آخر اس درد کی وجہ کیا ہے؟

Musafir99

Voter (50+ posts)




پی پی پی کچھ نہ کرے، بس ایک کام کرے کہ اسٹیل ملز کو اپنی تحویل میں لے اور یہاں کی تنخواہیں اپنے بجٹ میں سے دے۔

پی پی پی ضرور پوچھے کہ حکومت نے اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا، لیکن پہلے خود بھی بتائے کہ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا؟
یہ بھی بتائے کہ یہ ادارہ انھی کے دورِ حکومت کے اگلے سال سے ہی خسارے میں گیا۔ بعد از اگر نون لیگ والے ان کے ساتھ ملتے ہیں تو وہ بھی بتائیں کہ انکا تو باپ دادا کا کاروبار تھا اسٹیل انڈسٹری میں، جس سے انھوں نے پتہ نہیں کہاں کہاں اسٹیل ملز لگا کر چلا دیں، انھوں نے کیوں ۲۰۱۵ میں اس ادارے کو بلکل بند کردیا؟

ان کے سوال بنتے ہیں، اگر یہ خود جواب دینے کو راضی ہیں۔

کعبے کس منہہ سے جاوٗ گے غالبؔ؟

لیکن شرم کم از کم انکو تو نہیں آتی۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں اس اسٹیل ملز کی مینجمنٹ بدل کر اسے چلاوٗں گا اورنجکاری نہیں کرونگا۔
مگر عوام جانتی ہے، کہ عمران خان کو یو ٹرن مارنے کی عادت ہے۔

لیکن اگر یہ یو ٹرن اسٹیل ملز کو تباہی کے راستے کی طرف سے واپس ترقیّ کے راستے پر لے آتا ہے تو مجھے تو منظور ہے یہ یوٹرن۔ بجائے اس راستے کے جو سیدھا تباہی کی طرف لے جاتا ہو، وہ بھی کسی اسپیڈ بریکر کے بغیر۔

مجھے میری عقل اجازت دیتی ہے اس یو ٹرن کے لیئے، کیونکہ میں اس وقت ہنستا تھا جب عمران خان نے اپنا بیان دیا تھا کہ میں اس کی نجکاری کے بغیر اسے چلا کر دکھاوٗں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ عمران خان نے صرف اس اسٹیل ملز کو ابھی باہر سے دیکھا ہے۔ قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔

اور ابھی آپ ان لوگوں کے یو ٹرن کے رونے دیکھتے جائیں، اور ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ ان ساڑھے نو ہزار جفا کشوں میں سے کتنے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں؟
یاسین جامڑو، جو تھریک انصاف کی لیبر یونین کا صدر ہے، اس کے ساتھ آج مظاہرے کے لیئے کوئی پچیس سے تیس بندے تھے۔ پیپلز پارٹی کی لیبر یونین کے صدر جناب شمشاد قریشی کے ساتھ تو اتنے بھی نہیں تھے کہ وہ کوئی ویڈیو ہی بنا کر فیسبک پر چڑھا دیتے۔ نون لیگ اور دیگر کا حال نہ پوچھیں۔

لیکن آپ یہ دیکھیں کہ ان شمشاد قریشی کی آواز پر فوراً پیپلز پارٹی کی قادت حرکت میں آگئی۔ ۳۰ مئی کو کراچی پریس کلب میں رضا ربّانی صاحب نے پریس کانفرنس کردی، جس ہال میں بمشکل بیس بندے تھے۔ دس ان میں سے رضا ربّانی کے ساتھ آئے تھے۔

ارے جناب، جن ملازمین کا مسئلہ ہے، انھیں تو خود یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ اسٹیل ملز کا اس کے علاوہ اب کوئی حل باقی نہیں بچا۔ اس میں پچھلے دس سال میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے چھوڑا ہی کیا ہے؟ صرف اپنے بندے بھرتی کروائے، وہ بھی میرٹ کا گلا کاٹ کر۔ جو بھرتی کروائے، وہ بھی ڈیوٹی پر نہیں آتے، کوئی کام نہیں کرتے۔ خود کہیں اور رہتے ہیں اور کالونی میں ملے سرکاری گھروں کو کرائے پر چڑھا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ شمشاد قریشی صاحب بذاتِ خود، ایک چھوڑ، تین مکانوں پر قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اسٹیل ملز کے یونین ملازمین، جنکی تعداد ساڑھے نو ہزار میں سے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ ہے، ہر ماہ ڈیڑھ سو یونٹ بجلی اور گیس تو بلکل ہی مفت استعمال کرتے ہیں۔ یہ کونسی سیاست ہے کہ جس میں صرف یونین ورکروں کو مراعات ملیں اور دیگر ملازمین کوکچھ بھی نہیں؟

سوال تو ان سے سب سے پہلے پوچھنا چاہیئے کہ جب ملز دس سال سے خسارے میں جا رہی تھی، تو انھوں نے اپنی ماں جیسے اس ادارے کے ساتھ کیا برتاوٗ رکھا؟ جب ملز پانچ سال سے بند پڑی ہوئی تھی تو ان کی آوا زکو تب کیا ہوگیا تھا؟

کہتی ہے خلق خدا، تجھے غائبانہ کیا؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے ویسے ہی نہیں ان کے بارے میں ریمارکس دیئے تھے کہ ان کو گھر بیٹھ کر کھانے کی عادت ہوگئی ہے۔

اور اب اگر اسٹیل ملز کا درد انکو ستا رہا ہے، تو دنیا ان پر ہنس رہی ہے،بذات خود اسٹیل ملز کے ملازمین کے، کہ جب ان بے دردوں کو درد اٹھے تو سمجھ جائیں کہ چوٹ کسی صحیح جگہہ پر لگی ہے۔

 
Advertisement
Last edited:

Musafir99

Voter (50+ posts)
They have destroyed all public companies by over filling them with incompetent Patwaris and Jiyalas.
PSM has only 130 engineers out of its 9350 employees. The half of these engineers, will be disqualified if their degrees are verified. Out of 9350 employees there are 2250 unionized employees, who do not work at all and have privileges like free gas, 150 units/month free of electricity, 72 offices (full furnished), cars, fuel, party fund, best locations of residence in the steel town colony. Has anyone ever heard of such a humongous union?
Next to it. Employees working somewhere else, have rented their houses to someone else on higher rents and taking salary for doing nothing since past five years.
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
It was PPP and Bhutto who signed the deal with Russian to open up first steel mills in Karachi. It could be absolutely wrong to say that only PPP is responsible for the demise of PSM. The MQM and those who are now part of the Lota regime were involved with the mess of PSM and under Musharraf regime MQM induct their workers as ghost workers and destroyed whatever was left off of this mill.
There is no way the Lota regime can save this giant . They are totally inept and on loss of idea how to manage this affair. What is their promises worth ? We have seen them making 180 u turns in ever promise they make. Now the nation is used to their turn about and don't even give a two cent about their words, speeches or promises.
 

MHAMZA

Minister (2k+ posts)
It was PPP and Bhutto who signed the deal with Russian to open up first steel mills in Karachi. It could be absolutely wrong to say that only PPP is responsible for the demise of PSM. The MQM and those who are now part of the Lota regime were involved with the mess of PSM and under Musharraf regime MQM induct their workers as ghost workers and destroyed whatever was left off of this mill.
There is no way the Lota regime can save this giant . They are totally inept and on loss of idea how to manage this affair. What is their promises worth ? We have seen them making 180 u turns in ever promise they make. Now the nation is used to their turn about and don't even give a two cent about their words, speeches or promises.
I like to add that PSM was in profit during Musharaf's era and was being privatized at a good price when Iftekar Chowdery took suo moto and stopped the sale ...
Just like Recodek case this decision has cost us in billions of tax payer money...
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
I like to add that PSM was in profit during Musharaf's era and was being privatized at a good price when Iftekar Chowdery took suo moto and stopped the sale ...
Just like Recodek case this decision has cost us in billions of tax payer money...
That is true that Ch Iftikhar quashed Musharraf's attempt to privatize the PSM but the Mills was not in profit at that time .Musharraf found some interested party which was not really interested in the actual machinery and the plant of PSM but the land which is occupied by the PSM . I can tell you whose interest were there for getting that land and what they wanted to do with the actual plant Just remember Royal Palm club .
 

MHAMZA

Minister (2k+ posts)
That is true that Ch Iftikhar quashed Musharraf's attempt to privatize the PSM but the Mills was not in profit at that time .Musharraf found some interested party which was not really interested in the actual machinery and the plant of PSM but the land which is occupied by the PSM . I can tell you whose interest were there for getting that land and what they wanted to do with the actual plant Just remember Royal Palm club .
end result is loss of billions by not selling ..
 

3rd_Umpire

Minister (2k+ posts)




پی پی پی کچھ نہ کرے، بس ایک کام کرے کہ اسٹیل ملز کو اپنی تحویل میں لے اور یہاں کی تنخواہیں اپنے بجٹ میں سے دے۔

پی پی پی ضرور پوچھے کہ حکومت نے اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا، لیکن پہلے خود بھی بتائے کہ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا؟
یہ بھی بتائے کہ یہ ادارہ انھی کے دورِ حکومت کے اگلے سال سے ہی خسارے میں گیا۔ بعد از اگر نون لیگ والے ان کے ساتھ ملتے ہیں تو وہ بھی بتائیں کہ انکا تو باپ دادا کا کاروبار تھا اسٹیل انڈسٹری میں، جس سے انھوں نے پتہ نہیں کہاں کہاں اسٹیل ملز لگا کر چلا دیں، انھوں نے کیوں ۲۰۱۵ میں اس ادارے کو بلکل بند کردیا؟

ان کے سوال بنتے ہیں، اگر یہ خود جواب دینے کو راضی ہیں۔

کعبے کس منہہ سے جاوٗ گے غالبؔ؟

لیکن شرم کم از کم انکو تو نہیں آتی۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں اس اسٹیل ملز کی مینجمنٹ بدل کر اسے چلاوٗں گا اورنجکاری نہیں کرونگا۔
مگر عوام جانتی ہے، کہ عمران خان کو یو ٹرن مارنے کی عادت ہے۔

لیکن اگر یہ یو ٹرن اسٹیل ملز کو تباہی کے راستے کی طرف سے واپس ترقیّ کے راستے پر لے آتا ہے تو مجھے تو منظور ہے یہ یوٹرن۔ بجائے اس راستے کے جو سیدھا تباہی کی طرف لے جاتا ہو، وہ بھی کسی اسپیڈ بریکر کے بغیر۔

مجھے میری عقل اجازت دیتی ہے اس یو ٹرن کے لیئے، کیونکہ میں اس وقت ہنستا تھا جب عمران خان نے اپنا بیان دیا تھا کہ میں اس کی نجکاری کے بغیر اسے چلا کر دکھاوٗں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ عمران خان نے صرف اس اسٹیل ملز کو ابھی باہر سے دیکھا ہے۔ قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔

اور ابھی آپ ان لوگوں کے یو ٹرن کے رونے دیکھتے جائیں، اور ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ ان ساڑھے نو ہزار جفا کشوں میں سے کتنے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں؟
یاسین جامڑو، جو تھریک انصاف کی لیبر یونین کا صدر ہے، اس کے ساتھ آج مظاہرے کے لیئے کوئی پچیس سے تیس بندے تھے۔ پیپلز پارٹی کی لیبر یونین کے صدر جناب شمشاد قریشی کے ساتھ تو اتنے بھی نہیں تھے کہ وہ کوئی ویڈیو ہی بنا کر فیسبک پر چڑھا دیتے۔ نون لیگ اور دیگر کا حال نہ پوچھیں۔

لیکن آپ یہ دیکھیں کہ ان شمشاد قریشی کی آواز پر فوراً پیپلز پارٹی کی قادت حرکت میں آگئی۔ ۳۰ مئی کو کراچی پریس کلب میں رضا ربّانی صاحب نے پریس کانفرنس کردی، جس ہال میں بمشکل بیس بندے تھے۔ دس ان میں سے رضا ربّانی کے ساتھ آئے تھے۔

ارے جناب، جن ملازمین کا مسئلہ ہے، انھیں تو خود یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ اسٹیل ملز کا اس کے علاوہ اب کوئی حل باقی نہیں بچا۔ اس میں پچھلے دس سال میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے چھوڑا ہی کیا ہے؟ صرف اپنے بندے بھرتی کروائے، وہ بھی میرٹ کا گلا کاٹ کر۔ جو بھرتی کروائے، وہ بھی ڈیوٹی پر نہیں آتے، کوئی کام نہیں کرتے۔ خود کہیں اور رہتے ہیں اور کالونی میں ملے سرکاری گھروں کو کرائے پر چڑھا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ شمشاد قریشی صاحب بذاتِ خود، ایک چھوڑ، تین مکانوں پر قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اسٹیل ملز کے یونین ملازمین، جنکی تعداد ساڑھے نو ہزار میں سے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ ہے، ہر ماہ ڈیڑھ سو یونٹ بجلی اور گیس تو بلکل ہی مفت استعمال کرتے ہیں۔ یہ کونسی سیاست ہے کہ جس میں صرف یونین ورکروں کو مراعات ملیں اور دیگر ملازمین کوکچھ بھی نہیں؟

سوال تو ان سے سب سے پہلے پوچھنا چاہیئے کہ جب ملز دس سال سے خسارے میں جا رہی تھی، تو انھوں نے اپنی ماں جیسے اس ادارے کے ساتھ کیا برتاوٗ رکھا؟ جب ملز پانچ سال سے بند پڑی ہوئی تھی تو ان کی آوا زکو تب کیا ہوگیا تھا؟

کہتی ہے خلق خدا، تجھے غائبانہ کیا؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے ویسے ہی نہیں ان کے بارے میں ریمارکس دیئے تھے کہ ان کو گھر بیٹھ کر کھانے کی عادت ہوگئی ہے۔

اور اب اگر اسٹیل ملز کا درد انکو ستا رہا ہے، تو دنیا ان پر ہنس رہی ہے،بذات خود اسٹیل ملز کے ملازمین کے، کہ جب ان بے دردوں کو درد اٹھے تو سمجھ جائیں کہ چوٹ کسی صحیح جگہہ پر لگی ہے۔





پی پی پی کچھ نہ کرے، بس ایک کام کرے کہ اسٹیل ملز کو اپنی تحویل میں لے اور یہاں کی تنخواہیں اپنے بجٹ میں سے دے۔

پی پی پی ضرور پوچھے کہ حکومت نے اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا، لیکن پہلے خود بھی بتائے کہ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس ادارے کو چلانے کے لیئے کیا کِیا؟
یہ بھی بتائے کہ یہ ادارہ انھی کے دورِ حکومت کے اگلے سال سے ہی خسارے میں گیا۔ بعد از اگر نون لیگ والے ان کے ساتھ ملتے ہیں تو وہ بھی بتائیں کہ انکا تو باپ دادا کا کاروبار تھا اسٹیل انڈسٹری میں، جس سے انھوں نے پتہ نہیں کہاں کہاں اسٹیل ملز لگا کر چلا دیں، انھوں نے کیوں ۲۰۱۵ میں اس ادارے کو بلکل بند کردیا؟

ان کے سوال بنتے ہیں، اگر یہ خود جواب دینے کو راضی ہیں۔

کعبے کس منہہ سے جاوٗ گے غالبؔ؟

لیکن شرم کم از کم انکو تو نہیں آتی۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں اس اسٹیل ملز کی مینجمنٹ بدل کر اسے چلاوٗں گا اورنجکاری نہیں کرونگا۔
مگر عوام جانتی ہے، کہ عمران خان کو یو ٹرن مارنے کی عادت ہے۔

لیکن اگر یہ یو ٹرن اسٹیل ملز کو تباہی کے راستے کی طرف سے واپس ترقیّ کے راستے پر لے آتا ہے تو مجھے تو منظور ہے یہ یوٹرن۔ بجائے اس راستے کے جو سیدھا تباہی کی طرف لے جاتا ہو، وہ بھی کسی اسپیڈ بریکر کے بغیر۔

مجھے میری عقل اجازت دیتی ہے اس یو ٹرن کے لیئے، کیونکہ میں اس وقت ہنستا تھا جب عمران خان نے اپنا بیان دیا تھا کہ میں اس کی نجکاری کے بغیر اسے چلا کر دکھاوٗں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ عمران خان نے صرف اس اسٹیل ملز کو ابھی باہر سے دیکھا ہے۔ قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔

اور ابھی آپ ان لوگوں کے یو ٹرن کے رونے دیکھتے جائیں، اور ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ ان ساڑھے نو ہزار جفا کشوں میں سے کتنے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں؟
یاسین جامڑو، جو تھریک انصاف کی لیبر یونین کا صدر ہے، اس کے ساتھ آج مظاہرے کے لیئے کوئی پچیس سے تیس بندے تھے۔ پیپلز پارٹی کی لیبر یونین کے صدر جناب شمشاد قریشی کے ساتھ تو اتنے بھی نہیں تھے کہ وہ کوئی ویڈیو ہی بنا کر فیسبک پر چڑھا دیتے۔ نون لیگ اور دیگر کا حال نہ پوچھیں۔

لیکن آپ یہ دیکھیں کہ ان شمشاد قریشی کی آواز پر فوراً پیپلز پارٹی کی قادت حرکت میں آگئی۔ ۳۰ مئی کو کراچی پریس کلب میں رضا ربّانی صاحب نے پریس کانفرنس کردی، جس ہال میں بمشکل بیس بندے تھے۔ دس ان میں سے رضا ربّانی کے ساتھ آئے تھے۔

ارے جناب، جن ملازمین کا مسئلہ ہے، انھیں تو خود یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ اسٹیل ملز کا اس کے علاوہ اب کوئی حل باقی نہیں بچا۔ اس میں پچھلے دس سال میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے چھوڑا ہی کیا ہے؟ صرف اپنے بندے بھرتی کروائے، وہ بھی میرٹ کا گلا کاٹ کر۔ جو بھرتی کروائے، وہ بھی ڈیوٹی پر نہیں آتے، کوئی کام نہیں کرتے۔ خود کہیں اور رہتے ہیں اور کالونی میں ملے سرکاری گھروں کو کرائے پر چڑھا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ شمشاد قریشی صاحب بذاتِ خود، ایک چھوڑ، تین مکانوں پر قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اسٹیل ملز کے یونین ملازمین، جنکی تعداد ساڑھے نو ہزار میں سے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ ہے، ہر ماہ ڈیڑھ سو یونٹ بجلی اور گیس تو بلکل ہی مفت استعمال کرتے ہیں۔ یہ کونسی سیاست ہے کہ جس میں صرف یونین ورکروں کو مراعات ملیں اور دیگر ملازمین کوکچھ بھی نہیں؟

سوال تو ان سے سب سے پہلے پوچھنا چاہیئے کہ جب ملز دس سال سے خسارے میں جا رہی تھی، تو انھوں نے اپنی ماں جیسے اس ادارے کے ساتھ کیا برتاوٗ رکھا؟ جب ملز پانچ سال سے بند پڑی ہوئی تھی تو ان کی آوا زکو تب کیا ہوگیا تھا؟

کہتی ہے خلق خدا، تجھے غائبانہ کیا؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے ویسے ہی نہیں ان کے بارے میں ریمارکس دیئے تھے کہ ان کو گھر بیٹھ کر کھانے کی عادت ہوگئی ہے۔

اور اب اگر اسٹیل ملز کا درد انکو ستا رہا ہے، تو دنیا ان پر ہنس رہی ہے،بذات خود اسٹیل ملز کے ملازمین کے، کہ جب ان بے دردوں کو درد اٹھے تو سمجھ جائیں کہ چوٹ کسی صحیح جگہہ پر لگی ہے۔

انتہائی عمدہ، مدلّل، اور حقائق پر مبنی تحریر ۔ ۔ ۔ ۔
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
میرا نہیں خیال کہ حکومت کے پاس سٹیل مل کو چلانے کا کوئی درست پلان ہے
ھڈ حرام لوگوں کو نکال دیا لیکن پھر قابل لوگوں کو بھرتی کرنے کا کیا پلان ہے ؟
مشینری ساری دقیانوسی ہے اسے اپ ڈیٹ کرنے کا کیا پلان ہے ؟
سٹیل مل کے لئے بجلی ہے کیا ؟چالیس روپے یونٹ والی بجلی بیکار ہے سستی بجلی چاہیے
. . . . . . . .
حکومت کو چاہیے کہ اس مل کے لئے کمپیوٹرائز نظام وضح کرے جس سے شفافیت یقینی ہو ، اس کے علاوہ مزدوروں کی بجائے روبوٹس اور خودکار مشینری مستعمل ہو
یا
کسی پرائویٹ فرم کو مل دے دے ،جس کے ساتھ بجلی کی قیمت اور سٹیل کی قیمت کا کوئی فارمولا طے ہو
 

Musafir99

Voter (50+ posts)
It was PPP and Bhutto who signed the deal with Russian to open up first steel mills in Karachi. It could be absolutely wrong to say that only PPP is responsible for the demise of PSM. The MQM and those who are now part of the Lota regime were involved with the mess of PSM and under Musharraf regime MQM induct their workers as ghost workers and destroyed whatever was left off of this mill.
There is no way the Lota regime can save this giant . They are totally inept and on loss of idea how to manage this affair. What is their promises worth ? We have seen them making 180 u turns in ever promise they make. Now the nation is used to their turn about and don't even give a two cent about their words, speeches or promises.
Did you forget to mention that PMLN closed the mill in 2015? or was it deliberate?
 

Musafir99

Voter (50+ posts)
میرا نہیں خیال کہ حکومت کے پاس سٹیل مل کو چلانے کا کوئی درست پلان ہے
ھڈ حرام لوگوں کو نکال دیا لیکن پھر قابل لوگوں کو بھرتی کرنے کا کیا پلان ہے ؟
مشینری ساری دقیانوسی ہے اسے اپ ڈیٹ کرنے کا کیا پلان ہے ؟
سٹیل مل کے لئے بجلی ہے کیا ؟چالیس روپے یونٹ والی بجلی بیکار ہے سستی بجلی چاہیے
. . . . . . . .
حکومت کو چاہیے کہ اس مل کے لئے کمپیوٹرائز نظام وضح کرے جس سے شفافیت یقینی ہو ، اس کے علاوہ مزدوروں کی بجائے روبوٹس اور خودکار مشینری مستعمل ہو
یا
کسی پرائویٹ فرم کو مل دے دے ،جس کے ساتھ بجلی کی قیمت اور سٹیل کی قیمت کا کوئی فارمولا طے ہو
اسٹیل ملز جیسے صنعتی ادارے کو کسی ہمارے جیسے جمہوری ملک میں جہاں حکومتیں ہر پانچ سال بعد بدلتی ہوں اور عوام کا شرح خواندگی چالیس فیصد ہو، جس میں سے پچیس سے تیس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے رہتے ہوں، وہاں اسکو حکومت کے ماتحت ہونا ہی نہیں چاہیئے۔
یہ کاروباری صنعت ہے، اسے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے جو اسے کاروباری طریقے سے چلا سکیں۔
 

WatanDost

Chief Minister (5k+ posts)
پی پی پی یعنی پینے والی پلیت جماعت کا کہنا ہے کہ مریض کا کینسر زدہ حصہ مریض کے جسم میں ہی رہنے دو کیونکہ وہ ہمارے دانت گاڑے کیڑے ہیں اور بس مریض بھاگتا دھوڑتا نظر آنا چاہیے
 

Musafir99

Voter (50+ posts)
پی پی پی یعنی پینے والی پلیت جماعت کا کہنا ہے کہ مریض کا کینسر زدہ حصہ مریض کے جسم میں ہی رہنے دو کیونکہ وہ ہمارے دانت گاڑے کیڑے ہیں اور بس مریض بھاگتا دھوڑتا نظر آنا چاہیے
could not explain any better than this
👍👍👍
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
اسٹیل ملز جیسے صنعتی ادارے کو کسی ہمارے جیسے جمہوری ملک میں جہاں حکومتیں ہر پانچ سال بعد بدلتی ہوں اور عوام کا شرح خواندگی چالیس فیصد ہو، جس میں سے پچیس سے تیس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے رہتے ہوں، وہاں اسکو حکومت کے ماتحت ہونا ہی نہیں چاہیئے۔
یہ کاروباری صنعت ہے، اسے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے جو اسے کاروباری طریقے سے چلا سکیں۔
درست ہے کہ فلوقت حکومت ایسے ادارے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی

 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں