پولنگ ایجنٹ سے پرچی مت بنوائیں

Rollercoaster

MPA (400+ posts)
DJ66qbbXcAApVSj.jpg


پولنگ ایجنٹ سے پرچی مت بنوائیں
عدنان خان کاکڑ


آپ کو باہر سٹال پر موجود مختلف جماعتوں کے سٹالوں سے پرچی بنوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نادرا نے آپ کو پرچی سے بے نیاز کر دیا ہے۔ 8300 پر میسیج سے جو پیغام ملتا ہے اسے کاغذ پر لکھ کر کے جائیں۔ وہی پرچی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندر بوتھ میں انتہائی معصوم انتخابی عملہ موجود ہو جو ضد کرے کہ آپ باہر سٹال سے پرچی بنوا کر لائیں۔ اسے ڈانٹ کر مطمئن کر دیں۔ آپ کے ووٹ کو کاسٹ کرنے اور پولنگ بوتھ کے متعلق جو بھی معلومات درکار ہیں وہ نادرا کے میسیج میں موجود ہیں اور باہر پرچی والا بھی وہی معلومات آپ کو اپنے کاغذ پر لکھ کر دیتا ہے۔ صرف گھرانا نمبر مسنگ ہو سکتا ہے جو اندر عملے کے پاس موجود ہوتا ہے۔

آج پرچی بنوانے کے لئے پہلے تحریک انصاف کی لائن میں لگا۔ ان کے پولنگ ایجنٹ نہایت ناتجربہ کار ہیں۔ انہوں نے تین سو میٹر دور دوسرے انصافی پولنگ ایجنٹ کے پاس بھیجا کہ ان کے پاس سب ڈیٹا ہے، لسٹیں ہم نے دیکھنی نہیں اور ہماری ایپ اور نادرا جواب دے چکے ہیں۔ بڑے انصافی ایجنٹ سے بھی ریکارڈ نہیں ملا۔ پھر گاڑی میں جا کر موبائل لایا گیا اور اس پر انہیں نادرا کا میسیج دکھایا۔ اس پر بھی ان شہزادوں نے جو پرچی بنا کر دی اس میں پولنگ سٹیشن ہی غلط لکھا ہوا تھا۔ کوئی پونا گھنٹہ اس خواری میں لگ گیا۔

نہایت تپ کر نون لیگ کے ایجنٹ کے پاس گیا۔ ان شہزادوں نے میری پرچی بنا دی اور کہا کہ لیڈیز کی لسٹ ہمارے پاس نہیں ہے، تین سو میٹر دور ہمارے بڑے ایجنٹ کے پاس جائیں۔ بڑے ایجنٹ نے منٹ میں پرچی بنا دی۔ اس سارے کام میں گھنٹہ سوا گھنٹہ دھوپ اور شدید حبس میں خوار ہونا پڑا۔


بہرحال ایک دوسرے علاقے میں کچھ جاننے والے گئے تو ان کے نادرا کے میسیج کی پرچی کو انتخابی عملے نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ معمولی سا زور اور عقل ڈالنے پر ان کو سمجھ آ گئی کہ پولنگ ایجنٹ پرچی پر جو کچھ لکھتے ہیں، وہ وہی ہے جو نادرا کے میسیج میں لکھا ہوا ہے۔

اس مرتبہ پولنگ ایجنٹس نہایت ہی نکمے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو وہ پوری لسٹیں پھرول کر ووٹ تلاش کر کے ہاتھ میں پکڑا دیتے تھے خواہ پندرہ منٹ خوار ہونا پڑے۔ اس مرتبہ ان کی ایپ کریش کر جائے یا نادرا کے 8300 سے جواب نہ ملے تو وہ ووٹر کو جواب دے دیتے ہیں، اپنے سامنے پڑے پرنٹ آؤٹ میں دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہ حال تحریک انصاف اور نون لیگ دونوں کا تھا۔ تحریک لبیک کو ٹرائی نہیں کیا مبادا لسٹ میں نام نہ ملنے پر وہ سر تن سے جدا ہی نہ کر دیں۔

جن مظلوم ووٹروں کے پاس نادرا کا میسیج نہیں تھا وہ پریشان پھر رہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کا ایجنٹ ہی نہیں تھا۔ صرف تحریک انصاف، نون لیگ اور تحریک لبیک والوں کے تنبو لگے ہوئے تھے۔ نادرا سے پہلے کا زمانہ اچھا تھا۔ سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ ایک دن پہلے گھر پر پرچیاں دے جاتے تھے۔ اگر آپ کے علاقے کا پولنگ ایجنٹ کاہل ہو یا اس کے تنبو میں رش لگا ہو تو پرچی بنوانے کی ضرورت نہیں ہے، نادرا کا میسیج لکھ کر ساتھ لے جائیں۔ وہی کافی ہے۔


پرچی لے کر ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھ کی لائن میں لگا۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ لائن کچھوے کی رفتار سے چل رہی تھی۔ کچھوا اس سے کم از کم سو گنا تیز چلتا ہے جس سے لائن چل رہی تھی۔ گیٹ پر دو پولیس والے اور ایک حوالدار موجود تھے۔ ووٹر، پولیس اور حوالدار نہایت دلجمعی سے ایک دوسرے پر جگتیں مار رہے تھے۔

ایک ووٹر جو ادھر جم چلاتے ہیں، بتا رہے تھے کہ ٹھیک لیڈر کو ووٹ دینا چاہے، گو کہ وہ اس کا نام نہیں لینا چاہتے۔ بس سب خود ہی ٹھیک لیڈر کو ووٹ دے دیں۔ ان کی رائے میں پاکستان میں ایک خمینی کی ضرورت تھی جو سب کرپٹ لوگوں کے سر تن سے جدا کر کے دبئی چوک پر لٹکا دے۔ پولیس والے بھائی نے ان سے بھرپور اتفاق کیا۔ میں نے اپنا تجزیہ خود تک ہی محدود رکھنا مناسب سمجھا کہ اس صورت میں پولیس فورس میں شدید ترین کمی ہو جائے گی اور نئی بھرتیاں کرنی پڑیں گی۔ جم والے بھائی کے سینے پر تحریک انصاف کا سٹکر لگا ہوا تھا۔

بہرحال سب اپنے دکھ سنا کر ٹائم پاس کر رہے تھے۔ میں نے بھی پرچی کا دکھ سنایا تو سامنے کھڑے بندے نے کہا کہ میں نے تو نادرا سے میسیج کو پرچی پر نوٹ کر لیا تھا، پولنگ ایجنٹ کی پرچی کی تو اب ضرورت ہی نہیں۔ غور کیا تو وہ ٹھیک فرما رہا تھا۔

فوجی حوالدار بھائی اپنی نہایت ہی بڑی سی خودکار بندوق کے باوجود نہایت خوش اخلاق تھے۔ اندر دو فوجی مزید ملے۔ ان سے کمرے کا پوچھا۔ وہ کچھ پریشانی کا شکار تو ضرور تھے اور کسی معاملے پر آپس میں بحث کر رہے تھے، لیکن اپنی بحث چھوڑ کر انہوں نے اچھے طریقے سے راہنمائی کی۔ کمرے کے اندر فوجی ایک نکرے کے اندر لگے کھڑے تھے اور ٹکر ٹکر ووٹروں کو دیکھ رہے تھے۔

بہرحال یاد رہے کہ جہانزیب بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن کو ایک زمانے میں صحافی کالونی کے نام سے بسایا گیا تھا اور ادھر بے شمار ہی صحافی رہا کرتے ہیں۔ غیر صحافی علاقوں کے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں۔

اور ہاں، آپ جس پارٹی یا لیڈر کو ملک کے لئے بہتر سمجھتے ہیں، اسے ووٹ دیں۔ یہی حق دوسروں کو بھی دیں اور خواہ دل ہی دل میں ان دوسروں کو نہایت احمق سمجھتے رہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ آپ کی خوشی غمی میں یہی احمق عزیز شریک ہوتے ہیں، سیاسی لیڈر ووٹ لیتے ہی آپ سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ سیاسی اختلاف پر اپنا آپسی تعلق خراب مت کریں۔


source
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
لائیسنس بنوانا ہو یا شناختی کارڈ پاسپورٹ بنچوں تھڑوں کا کلچر ایک ناسور بن چکا ہے. کرپشن ختم کرنے اور شفافیت پیدا کرنے کے لئے اس نظام کو ختم کیا جائے. الیکشن کمیشن ووٹ کے کوائف گھروں میں بھیجے یا پھر ویب سائٹ، میسج کے ذریعے رسائی دے
 
Sponsored Link