درازپی کے پر نشے اور غیر اخلاقی مصنوعات کی فروخت کا انکشاف

Kashif Rafiq

Chief Minister (5k+ posts)


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انکشاف ہواہے کہ ان لائن شاپنگ کی کمپنی درازپر نشے کاسامان ودیگر غیراخلاقی مصنوعات کھل عام فروخت کی جارہی ہیں ،بچوں سے زیادتی کرنے والا ملزم یہاں سے سامان خریدتاتھا ،کے پی کے حکومت میں ملزم الیاس کوجن کی سفارش پر لگایاگیاان کا بھی پتہ کیاجائے۔


سینٹ قائمہ کمیٹی کی جانب سے راولپنڈی پولیس کی کارروائی پر پولیس ڈیپارٹمنٹ کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔قائمہ کمیٹی نے بیرون ملک سے ایک موبائل پر ٹیکس نہ لینے کی سفارش کردی جس کی وزارت آئی ٹی نے بھی حمایت کردی ،حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس طرح کے کیس 2015سے اب تک 15کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں .،بچوں سے زیادتی پر جے آئی ٹی بنائی جارہی ہے ۔ملزم الیاس بچوں کونشہ آور ادویات دے کرزیادتی کانشانہ بناتاتھا ،برطانیہ میں سزایافتہ ہونے کی وجہ سے ترکی نے فورا ڈی پورٹ کردیامگر پاکستان میں اس حوالے سے کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نے ایف ائی اے نے ڈیپورٹیشن پر مکمل بریفنگ مانگ لی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سینٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید ،سینیٹر فدا محمد،رحمن ملک ،کلثوم پروین وزرات آئی ٹی ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کے حکام نے شرکت کی۔سینٹر رحمان ملک نے کہاکہ بیرون ملک سے سٹوڈنٹس کو ایک موبائل فون لانےکی اجازت ہونی چاہیے اگر سمگلنگ والاایک کنٹینر پکڑ لیں گے تو چار لاکھ افراد کی ڈیوٹی ادا ہوجائے گی ۔

ممبر کسٹمز ایف بی آر نے کہاکہ کمرشل امپورٹس اور زاتی استعمال کے لئےموبائل فیس کم کردی ہے 2018 میں ایک کروڑ درآمد کردہ موبائلز سے 28ارب 80 کروڑکا ریونیو حاصل ہو۔رواں سال چار ماہ میں 67 لاکھ موبائلز کی درآمد سے 15 ارب ٹیکس وصول کرچکے ہیں۔سینٹر رحمان ملک نے کہاکہ آئی پیڈ پر کسٹمز ڈیوٹی وصول نہیں کی جاتی جو زیادہ مہنگا ہے،

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینٹر روبینہ خالد نے کہاکہ ملک صاحب وہ کام نہ کریں کہ نمازیں بخشوانے گئے تھے روزے گلے پڑ گئے ایسا نہ ہو کہ آئی پیڈ اور ٹیبز پر بھی ٹیکس لگ جائے قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ بیرون ملک سے ایک فون فری لانے کی اجازت ہونی چاہئے,سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی بیرون ملک سے ایک فون فری لانے کی حمایت کردی ۔بیرون ملک سے ایک فون فری لانے کی اجازت ہونی چاہئے, ارکان کمیٹی نے کہاکہ سال میں ایک فون لانے والی شرط بھی ختم کی جائے,سات دن میں بیرون ملک جاکر واپس آنے والوں کے لئے رجسٹریشن کی شرط ختم کی جائے۔

سینٹر روبینہ خالد نے کہاکہ بچوں سے زیادتی کے واقعات ایک ناسور بنتا جارہا ہے, مانسہرہ میں زیادتی کا شکار دو دن تک زندہ ایک کھائی میں پڑی رہی ناروے واقعے سے زیادہ ہمیں اس واقعے کی مزمت کرنی چاہئے اس واقعہ پر جلوس کیوں نہیں نکلتے مظاہرہ کیوں نہیں ہوتے کل ہم سب کو اس پر اللہ تعالی کو جواب دینا ہوگاکہاگیا ہے سب اچھا ہے اگر سب اچھا ہوتا تو دودن کی بچی کھائی میں نہ پڑی رہتی سب اچھا نہیں ہے کچھ توہے تو غلط ہورہا ہے ۔

سینٹر مولانا غفور حیدری نے کہاکہ بدقسمتی ہے کہ ایسے واقعات پہ واقعات ہورہے ہیں ریاست کے اندر ریاست نہیں بنائی جاسکتی یہ ریاستی اداروں کی زمہ داری ہوتی ہے۔چئرپرسن قائمہ کمیٹی نے کہاکہ عجیب بات سنی ہے بچوں کی زیادتی والی ویڈیوز بنانے والے سہیل ایاز کا ٹرائیل ان کیمرہ ہوگا, جس نے انسانیت کی تذلیل کی ہے اسکا ان کیمرہ ٹرائیل کہاں کا انصاف یے۔عبدالغفور حیدری نے کہاکہ جرائم انسانی معاشرے میں جرائم ہوتے ہیں امریکہ میں 3سیکنڈ میں زنا اور 35سیکنڈ میں قتل ہوتاہے جرائم کے خاتمے کے لیے ادارے اور ان کو سزا بھی ہوتی ہے. واقعات پر واقعات ہورہے ہیں مگر مجرموں کو سزا نہیں ملتی ہے ساہیول سانخہ کے مجرم بھی بری ہوگئے ہیں. نظام میں سقم ہیں اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے اگر جرائم فوج میں ہوجائے تو کورٹ مارشل اور پھانسی بھی ہوتی ہے مگر سول میں ایسا نہیں ہوتاہے۔

روبینہ خالد نے کہاکہ سہیل ایاز کے کیس کو کیون ان کمرہ کیا ہے اس کو نشان عبرت بنانا چاہیے تھا. یہ کہاں کا انصاف ہے .کلثوم پروین نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جرائم کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے. فوج میں جرم کی سزا موجود ہے اور عمل ہوتاہے مگر سول میں ایسا نہیں ہوتاہے. سینیٹر وسیم شہزaاد نے کہاکہ قانون شہادت میں سقم کی وجہ سے مجرم بچ جاتے ہیں اس سقم کو دور کرنا ہوگا۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ بچوں کیساتھ زیادتی کی مجرمان کو سرعام پھانسی دینے چاہیے جب تک ہم بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرت کا نشانہ نہ بنائے کمی نہیں ہوگی بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں سے بےرحمی سے پیش آنا ہوگا پولیس کیطرف سے بچوں کیساتھ زیادتی والے کیسز میں غفلت نہیں برداشت کیجائے سائبر کرائمز قوانین فعال کیجائے اور مزید سخت کیجائے شواہد کے متعلق قانون میں موجود نقائص کو ہٹایا جائے

سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ سائبر کرائم پر میوچل لیگل اسسٹنس ٹریٹی پر دیگر ممالک کیساتھ معاہدہ ہونا ضروری ہے، پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے جو ہونا ضروری ہے، حکام ایف ائی اے حکام نے بتایاکہ یورپ اور یو ایس کیساتھ معاہدہ ہونا چاہے، ہم حکومت کو لکھ بھی چکے ہیں، فیصل جاوید نے کہاکہ زینب الرٹ بل تیار ہورہا تھا انسانی حقوق وزارت اور وزارت قانون نے مسودہ تیار کیا،وہ بل بلاول بھٹو زرداری کی قائمہ کمیٹی میں زیر التواہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے جواب دیاکہ وہ کرلیں گے بل پر مکمل غور ہونا لازم ہے، ہم دیکھ رہے ہیں جلد اس بل پر پیش رفت ہوگی۔قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نے ایف ائی اے نے ڈیپورٹیشن پر مکمل بریفنگ مانگ لی۔

پنجاب پولیس کے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ بچوں سے زیاتی کاملزم سہیل الیاس کےخلاف 3کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں 12نومبر کو پہلا کیس رجسٹرڈ ہوا. بحریہ ٹاون فیز 8سے بچے کو اغواکیاتھا۔میڈیا میں خبر آنے کے بعد 2مزید کیس آئے. سب کی عمریں 8سے 15سال ہیں. کوہاٹ سے پہلے پچے کا تعلق ہے۔ 9ممالک میں سے 5میں کام کیا ہے دو سے ڈی پورٹ ہوا. سیو دی چلڈرن میں کام بھی کیا30بچوں سے زیاتی کہ ہے2016میں قتل کے کیس بنا مگر بھری ہوگیاتھا۔دو مرتبہ ڈی پورٹ ہوامگر کسی کو پتہ نہیں پتہ چلا ترکی گیا تو پورا انہوں نے ملزم الیاس کو ڈی پورٹ کردیا.پولیس نے انکشاف کیاکہ ملزم کے لیپ ٹاپ نے پتہ چلاکہ ان لائن شاپنگ کی کمپنی درازپر نشے کاسامان ودیگر غیراخلاقی مصنوعات بچوں سے زیادتی کرنے والا ملزم خریدتاتھا۔a


 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Reason

Minister (2k+ posts)
Bongi khan is busy destroying poor "thele walas." But rich scumbag vendors are selling drugs online, which Bongi Khan won't do anything against.
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion