برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کیساتھ کیا جاتا ہے، سروے

ukk11010121.jpg


دنیا بھر کی طرح برطانیہ میں بھی مسلمانوں کیخلاف تعصب پسندی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں،اس حوالے سے برطانیہ میں ایک سروے ہوا، جس میں انکشاف ہوا کے برطانیہ میں مسلمانوں کیلئے ناپسندیدگی بڑھتی جارہی ہے،یونیورسٹی آف برمنگھم اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی کمپنی ’’یوگووف‘‘ کی اسلامو فوبیا پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔

ایک سماجی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ میں مسلمان دوسرا سب سے کم پسند کیے جانے والا گروہ ہے،برطانوی شہری اسلام سے ناواقف لیکن اس کے بارے میں حتمی منفی رائے رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں اسلامو فوبیا کے واقعات بڑھ رہے ہیں، یونیورسٹی آف برمنگھم اور ڈیٹا تجزیہ کرنے والی فرم نے برطانیہ میں آباد مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مقامی آبادی کے رویے کا جائزہ لیا۔

برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق میں ہر چار میں سے ایک برطانوی شہری مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں منفی خیالات رکھتا ہے،ایک چوتھائی سے زیادہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں اور صرف 10 فیصد سے کم بہت زیادہ منفی محسوس کرتے ہیں۔

16 سو67 لوگوں کے سروے میں برطانوی افراد نے دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کے بارے میں زیادہ منفی خیالات کا اظہار کیا،تقریباً 5 میں سے ایک برطانوی شخص جو 18.1 فیصد بنتا ہے، مسلمانوں کی برطانیہ نقل مکانی پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 9.5 فیصد اس خیال کی پرزور تائید کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانوی شہری اسلام کے بارے میں بات کرنے کے لیے تو تیار رہتے ہیں لیکن انہیں مذہب کا حقیقی علم ہونے کا امکان بہت کم ہے،برطانوی افراد زیادہ تر غیر مسیحی مذاہب کے حوالے سے اپنی لاعلمی کو تسلیم کرتے ہیں، اکثریت کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ یہودیوں (50.8 فیصد) اور سکھوں (62.7 فیصد) کے مقدس کلمات کیسے پڑھائے جاتے ہیں۔

اسلام کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے میں لوگ پراعتماد ہوتے ہیں اور صرف 40.7 فیصد غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں،تحقیق کے مصنف اور ریسرچر ڈاکٹر اسٹیفن جونز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ہونا کہ برطانوی شہری اسلام کے بارے میں جانتے کم ہیں لیکن اس پر کوئی بھی تبصرہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، اس بات کو بتاتا ہے کہ تعصب کیسے کام کرتا ہے،اسلامو فوبیا برطانیہ میں اتنا پھیل چکا ہے کہ اب اسے سماجی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔
 
Advertisement

Londoner/Lahori

Minister (2k+ posts)
Others immigrants and religious minorities likes of Hindu, Sikh, and Christian have joined in against Muslims as well.
Very complicated subject. I am experiencing this for past 30+ years, because of Hindus and Sikhs, who wants to be seen favourably by English, they follow the trend and kiss their ass.
 

Choudhry ji

Councller (250+ posts)
I think its not true .... bad & extremists are in every religious & ethnic group. I have been working in UK since 30 years & i had never faced any racism . I am sorry to say i did worked in a Muslim company & i did not receive any benefit except Mashallah ... Inshallah ...Muslim brother but no justice .. I joined Gora company very first day i was asked if anything i need ? I asked small room for prayer & i was granted .. during Ramadhan i am allowed to leave early for Aftari . I am not saying that no racism in UK there are cases as i told JAHIL GORAY are also in community . I have seen some Muslims saying (Sorry to say) Kaffirs to British Christians ... i do agree they are MUNKIR & MUSHRIK but then why one takes full benefits , takes free house . free education , free NHS services ... & then Nationality after you fulfill all conditions . There is racism all over the world ... Kuwaiti & Saudis are more racist than britans (Sorry if i hurt someone feelings)
 

atensari

President (40k+ posts)
یورپی باشندے ہم مذہب افریقی عیسائیوں کو بھی پسند نہیں کرتے. مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک غیر یورپی باشندوں کے خلاف نفرت کا آغاز اور آسان ترین ہدف ہیں. غیر یورپی اقوام نے ایک دوسرے کی حفاظت نا کی تو یورپی ایک کے بعد ایک ہر غیر یورپی قوم کو ان کی مقدس جنگ کا نشانہ بنائیں گے​
 
Sponsored Link