بھارت میں پی ایچ ڈی ٹیچر سبزی فروخت کرنے پر کیوں مجبور ہوا؟

phdi1h1h1.jpg


بھارت میں بے روزگاری اور غربت کی انتہا ہوگئی پی ایچ ڈی ڈاکٹر سنیپ سنگھ ضروریات پوری کرنے کے لیے سبزی فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر سنیپ سنگھ نے پی ایچ ڈی اور 4 ماسٹرز کر رکھے ہیں اور وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پنجابی یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کر رہے تھے۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹر سنیپ سنگھ کا اس سبزی فروخت کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں تدریس کا کام کرتے ہیں جہاں سے انہیں ملنے والا معاوضہ انتہائی کم ہے جس سے وہ اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے اسی وجہ سے وہ سبزی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

وہ سبزیوں کا ایک ٹھیلہ چلاتے ہیں جس پر “پی ایچ ڈی سبزی والا” تحریر ہے,ڈاکٹر سنیپ سنگھ نے اس حوالے سے بتایا کہ وہ صبح سویرے سبزیاں خریدنے منڈی جاتے ہیں اور پھر شام تک سبزیاں بیچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پنجابی یونیورسٹی میں 5 سال تک جونیئر ریسرچ فیلو شپ اور پھر 7 سال مہمان فیکلٹی کے طور پر پڑھایا تاہم گزشتہ جون میں پڑھانا چھوڑ دیا کیونکہ یونیورسٹی سے ملنے والی تنخواہ سے گزار کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹر نے کہا کہ ہم گرونانک کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور کسی کے سامنے بھیک نہیں مانگتے اس لیے کوئی بھی کام کرنے میں شرم نہیں۔ استاد بننے کا خواب شروع سے ہی تھا اور اپنے اس خواب کو پورا کروں گا اس کے لیے حکومت پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں مستقبل میں بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں جس کے لیے اپنا کوچنگ سینٹر شروع کرنے کا ارادہ ہے۔

بھارتی حکومت کی نئی رپورٹ کے مطابق مارچ 2021 تک کے پانچ برسوں میں ملک بھر میں لگ بھگ 135 ملین لوگ یعنی تقریباً 10 فیصد آبادی غربت کے چنگل سے آزاد ہو گئی تھی ۔

اقوام متحدہ کے "ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس" یعنی غربت کے کثیر جہتی پیمانے کا استعمال کیا گیا ، جس میں غذائیت، تعلیم اور صفائی جیسے 12 شعبوں کو بنیاد بنایا گیا ، دیہی علاقوں میں غربت میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ۔
 

kwan225

Minister (2k+ posts)
سردار صاب نے پنجابی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو گی۔
ہمارے پیارے مُلک پاکستان میں بھی پنجابی ، ایجُوکیشن، فارسی اور عربی میں ماسٹر کروایا جاتا ہے۔۔ یہ ایسے سبجیکٹ ہیں جن میں آپ دس بار بھی پی ایچ ڈی کر لیں پھر بھی جاب ملنے کے امکانات صفر ہیں۔۔
اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمارا تعلیمی نظام صرف اور صرف سائنس، آئی ٹی اور ٹیکنیکل تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔۔