atensari
(50k+ posts) بابائے فورم
عمران خان اور آئی ایم ایف: پاکستان کا ’بیل آؤٹ المیہ‘ ہے کیا
پاکستان میں عام الیکشن کی فاتح تحریک انصاف کے عمران خان کے پاس وزیر اعظم بننے اور حکومت سازی کے بعد سوچ بچار کے لیے زیادہ وقت نہیں ہو گا۔ انہیں ملکی معیشت کی نازک حالت میں بہتری لانے سمیت بہت سے کام بہت جلد کرنا ہوں گے۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ تین اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق چند ہی روز بعد عمران خان کے پاس اس کام کے لیے کوئی وقت نہیں بچے گا کہ وہ اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف یا پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کے جشن مناتے رہیں۔
پاکستان کے اگلے وزیر اعظم کو جس داخلی، اقتصادی اور سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں نئی حکومت کو کئی معاملات پر فوری اور نتیجہ خیز انداز میں توجہ دینا پڑے گی۔ ان معاملات میں ملکی معیشت کی بہت نازک صورت حال سرفہرست ہے۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کو اگلے چند ہی ہفتوں میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے اپنے ملک کے لیے ایک نیا مالیاتی بیل آؤٹ پیکج لینا پڑے گا۔ کئی عام پاکستانی شہری یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اس ملک کے موجودہ بہت شدید اقتصادی اور مالیاتی مسائل ہیں کیا؟ ماہرین کے مطابق ان مسائل کی مندرجہ ذیل پہلوؤں سے درجہ بندی کی جا سکتی ہے:
مالی ادائیگیوں کے توازن کا بحران
جنوبی ایشیا کی یہ ریاست، جو ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، مالی ادائیگیوں کے توازن کے ایک بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ ممکنہ بحران اس ملک کی کرنسی یعنی پاکستانی روپے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے اور یوں پاکستان کی اپنے ذمے قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے لیے مالی ادائیگیاں کرنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
بجٹ میں بےتحاشا خسارہ
پاکستان کے سالانہ بجٹ میں مالی خسارہ گزشتہ پانچ برسوں میں مسلسل بڑھا ہے اور اب اس کا تناسب تشویش ناک حد تک زیادہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے اس بجٹ خسارے کی شرح 2013ء میں چار فیصد سے بڑھ کر اب 10 فیصد ہو چکی ہے۔
بہت مہنگی درآمدات
گزشتہ کئی برسوں، خاص کر پچھلے پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں درآمد کی جانے والی مصنوعات کا حجم اور مالیت بہت زیادہ ہو چکے ہیں، زیادہ تر بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بھی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جولائی 2017ء اور مارچ 2018ء کے درمیانی نو ماہ کے عرصے میں پاکستان نے اپنے ہاں درآمدات کے لیے جتنی بھی مالی ادائیگیاں کیں، ان میں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 70 فیصد ادائیگیاں صرف تیل، مشینری اور مختلف دھاتوں کی درآمد کی مد میں کی گئی تھیں۔
برآمدات میں اضافہ غیر تسلی بخش
پاکستانی معیشت کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے حجم میں فرق گزشتہ برسوں میں بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی برآمدات کی مالیت ملکی درآمدات کی مالیت سے بہت کم ہے۔ اس ملک کی زیادہ تر برآمدات ٹیکسٹائل کے شعبے کی مصنوعات ہوتی ہیں اور ماضی قریب میں ان برآمدات کی شرح میں اضافہ بہت معمولی رہا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی
ان جملہ وجوہات کی وجہ سے پاکستانی ریاست کے پاس موجود زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے اور اس وقت ان کی مالیت کم ہو کر قریب 10.3 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو حال ہی میں ملک کی موجودہ نگران حکومت کی طرف سے باقاعدہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق زر مبادلہ کے اتنے کم ذخائر اس لیے پریشانی کا باعث ہیں کہ ان رقوم کے ساتھ پاکستان مستقبل میں اپنی صرف دو ماہ یا اس سے بھی کم عرصے کی درآمدات کا بل ادا کرنے کے قابل ہی ہو سکتا ہے۔
اکثر لوگوں کو دشمنی مہنگی پڑتی ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو شاید بھارتی وزیراعظم کی دوستی بھاری پڑی۔ نواز شریف کی نریندر مودی سے پہلی ملاقات ان کی حلف برداری کی تقریب میں 2014ء میں ہوئی۔ اس کے بعد 2015ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مودی نے نواز شریف کو روک کر مصافحہ کیا۔ چند روز بعد بھارتی وزیراعظم نے افغانستان کے لیے اڑان بھری لیکن پھر اچانک لاہور پہنچ گئے۔
روپے کی قدر میں کمی
پاکستانی کرنسی روپے کے لیے مشکل یہ ہے کہ درآمدات زیادہ، برآمدات کم اور پھر بجٹ میں خسارہ، یہ سب ایسے اسباب ہیں، جو ملکی کرنسی پر دباؤ کی وجہ بنتے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت گزشتہ برس دسمبر سے اب تک روپے کی قدر میں چار مرتبہ کمی بھی کر چکی ہے، جس کا نتیجہ افراط زر کی مزید اونچی شرح کی صورت میں نکلا ہے۔
پچھلے پانچ سالوں کی غلطیاں
پاکستان کی گزشتہ منتخب حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کیا کیا غلطیاں کیں، ان کی چند لفظوں میں وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے پچھلے چار پانچ سالوں میں پاگلوں کی طرح قرضے لیے۔ اب ان کی واپسی کا وقت ہے۔ لیکن ہمارے پاس اب زر مبادلہ کے ذخائر ہیں ہی نہیں۔ تو یہ قرضے واپس کیسے کیے جائیں گے؟‘‘
ہر بار آخری لمحے پر آئی ایم ایف سے مدد
پاکستان 1980 کی دہائی کے اواخر سے اب تک کئی بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے اپنے لیے قرضے لے چکا ہے۔ آخری مرتبہ یہ قرضے 2013ء میں لیے گئے تھے۔ تب اسلام آباد نے اسی طرح کے ایک بحران کو روکنے کے لیے، جس طرح کے بحران کا اب پھر خطرہ ہے، آئی ایم ایف سے 6.6 ارب ڈالر کے قرضے لیے تھے۔
پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ایک مالیاتی مشاورتی فرم ’انسائٹ سکیوریٹیز‘ کے ڈائریکٹر ذیشان افضل کے مطابق، ’’پاکستان کو اس وقت کم از کم بھی 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔‘‘ کئی دیگر ماہرین کے بقول پاکستان اس وقت اپنے لیے جن زیادہ سے زیادہ نئے قرضوں کی امید لگائے بیٹھا ہے، ان کی مالیت قریب 6.5 ارب ڈالر بنتی ہے۔
Source
پاکستان میں عام الیکشن کی فاتح تحریک انصاف کے عمران خان کے پاس وزیر اعظم بننے اور حکومت سازی کے بعد سوچ بچار کے لیے زیادہ وقت نہیں ہو گا۔ انہیں ملکی معیشت کی نازک حالت میں بہتری لانے سمیت بہت سے کام بہت جلد کرنا ہوں گے۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ تین اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق چند ہی روز بعد عمران خان کے پاس اس کام کے لیے کوئی وقت نہیں بچے گا کہ وہ اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف یا پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کے جشن مناتے رہیں۔
پاکستان کے اگلے وزیر اعظم کو جس داخلی، اقتصادی اور سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں نئی حکومت کو کئی معاملات پر فوری اور نتیجہ خیز انداز میں توجہ دینا پڑے گی۔ ان معاملات میں ملکی معیشت کی بہت نازک صورت حال سرفہرست ہے۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کو اگلے چند ہی ہفتوں میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے اپنے ملک کے لیے ایک نیا مالیاتی بیل آؤٹ پیکج لینا پڑے گا۔ کئی عام پاکستانی شہری یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اس ملک کے موجودہ بہت شدید اقتصادی اور مالیاتی مسائل ہیں کیا؟ ماہرین کے مطابق ان مسائل کی مندرجہ ذیل پہلوؤں سے درجہ بندی کی جا سکتی ہے:
مالی ادائیگیوں کے توازن کا بحران
جنوبی ایشیا کی یہ ریاست، جو ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، مالی ادائیگیوں کے توازن کے ایک بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ ممکنہ بحران اس ملک کی کرنسی یعنی پاکستانی روپے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے اور یوں پاکستان کی اپنے ذمے قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے لیے مالی ادائیگیاں کرنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
بجٹ میں بےتحاشا خسارہ
پاکستان کے سالانہ بجٹ میں مالی خسارہ گزشتہ پانچ برسوں میں مسلسل بڑھا ہے اور اب اس کا تناسب تشویش ناک حد تک زیادہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے اس بجٹ خسارے کی شرح 2013ء میں چار فیصد سے بڑھ کر اب 10 فیصد ہو چکی ہے۔
بہت مہنگی درآمدات
گزشتہ کئی برسوں، خاص کر پچھلے پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں درآمد کی جانے والی مصنوعات کا حجم اور مالیت بہت زیادہ ہو چکے ہیں، زیادہ تر بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بھی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جولائی 2017ء اور مارچ 2018ء کے درمیانی نو ماہ کے عرصے میں پاکستان نے اپنے ہاں درآمدات کے لیے جتنی بھی مالی ادائیگیاں کیں، ان میں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 70 فیصد ادائیگیاں صرف تیل، مشینری اور مختلف دھاتوں کی درآمد کی مد میں کی گئی تھیں۔
برآمدات میں اضافہ غیر تسلی بخش
پاکستانی معیشت کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے حجم میں فرق گزشتہ برسوں میں بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی برآمدات کی مالیت ملکی درآمدات کی مالیت سے بہت کم ہے۔ اس ملک کی زیادہ تر برآمدات ٹیکسٹائل کے شعبے کی مصنوعات ہوتی ہیں اور ماضی قریب میں ان برآمدات کی شرح میں اضافہ بہت معمولی رہا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی
ان جملہ وجوہات کی وجہ سے پاکستانی ریاست کے پاس موجود زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے اور اس وقت ان کی مالیت کم ہو کر قریب 10.3 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو حال ہی میں ملک کی موجودہ نگران حکومت کی طرف سے باقاعدہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق زر مبادلہ کے اتنے کم ذخائر اس لیے پریشانی کا باعث ہیں کہ ان رقوم کے ساتھ پاکستان مستقبل میں اپنی صرف دو ماہ یا اس سے بھی کم عرصے کی درآمدات کا بل ادا کرنے کے قابل ہی ہو سکتا ہے۔
اکثر لوگوں کو دشمنی مہنگی پڑتی ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو شاید بھارتی وزیراعظم کی دوستی بھاری پڑی۔ نواز شریف کی نریندر مودی سے پہلی ملاقات ان کی حلف برداری کی تقریب میں 2014ء میں ہوئی۔ اس کے بعد 2015ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مودی نے نواز شریف کو روک کر مصافحہ کیا۔ چند روز بعد بھارتی وزیراعظم نے افغانستان کے لیے اڑان بھری لیکن پھر اچانک لاہور پہنچ گئے۔
روپے کی قدر میں کمی
پاکستانی کرنسی روپے کے لیے مشکل یہ ہے کہ درآمدات زیادہ، برآمدات کم اور پھر بجٹ میں خسارہ، یہ سب ایسے اسباب ہیں، جو ملکی کرنسی پر دباؤ کی وجہ بنتے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت گزشتہ برس دسمبر سے اب تک روپے کی قدر میں چار مرتبہ کمی بھی کر چکی ہے، جس کا نتیجہ افراط زر کی مزید اونچی شرح کی صورت میں نکلا ہے۔
پچھلے پانچ سالوں کی غلطیاں
پاکستان کی گزشتہ منتخب حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کیا کیا غلطیاں کیں، ان کی چند لفظوں میں وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے پچھلے چار پانچ سالوں میں پاگلوں کی طرح قرضے لیے۔ اب ان کی واپسی کا وقت ہے۔ لیکن ہمارے پاس اب زر مبادلہ کے ذخائر ہیں ہی نہیں۔ تو یہ قرضے واپس کیسے کیے جائیں گے؟‘‘
ہر بار آخری لمحے پر آئی ایم ایف سے مدد
پاکستان 1980 کی دہائی کے اواخر سے اب تک کئی بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے اپنے لیے قرضے لے چکا ہے۔ آخری مرتبہ یہ قرضے 2013ء میں لیے گئے تھے۔ تب اسلام آباد نے اسی طرح کے ایک بحران کو روکنے کے لیے، جس طرح کے بحران کا اب پھر خطرہ ہے، آئی ایم ایف سے 6.6 ارب ڈالر کے قرضے لیے تھے۔
پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ایک مالیاتی مشاورتی فرم ’انسائٹ سکیوریٹیز‘ کے ڈائریکٹر ذیشان افضل کے مطابق، ’’پاکستان کو اس وقت کم از کم بھی 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔‘‘ کئی دیگر ماہرین کے بقول پاکستان اس وقت اپنے لیے جن زیادہ سے زیادہ نئے قرضوں کی امید لگائے بیٹھا ہے، ان کی مالیت قریب 6.5 ارب ڈالر بنتی ہے۔
Source
- Featured Thumbs
- https://www.dw.com/image/44841106_303.jpg