ن لیگ و ایم کیو ایم میں پاور شیئرنگ کا معاملہ آگے نا بڑھ سکا

6mqqpaalaoaisraftstsj.png

وفاق میں حکومت سازی اور پاور شیئرنگ کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان معاملات آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن وفاق میں حکومت سازی کے معاملے پر اتحاد جماعتوں سے مشاورت میں موجود ہے، اس دوران ن لیگ کیجانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ پاور شیئرنگ کے معاملات پر مذاکرات بھی جاری ہیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان پاور شیئرنگ کا فارمولا طے پاچکا ہے مگر ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا موقف ہے ایم کیو ایم کے ساتھ وزیراعظم کے حلف لینے کے بعد معاملات طے کیے جائیں، جبکہ ایم کیو ایم وفاق میں 5 سے 6 وزارتیں حاصل کرناچاہتی ہے، ایم کیو ایم ان وزارتوں کا تقاضہ کررہی ہےجن کے ذریعے شہریوں کے مسائل حل کیے جاسکیں۔

ن لیگ کیجانب سے ابھی تک وزارتوں کے نام فائنل نہیں کیے گئے ہیں، ایم کیو ایم نے شروع میں ہی وزارتوں کے نام دے دیئے تھےجن میں میری ٹائم افیئرز، توانائی، پیٹرولیم، مواصلات، اوورسیز ہاؤسنگ اور لیبر کی وزارتوں میں دلچسپی رکھتی ہے، ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ انہیں وزارتوں کے معاملے پر ایم کیو ایم کے ممبران کے تناسب سے زیادہ حق بنتا ہے۔
 

ranaji

President (40k+ posts)
ابھی تک کچھ وزارتوں اور لوٹ مار میں پاور شئیرنگ پر بات اٹکی ہوئی ہے لگتا ہے انکے مالکوں کو فیصلہ کرانا پڑے گا بندر بانٹ کی طرح پھر تو لوٹ مار کا زیادہ حصہ تو مالکان ہی کھا جائیں گے