تفصیلات کے مطابق چاولوں کی برآمدی کھیپ کو لوڈ کرنے کے لیے بحری جہاز کو برتھ فراہم نہ کرنے پر پاکستان کا دو ارب روپے مالیت کا ایکسپورٹ آرڈر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
ایسٹ ونڈ شپنگ کمپنی نے خط کے ذریعے چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی سمیت پورٹ حکام کو مطلع کیا کہ پورٹ حکام نے پاکستان سے چاول کی برآمدی کھیپ لینے پہلے آنے والے جہاز کے بجائے ٹی سی پی کے لیے چینی لانے والے بحری جہاز کو برتھ فراہم کردی، اس اقدام کی وجہ سے رائس ایکسپورٹرز کو یومیہ 40 ہزار ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت بحری امور نے 5 اکتوبر کو چاول لے جانے والے جہاز کو برتھ سے ہٹا کر ٹی سی پی کی چینی کا جہاز برتھ کرنے کے احکامات جاری کئے، میری ٹائم منسٹری کے اس اقدام کی وجہ سے چاولوں کے خریدار ایل ڈی سی نے مستقبل میں پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی وزیر برائے ساحلی امور علی زیدی کے نام خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ چاول کی برآمدات سمندری کرائے بڑھنے کی وجہ سے پہلے ہی بحرانی کیفیت کا شکار ہیں، ،
چاول کی کنسائمنٹ لینے آنے والے جہاز کو برتھ دینے کی اجازت منسوخ کرکے دوسرے چینی لانے والے جہاز کو برتھ دینا ناانصافی ہے، اس سے ایکسپورٹرز کو نقصان ہوگا جن کے لیٹر آف کریڈٹ بھی ایکسپائر ہونے کے قریب ہیں۔
قائم مقام چیئرمین رائس ایکسپورٹ ایسویسی ایشن کا کہنا تھا کہ سیکریٹری میری ٹائم کے احکامات غلط ہیں، رائس ایکسپورٹرز کی محنت سے انڈیا سے چاول خریدنے والے بڑے خریدار کو پاکستان لے کر آئے ہیں لیکن محنت رائیگاں ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ تاخیر کی وجہ سے خریدار نے آئندہ پاکستان سے چاول نہ خریدنے کی دھمکی دی ہے، اس وقت 38 ہزار ٹن اور دو ارب سے زائد کا چاول پورٹ قاسم پر جانے کے لیے موجود ہے، میری ٹائم منسٹری کے اقدامات سے نہ صرف ایکسپورٹرز بلکہ ملکی ایکسپورٹ کو بھی نقصان ہو گا۔
چاول ایکسپورٹ کرنے والی ٹریڈنگ کمپنی نے پورٹ اتھارٹیز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/20211007_220700.jpg