
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 11.6فیصد گراوٹ
پاکستان کی بڑی صنعتوں میں گراوٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12فیصد بڑھ گئی، اندازوں سے زیادہ ہے جب کہ گراوٹ کی بنیادی وجہ سپلائی چین کی مشکلات، فیول کی بڑھتی لاگت، معاشی گراوٹ اور حکومتی پالیسیوں کی بے یقینی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.6فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، حکومت کی جانب سے امپورٹس پر پابندیوں کے باعث پاکستان میں صنعتیں بد حالی کا شکار ہیں، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے خام مال کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے سپلائی چین میں تعطل اور مشکلات، امپورٹس پر پابندیوں، فیول کوسٹ میں اضافے، حکومتی پالیسیوں میں تذبذب، ڈومیسٹک اور گلوبل ڈیمانڈ میں کمی نے انڈسٹری اور سروس سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
عالمی بینک نے رواں مالی سال کے دوران انڈسٹریل اور ایگریکلچر سیکٹر میں منفی 0.4 فیصد جی ڈی پی گروتھ ریٹ کی پیشگوئی کی ہے۔
گراوٹ میں اگلے مہینوں میں مزید اضافہ ہوگا،حکومت نے امپورٹ پر پابندی کی پالیسی اختیار کرکے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، وزارت خزانہ، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ رواں برس جی ڈی پی گروتھ ریٹ 1فیصد رہے گا۔
حکومت نے یہ اندازہ 5.1 فیصد لگایا تھا،گزشتہ آٹھ ماہ میں22 میں سے18 صنعتوں میں زوال پذیری کا عنصر غالب رہا، جبکہ صرف کلاتھنگ، لیدر پراڈکٹ اور فرنیچر سمیت دیگر سیکٹرز کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
لارج اسکیل سیکٹر ملکی معیشت میں سب سے زیادہ ریونیو اور ملازمتیں پیدا کرتا ہے،اس لیے اس میں کوئی بھی منفی تبدیلی ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ منفی گروتھ میں سب سے زیادہ حصہ فوڈ، تمباکو، ٹیکسٹائل، پیٹرولیم پراڈکٹ، اور سیمنٹ سیکٹر نے ادا کیا ہے۔
امپورٹس پر پابندیوں سے سے فارماسیوٹیکلز اور آٹو موبائل سیکٹر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کیمیکل، نان میٹالک منرل پراڈکٹس، مشینری اور ایکوپمنٹ اور ٹراسپورٹ ایکوپمنٹ سیکٹر بھی حکومتی پالیسیوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔