نواز شریف بمقابلہ عمران خان۔۔ ایک جائزہ۔

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دکھ نہ ہوتا تو کیسے پتا چلتا کہ سکھ کیا ہے، کڑواہٹ نہ ہوتی تو مٹھاس کا کیسے پتا چلتا۔ ایسے ہی اگر عمران خان جیسا نالائق شخص حکومت میں نہ آتا تو ہمیں کیسے احساس ہوتا کہ نوازشریف میں کیا کیا خوبیاں ہیں، نواز شریف کو تو ہم نے فار گرانٹڈ لیا ہوا تھا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوازشریف نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں،مگر جلاوطنی کے بعد نوازشریف ایک سیاسی مدبر کے طور پر ابھرا۔ میری نظر میں سیاسی مدبر وہ ہے جو مقبول عوامی رائے سے مخالف چلنے کی ہمت رکھتا ہوں۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کی صحیح رہنمائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔۔ چند چیدہ چیدہ چیزیں ہیں جو میری نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہیں، نوازشریف اور عمران خان دونوں کی شخصیات کا موازنہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔۔

خارجہ پالیسی
اس کے باوجود کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی ذہن سازی بھارت مخالف کی گئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ بھارت کے ساتھ اِٹ کھڑکا چلتا رہے، مگر آپ نوٹ کریں گے کہ نوازشریف نے اپنے پورے دورِ حکومت میں پاکستانی عوام کے اس رویے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھے یا یوں کہیں قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ کو سابقہ دورِ حکومت میں نواز شریف کا ایک بھی بیان ایسا نہیں ملے گا جو اس نے بھارت کے خلاف دیا ہو، ادھر عمران خان کو ملاحظہ کریں، کہ ہر روز صبح اٹھ کر بچوں کی طرح مودی کے خلاف ٹویٹ کردیتا ہے، اپنی تقریروں میں بچگانہ بڑھک بازی کرتا رہتا ہے۔نوازشریف دور میں بھی فرانس کے خلاف مذہبی معاملات کو لے کر کئی بار آوازیں اٹھیں، مگر نواز شریف نے ایک بار بھی فرانس کے خلاف بیان بازی نہیں کی۔ کیونکہ نوازشریف اس بات کو سمجھتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر تعلقات ہی پاکستان کے حق میں ہیں۔ نوازشریف نے سعودی عرب کے ساتھ بھی بہتر تعلقات بنائے رکھے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی بہتر تعلقات رکھے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں فرانس، سعودی عرب، انڈیا سب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ آچکا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کو دیا گیا تین ارب ڈالر بھی واپس لے لیا ہے نتیجتاً عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑ رگڑ کر پچاس کروڑ ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔۔

ذمہ دارانہ گفتگو
نوازشریف جب ہاتھ میں پرچیاں پکڑ کر گفتگو کرتا تھا تو پاکستان کا بچگانہ ذہن کا طبقہ اس کا مذاق اڑاتا تھا، مگر عمران خان کی بونگیاں سن سن کر اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ نوازشریف کی یہ سٹریٹجی نہایت ہی دانشمندانہ تھی۔ نوازشریف چونکہ نپی تلی گفتگو کرنے کا عادی ہے، اس لئے اس نے جو بھی کہنا ہو وہ لکھ لیتا ہے۔ چونکہ اس کو احساس تھا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہے اور اس کی کہی گئی بات کی اہمیت ہے۔ مگر دوسری طرف عمران خان کو دیکھ لیں، ابھی بھی ایسے گفتگو کرتا ہے جیسے کنٹینر پر کھڑا ہوا تھڑے کا سیاستدان ہو، جو منہ میں آئے اگلتا جاتا ہے، کبھی مریم نواز کے لیول پر گر کر اسے جگتیں مارنے لگتا ہے، کبھی خواجہ آصف کی نقلیں اتارتا ہے، کبھی بلاول کی نقلیں اتارتا ہے، کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ شخص پاکستان کا وزیراعظم ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نقلچی مسخرے کو اٹھا کر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہو۔۔

کارکردگی
جہاں تک کارکردگی کی بات ہے تو نوازشریف نے جس طرح پانچ سال میں پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، وہ تو عمران خان کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا، اتنے کم وقت میں پاکستان کو اتنے بڑے مسئلے سے نجات دلادی۔ ذرا تصور کیجئے 2013 میں کس طرح پوری پاکستانی قوم بلبلا رہی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اور جب نوازشریف 2018 میں جاتا ہے تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ یوں ختم ہوچکا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ ملکی معیشت کا پہیا تیزی سے چل رہا تھا، جب ملکی معیشت چل رہی ہو تو قرضوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، قرضے تو امریکہ اور چائنا جیسی ریاستوں نے بھی لئے ہوئے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اکانومی رکی ہوئی نہیں ہونی چاہئے، جب سے عمران خان آیا ہے پاکستان کی اکانومی سٹیگننٹ پڑی ہے، انفلیشن کو پر لگے ہوئے ہیں اور انویسٹمنٹ آکوئی نہیں رہی۔ جس طرح اس احمق شخص نے ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام کی فضا قائم کررکھی ہے، ایسے میں فارن انویسٹنمٹ کیسے آسکتی ہے؟ یہ شخص اتنا نااہل ہے کہ اس سے تو پشاور بی آر ٹی نہیں بنی۔ یہ کہتا تھا کہ نوازشریف سڑکیں بناتا ہے، میں آکر ادارے بناؤں گا۔ اب حال دیکھ لیں، ادارے تو دور کی بات اس سے تو سڑکیں بھی نہیں بن رہیں۔

سی پیک کا سہرا بھی نواز شریف کے سر جاتا ہے، اس نالائق نے تو آکر سی پیک کو بھی روک دیا۔

پاک وہیلز کے اونر سنیل سرفراز منج کے مطابق پاکستان میں آٹو انڈسٹری کیلئے سب سے بہتر نوازشریف حکومت رہی اور نوازشریف کی 2016 کی آٹو پالیسی کی وجہ سے ہی پاکستان میں تیرہ چودہ پلانٹ لگے گاڑیوں کے اور چند کمپنیوں کی بنائی ہوئی مونوپلی ٹوٹ رہی ہے۔

مذہبی منافرت سے گریز
نوازشریف کا ایک اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس نے ملک میں مذہبی شدت پسندی کو کبھی ہوا نہیں دی، نہ ہی اس نے کبھی مذہب کا چولہ اوڑھ کر لوگوں کو بے وقوف بنا کر ووٹ بٹورنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے جس طرح فرانس کے خلاف مسلسل بیان بازی کی، اس سے ملک بھر میں آئے روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کسی پر گستاخی اور توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کررہا ہوتا ہے، ابھی کل ہی شورکوٹ میں ایک شخص نے سڑک پر کلہاڑیوں کے وار کرکے ایک شیعہ شخص کو قتل کردیا جس پر کچھ عرصہ قبل توہینِ صحابہ کا الزام لگا تھا۔ فرانس میں جو شخص چارلی ہیبڈو کے پرانے دفتر کے باہر نہتے لوگوں کو خنجر مارنے کے بعد پکڑا گیا، اس نے فرانس میں بیان دیا ہے کہ اس نے عمران خان اور مولوی خادم رضوی کی تقریریں سن کر حملہ کرنے کا پلان بنایا۔ جب ملک کا حکمران اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے کیلئے شدت پسندی کو ہوا دینے لگ پڑے تو نتیجہ یہی نکلنا ہے۔ اس معاملے میں نوازشریف ہزار درجے بہتر تھا، نہ تو وہ اپنی تقریروں کا آغاز قرآنی آیتوں سے کرتا تھا، نہ ہی مذہبی بڑھک بازیاں کرتا تھا، سب جانتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذاتی زندگی میں ایک آزاد خیال اور شوقین مزاج آدمی ہے، ٹیرین خان اس کی رنگین مزاجی کا زندہ اور جیتاجاگتا ثبوت ہے، سیتا وائٹ اس کی زندگی کا اصل چہرہ ہے، اس کے باوجود عوامی سطح پر وہ مذہبی چادر اوڑھ لیتا ہے سادہ لوگوں کے جذبات کا استحصال کرکے مقبولیت بٹورنے کیلئے۔۔ اگر نوازشریف چاہے تو وہ بھی ایسا کرسکتا ہے، مگر وہ ان معاملات سے دور رہتا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی ذات میں شفاف انسان کون ہے۔۔


پی ٹی آئی کے بچگانہ ذہن کے سپورٹرز نوازشریف پر الزام لگاتے ہیں کہ نوازشریف کرپٹ ہے۔۔ اس کا تصفیہ تو ابھی ہوسکتا ہے، عمران خان اپنی تقریروں میں کہتا تھا کہ ہزاروں ارب روپیہ سالانہ نوازشریف حکومت کرپشن کرکے باہر منتقل کردیتی ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پچھلے تین سال سے عمران خان کی حکومت ہے، کم از کم وہ ہزاروں ارب روپیہ تو بچنا چاہئے جو ان کے بقول نوازشریف چوری کرکے باہر منتقل کردیتا تھا۔ کہاں ہے وہ ہزاروں ارب روپیہ، یہ بھکاری کہیں وہ ہزاروں ارب روپے اپنی جیب میں تو نہیں ڈال لیتا۔۔۔ ہے کسی کے پاس حساب۔۔؟؟۔

5c8102fed0514.jpg
 
Advertisement

Resiliant

Senator (1k+ posts)
کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دکھ نہ ہوتا تو کیسے پتا چلتا کہ سکھ کیا ہے، کڑواہٹ نہ ہوتی تو مٹھاس کا کیسے پتا چلتا۔ ایسے ہی اگر عمران خان جیسا نالائق شخص حکومت میں نہ آتا تو ہمیں کیسے احساس ہوتا کہ نوازشریف میں کیا کیا خوبیاں ہیں، نواز شریف کو تو ہم نے فار گرانٹڈ لیا ہوا تھا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوازشریف نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں،مگر جلاوطنی کے بعد نوازشریف ایک سیاسی مدبر کے طور پر ابھرا۔ میری نظر میں سیاسی مدبر وہ ہے جو مقبول عوامی رائے سے مخالف چلنے کی ہمت رکھتا ہوں۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کی صحیح رہنمائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔۔ چند چیدہ چیدہ چیزیں ہیں جو میری نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہیں، نوازشریف اور عمران خان دونوں کی شخصیات کا موازنہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔۔

خارجہ پالیسی
اس کے باوجود کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی ذہن سازی بھارت مخالف کی گئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ بھارت کے ساتھ اِٹ کھڑکا چلتا رہے، مگر آپ نوٹ کریں گے کہ نوازشریف نے اپنے پورے دورِ حکومت میں پاکستانی عوام کے اس رویے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھے یا یوں کہیں قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ کو سابقہ دورِ حکومت میں نواز شریف کا ایک بھی بیان ایسا نہیں ملے گا جو اس نے بھارت کے خلاف دیا ہو، ادھر عمران خان کو ملاحظہ کریں، کہ ہر روز صبح اٹھ کر بچوں کی طرح مودی کے خلاف ٹویٹ کردیتا ہے، اپنی تقریروں میں بچگانہ بڑھک بازی کرتا رہتا ہے۔نوازشریف دور میں بھی فرانس کے خلاف مذہبی معاملات کو لے کر کئی بار آوازیں اٹھیں، مگر نواز شریف نے ایک بار بھی فرانس کے خلاف بیان بازی نہیں کی۔ کیونکہ نوازشریف اس بات کو سمجھتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر تعلقات ہی پاکستان کے حق میں ہیں۔ نوازشریف نے سعودی عرب کے ساتھ بھی بہتر تعلقات بنائے رکھے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی بہتر تعلقات رکھے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں فرانس، سعودی عرب، انڈیا سب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ آچکا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کو دیا گیا تین ارب ڈالر بھی واپس لے لیا ہے نتیجتاً عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑ رگڑ کر پچاس کروڑ ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔۔

ذمہ دارانہ گفتگو
نوازشریف جب ہاتھ میں پرچیاں پکڑ کر گفتگو کرتا تھا تو پاکستان کا بچگانہ ذہن کا طبقہ اس کا مذاق اڑاتا تھا، مگر عمران خان کی بونگیاں سن سن کر اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ نوازشریف کی یہ سٹریٹجی نہایت ہی دانشمندانہ تھی۔ نوازشریف چونکہ نپی تلی گفتگو کرنے کا عادی ہے، اس لئے اس نے جو بھی کہنا ہو وہ لکھ لیتا ہے۔ چونکہ اس کو احساس تھا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہے اور اس کی کہی گئی بات کی اہمیت ہے۔ مگر دوسری طرف عمران خان کو دیکھ لیں، ابھی بھی ایسے گفتگو کرتا ہے جیسے کنٹینر پر کھڑا ہوا تھڑے کا سیاستدان ہو، جو منہ میں آئے اگلتا جاتا ہے، کبھی مریم نواز کے لیول پر گر کر اسے جگتیں مارنے لگتا ہے، کبھی خواجہ آصف کی نقلیں اتارتا ہے، کبھی بلاول کی نقلیں اتارتا ہے، کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ شخص پاکستان کا وزیراعظم ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نقلچی مسخرے کو اٹھا کر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہو۔۔

کارکردگی
جہاں تک کارکردگی کی بات ہے تو نوازشریف نے جس طرح پانچ سال میں پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، وہ تو عمران خان کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا، اتنے کم وقت میں پاکستان کو اتنے بڑے مسئلے سے نجات دلادی۔ ذرا تصور کیجئے 2013 میں کس طرح پوری پاکستانی قوم بلبلا رہی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اور جب نوازشریف 2018 میں جاتا ہے تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ یوں ختم ہوچکا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ ملکی معیشت کا پہیا تیزی سے چل رہا تھا، جب ملکی معیشت چل رہی ہو تو قرضوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، قرضے تو امریکہ اور چائنا جیسی ریاستوں نے بھی لئے ہوئے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اکانومی رکی ہوئی نہیں ہونی چاہئے، جب سے عمران خان آیا ہے پاکستان کی اکانومی سٹیگننٹ پڑی ہے، انفلیشن کو پر لگے ہوئے ہیں اور انویسٹمنٹ آکوئی نہیں رہی۔ جس طرح اس احمق شخص نے ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام کی فضا قائم کررکھی ہے، ایسے میں فارن انویسٹنمٹ کیسے آسکتی ہے؟ یہ شخص اتنا نااہل ہے کہ اس سے تو پشاور بی آر ٹی نہیں بنی۔ یہ کہتا تھا کہ نوازشریف سڑکیں بناتا ہے، میں آکر ادارے بناؤں گا۔ اب حال دیکھ لیں، ادارے تو دور کی بات اس سے تو سڑکیں بھی نہیں بن رہیں۔

سی پیک کا سہرا بھی نواز شریف کے سر جاتا ہے، اس نالائق نے تو آکر سی پیک کو بھی روک دیا۔

پاک وہیلز کے اونر سنیل سرفراز منج کے مطابق پاکستان میں آٹو انڈسٹری کیلئے سب سے بہتر نوازشریف حکومت رہی اور نوازشریف کی 2016 کی آٹو پالیسی کی وجہ سے ہی پاکستان میں تیرہ چودہ پلانٹ لگے گاڑیوں کے اور چند کمپنیوں کی بنائی ہوئی مونوپلی ٹوٹ رہی ہے۔

مذہبی منافرت سے گریز
نوازشریف کا ایک اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس نے ملک میں مذہبی شدت پسندی کو کبھی ہوا نہیں دی، نہ ہی اس نے کبھی مذہب کا چولہ اوڑھ کر لوگوں کو بے وقوف بنا کر ووٹ بٹورنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے جس طرح فرانس کے خلاف مسلسل بیان بازی کی، اس سے ملک بھر میں آئے روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کسی پر گستاخی اور توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کررہا ہوتا ہے، ابھی کل ہی شورکوٹ میں ایک شخص نے سڑک پر کلہاڑیوں کے وار کرکے ایک شیعہ شخص کو قتل کردیا جس پر کچھ عرصہ قبل توہینِ صحابہ کا الزام لگا تھا۔ فرانس میں جو شخص چارلی ہیبڈو کے پرانے دفتر کے باہر نہتے لوگوں کو خنجر مارنے کے بعد پکڑا گیا، اس نے فرانس میں بیان دیا ہے کہ اس نے عمران خان اور مولوی خادم رضوی کی تقریریں سن کر حملہ کرنے کا پلان بنایا۔ جب ملک کا حکمران اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے کیلئے شدت پسندی کو ہوا دینے لگ پڑے تو نتیجہ یہی نکلنا ہے۔ اس معاملے میں نوازشریف ہزار درجے بہتر تھا، نہ تو وہ اپنی تقریروں کا آغاز قرآنی آیتوں سے کرتا تھا، نہ ہی مذہبی بڑھک بازیاں کرتا تھا، سب جانتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذاتی زندگی میں ایک آزاد خیال اور شوقین مزاج آدمی ہے، ٹیرین خان اس کی رنگین مزاجی کا زندہ اور جیتاجاگتا ثبوت ہے، سیتا وائٹ اس کی زندگی کا اصل چہرہ ہے، اس کے باوجود عوامی سطح پر وہ مذہبی چادر اوڑھ لیتا ہے سادہ لوگوں کے جذبات کا استحصال کرکے مقبولیت بٹورنے کیلئے۔۔ اگر نوازشریف چاہے تو وہ بھی ایسا کرسکتا ہے، مگر وہ ان معاملات سے دور رہتا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی ذات میں شفاف انسان کون ہے۔۔


پی ٹی آئی کے بچگانہ ذہن کے سپورٹرز نوازشریف پر الزام لگاتے ہیں کہ نوازشریف کرپٹ ہے۔۔ اس کا تصفیہ تو ابھی ہوسکتا ہے، عمران خان اپنی تقریروں میں کہتا تھا کہ ہزاروں ارب روپیہ سالانہ نوازشریف حکومت کرپشن کرکے باہر منتقل کردیتی ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پچھلے تین سال سے عمران خان کی حکومت ہے، کم از کم وہ ہزاروں ارب روپیہ تو بچنا چاہئے جو ان کے بقول نوازشریف چوری کرکے باہر منتقل کردیتا تھا۔ کہاں ہے وہ ہزاروں ارب روپیہ، یہ بھکاری کہیں وہ ہزاروں ارب روپے اپنی جیب میں تو نہیں ڈال لیتا۔۔۔ ہے کسی کے پاس حساب۔۔؟؟۔

5c8102fed0514.jpg

نواز شریف کے دور میں پاکستان نے سعودیوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھے مگر اس سے پاکستان کی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دی ، پاکستان نے یمن جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ، اس کا خمیازہ نواز شریف کو بھگتنا پڑا جب امارات نے نواز شریف کے مالی معاملات سے متعلق غلط رپورٹیں دیں جو بعد میں ثابت نہ ہوسکیں لیکن نواز شریف کی ناہلی کا سبب بنیں

یار دوستوں نے "شکریہ شریف" کے سر منڈھ دیا جو نوکری سے فراغت کے بعد یمن جنگ کا انچارج لگ گیا

جبکہ عمران خان نے پاکستان کی خودمختاری کی اس قدر واٹ لگادی کہ پاکستان اعلان کرکے بھی ایک ٹیوی چینل تک نہ کھول سکا اور سلیکٹڈ کو ملائشیا کا طے شدہ دورہ تک نہ کرنے دیا گیا

ابھی آج کی خبر دیکھیں
ExeKe4HWUAAhvuG
 
Last edited:

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
نواز شریف کے دور میں پاکستان نے سعودیوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھے مگر اس سے پاکستان کی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دی ، پاکستان نے یمن جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ، اس کا خمیازہ نواز شریف کو بھگتنا پڑا جب امارات نے نواز شریف کے مالی معاملات سے متعلق غلط رپورٹیں دیں جو بعد میں ثابت نہ ہوسکیں لیکن نواز شریف کی ناہلی کا سبب بنیں

یار دوستوں نے "شکریہ شریف" کے سر منڈھ دیا جو نوکری سے فراغت کے بعد یمن جنگ کا انچارج لگ گیا

جبکہ عمران خان نے پاکستان کی خودمختاری کی اس قدر واٹ لگادی کہ پاکستان اعلان کرکے بھی ایک ٹیوی چینل تک نہ کھول سکا اور سلیکٹڈ کو ملائشیا کا طے شدہ دورہ تک نہ کرنے دیا گیا

ابھی آج کی خبر دیکھیں
ExeKe4HWUAAhvuG

مجھے یقین ہے اگر اسٹیبلشمنٹ بیچ میں نقب نہ لگاتی اور یہ پانچ سال بھی نوازشریف کو مل جاتے تو وہ اپنی پالیسیوں کا تسلسل رکھ پاتا اور آج پاکستان کہیں بہتر حالت میں ہوتا۔۔۔
 

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣



کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دکھ نہ ہوتا تو کیسے پتا چلتا کہ سکھ کیا ہے، کڑواہٹ نہ ہوتی تو مٹھاس کا کیسے پتا چلتا۔ ایسے ہی اگر عمران خان جیسا نالائق شخص حکومت میں نہ آتا تو ہمیں کیسے احساس ہوتا کہ نوازشریف میں کیا کیا خوبیاں ہیں، نواز شریف کو تو ہم نے فار گرانٹڈ لیا ہوا تھا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوازشریف نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں،مگر جلاوطنی کے بعد نوازشریف ایک سیاسی مدبر کے طور پر ابھرا۔ میری نظر میں سیاسی مدبر وہ ہے جو مقبول عوامی رائے سے مخالف چلنے کی ہمت رکھتا ہوں۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کی صحیح رہنمائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔۔ چند چیدہ چیدہ چیزیں ہیں جو میری نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہیں، نوازشریف اور عمران خان دونوں کی شخصیات کا موازنہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔۔

خارجہ پالیسی
اس کے باوجود کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی ذہن سازی بھارت مخالف کی گئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ بھارت کے ساتھ اِٹ کھڑکا چلتا رہے، مگر آپ نوٹ کریں گے کہ نوازشریف نے اپنے پورے دورِ حکومت میں پاکستانی عوام کے اس رویے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھے یا یوں کہیں قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ کو سابقہ دورِ حکومت میں نواز شریف کا ایک بھی بیان ایسا نہیں ملے گا جو اس نے بھارت کے خلاف دیا ہو، ادھر عمران خان کو ملاحظہ کریں، کہ ہر روز صبح اٹھ کر بچوں کی طرح مودی کے خلاف ٹویٹ کردیتا ہے، اپنی تقریروں میں بچگانہ بڑھک بازی کرتا رہتا ہے۔نوازشریف دور میں بھی فرانس کے خلاف مذہبی معاملات کو لے کر کئی بار آوازیں اٹھیں، مگر نواز شریف نے ایک بار بھی فرانس کے خلاف بیان بازی نہیں کی۔ کیونکہ نوازشریف اس بات کو سمجھتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر تعلقات ہی پاکستان کے حق میں ہیں۔ نوازشریف نے سعودی عرب کے ساتھ بھی بہتر تعلقات بنائے رکھے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی بہتر تعلقات رکھے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں فرانس، سعودی عرب، انڈیا سب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ آچکا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کو دیا گیا تین ارب ڈالر بھی واپس لے لیا ہے نتیجتاً عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑ رگڑ کر پچاس کروڑ ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔۔

ذمہ دارانہ گفتگو
نوازشریف جب ہاتھ میں پرچیاں پکڑ کر گفتگو کرتا تھا تو پاکستان کا بچگانہ ذہن کا طبقہ اس کا مذاق اڑاتا تھا، مگر عمران خان کی بونگیاں سن سن کر اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ نوازشریف کی یہ سٹریٹجی نہایت ہی دانشمندانہ تھی۔ نوازشریف چونکہ نپی تلی گفتگو کرنے کا عادی ہے، اس لئے اس نے جو بھی کہنا ہو وہ لکھ لیتا ہے۔ چونکہ اس کو احساس تھا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہے اور اس کی کہی گئی بات کی اہمیت ہے۔ مگر دوسری طرف عمران خان کو دیکھ لیں، ابھی بھی ایسے گفتگو کرتا ہے جیسے کنٹینر پر کھڑا ہوا تھڑے کا سیاستدان ہو، جو منہ میں آئے اگلتا جاتا ہے، کبھی مریم نواز کے لیول پر گر کر اسے جگتیں مارنے لگتا ہے، کبھی خواجہ آصف کی نقلیں اتارتا ہے، کبھی بلاول کی نقلیں اتارتا ہے، کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ شخص پاکستان کا وزیراعظم ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نقلچی مسخرے کو اٹھا کر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہو۔۔

کارکردگی
جہاں تک کارکردگی کی بات ہے تو نوازشریف نے جس طرح پانچ سال میں پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، وہ تو عمران خان کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا، اتنے کم وقت میں پاکستان کو اتنے بڑے مسئلے سے نجات دلادی۔ ذرا تصور کیجئے 2013 میں کس طرح پوری پاکستانی قوم بلبلا رہی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اور جب نوازشریف 2018 میں جاتا ہے تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ یوں ختم ہوچکا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ ملکی معیشت کا پہیا تیزی سے چل رہا تھا، جب ملکی معیشت چل رہی ہو تو قرضوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، قرضے تو امریکہ اور چائنا جیسی ریاستوں نے بھی لئے ہوئے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اکانومی رکی ہوئی نہیں ہونی چاہئے، جب سے عمران خان آیا ہے پاکستان کی اکانومی سٹیگننٹ پڑی ہے، انفلیشن کو پر لگے ہوئے ہیں اور انویسٹمنٹ آکوئی نہیں رہی۔ جس طرح اس احمق شخص نے ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام کی فضا قائم کررکھی ہے، ایسے میں فارن انویسٹنمٹ کیسے آسکتی ہے؟ یہ شخص اتنا نااہل ہے کہ اس سے تو پشاور بی آر ٹی نہیں بنی۔ یہ کہتا تھا کہ نوازشریف سڑکیں بناتا ہے، میں آکر ادارے بناؤں گا۔ اب حال دیکھ لیں، ادارے تو دور کی بات اس سے تو سڑکیں بھی نہیں بن رہیں۔

سی پیک کا سہرا بھی نواز شریف کے سر جاتا ہے، اس نالائق نے تو آکر سی پیک کو بھی روک دیا۔

پاک وہیلز کے اونر سنیل سرفراز منج کے مطابق پاکستان میں آٹو انڈسٹری کیلئے سب سے بہتر نوازشریف حکومت رہی اور نوازشریف کی 2016 کی آٹو پالیسی کی وجہ سے ہی پاکستان میں تیرہ چودہ پلانٹ لگے گاڑیوں کے اور چند کمپنیوں کی بنائی ہوئی مونوپلی ٹوٹ رہی ہے۔

مذہبی منافرت سے گریز
نوازشریف کا ایک اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس نے ملک میں مذہبی شدت پسندی کو کبھی ہوا نہیں دی، نہ ہی اس نے کبھی مذہب کا چولہ اوڑھ کر لوگوں کو بے وقوف بنا کر ووٹ بٹورنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے جس طرح فرانس کے خلاف مسلسل بیان بازی کی، اس سے ملک بھر میں آئے روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کسی پر گستاخی اور توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کررہا ہوتا ہے، ابھی کل ہی شورکوٹ میں ایک شخص نے سڑک پر کلہاڑیوں کے وار کرکے ایک شیعہ شخص کو قتل کردیا جس پر کچھ عرصہ قبل توہینِ صحابہ کا الزام لگا تھا۔ فرانس میں جو شخص چارلی ہیبڈو کے پرانے دفتر کے باہر نہتے لوگوں کو خنجر مارنے کے بعد پکڑا گیا، اس نے فرانس میں بیان دیا ہے کہ اس نے عمران خان اور مولوی خادم رضوی کی تقریریں سن کر حملہ کرنے کا پلان بنایا۔ جب ملک کا حکمران اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے کیلئے شدت پسندی کو ہوا دینے لگ پڑے تو نتیجہ یہی نکلنا ہے۔ اس معاملے میں نوازشریف ہزار درجے بہتر تھا، نہ تو وہ اپنی تقریروں کا آغاز قرآنی آیتوں سے کرتا تھا، نہ ہی مذہبی بڑھک بازیاں کرتا تھا، سب جانتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذاتی زندگی میں ایک آزاد خیال اور شوقین مزاج آدمی ہے، ٹیرین خان اس کی رنگین مزاجی کا زندہ اور جیتاجاگتا ثبوت ہے، سیتا وائٹ اس کی زندگی کا اصل چہرہ ہے، اس کے باوجود عوامی سطح پر وہ مذہبی چادر اوڑھ لیتا ہے سادہ لوگوں کے جذبات کا استحصال کرکے مقبولیت بٹورنے کیلئے۔۔ اگر نوازشریف چاہے تو وہ بھی ایسا کرسکتا ہے، مگر وہ ان معاملات سے دور رہتا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی ذات میں شفاف انسان کون ہے۔۔


پی ٹی آئی کے بچگانہ ذہن کے سپورٹرز نوازشریف پر الزام لگاتے ہیں کہ نوازشریف کرپٹ ہے۔۔ اس کا تصفیہ تو ابھی ہوسکتا ہے، عمران خان اپنی تقریروں میں کہتا تھا کہ ہزاروں ارب روپیہ سالانہ نوازشریف حکومت کرپشن کرکے باہر منتقل کردیتی ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پچھلے تین سال سے عمران خان کی حکومت ہے، کم از کم وہ ہزاروں ارب روپیہ تو بچنا چاہئے جو ان کے بقول نوازشریف چوری کرکے باہر منتقل کردیتا تھا۔ کہاں ہے وہ ہزاروں ارب روپیہ، یہ بھکاری کہیں وہ ہزاروں ارب روپے اپنی جیب میں تو نہیں ڈال لیتا۔۔۔ ہے کسی کے پاس حساب۔۔؟؟۔

5c8102fed0514.jpg
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
نواز شریف کی اس سے بڑھ کر کیا عزت افزائی ہو گی کہ دہریے ، پاکستان دشمن ، انڈین نواز اور اسلام دشمن اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں
. . . . . . . .
ویسے رود جی ! آپ کی اس تحریر پر صرف ہا ہا کا بٹن کم ہی نہیں بہت ہی کم ہے
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
نواز شریف کی اس سے بڑھ کر کیا عزت افزائی ہو گی کہ دہریے ، پاکستان دشمن ، انڈین نواز اور اسلام دشمن اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں
. . . . . . . .
ویسے رود جی ! آپ کی اس تحریر پر صرف ہا ہا کا بٹن کم ہی نہیں بہت ہی کم ہے



شاہ جی۔۔ فی الحال تو آپ اپنی خیر منائیں،وہ توہین اور گستاخی کا کھیل جس میں آپ لوگ بھی بھرپور شریک ہیں، اب آپ ہی کی گردنیں اتارنے کا سبب بننے لگا ہے۔۔۔

 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں