکرائب ہوٹل شامل ہے ضبط کرچکی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے براڈشیٹ سے بہتر طریقے سے ڈیل نہیں کی گئی اسی طرح ریکوڈک کیس میں سخت کوتاہیاں کی جارہی ہیں جس کا خمیازہ پاکستان کو اربوں ڈالر کے جرمانے کی صورت بھگتنا پڑ سکتا ہے اٹھارہ جنوری کو اس کیس کی عدالت میں تاریخ ہے مگر ابھی تک واضح نہیں کہ حکومت پاکستان نے اپنے اثاثوں کے دفاع میں کیا سٹریتیجی اختیارکرنی ہے۔ جب پی آی اے کا جہاز ضبط کیا گیا تو چئیرمین پی آی اے یا دیگر سرکاری بابووں کو علم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور کیس کو کیسے ہینڈل کرنا ہے اگر جہاز ملائیشیا میں ضبط نہ بھی ہوتا تو کمپنی برطانیہ میں کیس جیت کر پی آی اے کے اثاثے منجمد کروا سکتی تھی جس کے بعد اس کو جرمانہ ادا کرکے ہی جان چھوٹتی
مسئلہ یہ ہے کہ اس حکومت میں بچگانہ اور امیچور سوچ کے ادھیڑ عمر نوجوان ہیں جن کا رویہ کسی سنجیدہ اور میچور منسٹر کی بجاے ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ جیسا ہے اسی سوچ کے زیراثر اسد عمر نے آتے ہی ڈالر کی قیمت گرا دی جس سے ڈالر بے قابو ہو کر دو سو تک جاپنہچا حالانکہ شیخ چھیدے کے چیلنج پر نواز حکومت نے ڈالر کو ایک سو سے اوپر نہیں جانے دیا تھا۔ جب پوچھا گیا تو اسد عمر نے دندیاں نکالتے ہوے کہا کہ آی ایم ایف نے بھی یہی کروانا تھا لہذا ہم ان کے کہنے پر روپیہ کی قیمت کیوں گراتے، اب ہم نے یہ فیصلہ خود لیا ہے کیونکہ ہم آزاد ہیں،،،لکھ دی لعنت،،،کان الٹی طرف سے پکڑو یا سیدھی طرف سے فرق تو کوی نہ ہوا؟؟
کہا گیا کہ شاہد خاقان تو کمیشن کھا رہا تھا ہم سستی ایل این جی لیں گے مگر ہوا یہ کہ قطر نے ان کو ایل این جی دینے سے ہی انکار کردیا کیونکہ ان کے ساتھ امیچور منسٹرز فضول بکواس اور اناپ شناپ بول رہے تھے جس پر قطری حکومت نے سخت مائینڈ بھی کیا ویسے بھی قطری حکومت اور وہاں کے شہری دنیا کے امیر ترین افراد ہیں ان پر کمیشن دینے جیسے الزامات ایک بچگانہ غلطی تھی۔ اس احمقانہ حرکت سے پاکستان کو ایک سو بائیس ارب کا نقصان ہوچکا ہے اور مزید ہورہا ہے کیونکہ گیس نہ ہونے سے انڈسٹری رک چکی ہے اور اس سے برامدات بھی سخت متاثر ہونگی نیز مہنگای کا طوفان آجاے گا، پیٹرول مہنگا کردیا گیا ہے حالانکہ دنیا میں اس کی قیمتیں ابھی تک نیچے ہیں
اب مہنگی گیس ملنی بھی مشکل ہے فی الحال انڈسٹری کی گیس روک کر گھریلو صارفین کو لوڈشیڈنگ کے تحت دی جارہی ہے مگر انڈسٹری کا پہیہ رک گیا ہے اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں
پھر کہا گیا کہ پی آی اے کے جہازوں کی لیز مناسب نہیں تھی لہذا ہم لیز کی قسط ادا کرنے کی بجاے کمپنی پر کیس کریں گے، ان بچگانہ حرکتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں انٹرنیشنل کارپوریٹ لا کی ابجد کا بھی علم نہیں ورنہ ایسے کیسز میں کمپنی سے پنگا لینے کی بجاے اس بندے کو پکڑ کر کمیشن کے پیسے اس کے حلق سے نکلوا لیتے جس نے بقول ان کے مہنگی لیز پر جہاز لیا تھا۔وہ لازما کوی بیوروکریٹ ہی ہوگا مگر آپ تو کبیوروکریتس کو احتساب سے بچانے کیلئے ایک کرپٹ قانون دان بابر اعوان کی ڈیوٹی لگا چکے ہیں جو اپنے سیاہ مقصد میں کامیاب بھی ہوچکا ہے اور سب سے بڑے وائیٹ کالر کرائم کے مرتکب سرکاری بابو اب احتساب کے دائرے سے باہر ہوچکے ہیں۔ آپ اصل بندے کو پکڑنے کی بجاے کمپنی کو پچھاڑنے چل نکلے۔ کمپنی کے خلاف ایکشن لے کر آپ نے پاکستان کا مزید نقصان کروا دیا ہے۔ ضبط شدہ جہاز کی لیز جرمانے کے ساتھ بھرنی پڑی تو بند ہوتی پی آی اے کو دفنانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی
یہیں پر بس نہیں کہا گیا کہا کہ لاہور میٹرو تو ستائیس ارب میں بنی ہے جو بہت مہنگی ہے اس میں کمیشن کھایا گیا ہوگا ہم دس پندرہ ارب میں بنا کردکھائیں گے مگر وہ ایک سو ستائیس ارب میں بمشکل بن سکی اور بہت ساری خامیوں اور کمزوریوں کے بعد اب شائد بند ہونے کو ہے
لیکن میں حکومت کو وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ ریکوڈک کیس کو اسی بچگانہ اپروچ سے ہینڈل کرنے کے نتیجے میں نقصان اربوں میں نہیں کھربوں میں ہوگا
اللہ مالک ہے اس ملک کا جس کو کرپشن مافیا تو ختم نہ کرسکی مگر یہ نام نہاد نالائق ضرور ختم کرنے کی راہ پر لگے ہوے ہیں اگر یہ سیٹ اپ چھ ماہ نکال گیا تو ملک کا بچنا مشکل ہوگا
ویسے اس ساری سمسیا کا ایک آسان حل ضرور ہے
عمران خان اپنے موٹو معاون خصوصی طاہر اشرفی کو دو درجن بوتل وائین دے کر دعاے خاص کرواے،،،، مولانا موصوف جب دو درجن بوتل معدہ میں انڈیل چکیں تو اپنے پوپلے منہ سے جیو ٹی وی پر آکر کہیں کہ ،،،،یہ زو عمران خان نے زیا ہے۔۔۔۔ زہ بالکل غلط ہے شریعت اس کی ازازت نہیں دیتی،،،،،یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے،،،،،میں اس کو زوڑوں گا نہیں،،،،،میں اسلام کے دفاع میں اپنا زسم گیس سمیت قربان کردوں گا،،،،مگر اسلام پر آنچ نہیں آنے زونگا
 
Advertisement

chandaa

Chief Minister (5k+ posts)
Issi liyae tou iss patwari ke abbey Haqaan Abbasi ne bakwas ki thi ke aaney wali hakoomat agar 3 saal mein kuch behtar kar saki tou woh uss ki kamyabi hou gi. Uss waqat yehi matlab tha ke Haraam ke piloon ne iss qadar bairaa gharaq kiyaa hai ke behtari ke asaar mushkil hain.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں