محترمہ اسٹیبلشمنٹ کے نام۔

Gultasab

Citizen
محترمہ اسٹیبلشمنٹ کے نام۔

آخر کار رات کو وہ گھڑی آ گئی جس کے لئے مریم بی بی پچھلے ایک مہینے سے انتھک محنت کر رہی تھیں۔ آ پ شائد یہ سمجھے کہ وہ گھڑی اُن کی والدہ محترمہ کی جیت کی گھڑی تھی۔ نہیں، بلکہ وہ گھڑی اُن کی جیت کے بعد آئی جس کے لئے وہ پچھلے چند ہفتوں سے ریہرسل کر رہی تھیں۔ محترمہ بھی چونکہ اپنے والد کی طرح ظرف نام کی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں اس لئےانہوں نے حلقہ 120 کے لوگوں سے خطاب کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو خوب کوسا۔۔۔
حلقہ 120 میں ہمارا مُقابلہ اُن سب قوتوں سے تھا جو نواز شریف پر چھُپ کر وار کرتی ہیں۔
حلقہ 120 کی عوام نے اس دفعہ اس وار کو اپنے سینے پر لیا ہے۔
سب سازشی قوتوں کو ناکامی ہوئی جنہوں نے نواز شریف کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔
عوام نے نہ صرف عدالتی فیصلے کو رد کیا بلکہ اُن کے ترجمانوں کو بھی رد کر دیا۔
عوام نے عدالتی فیصلے کو اُوپر اپنا فیصلہ سُنا دیا۔

ایسی تقریر اس سے پہلے محترم زرداری صاحب نے بھی کی تھی۔

آپ نے تین سال رہنا ہے اور ہم نے ہمیشہ رہنا ہے۔
اگر آپ باز نہ آئے تو ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
آپ ہر جیز کو ایشو بنا دیتے ہیں اور پھر آپ کے طوطے (میڈیا پرسن) بیٹھ کر ٹیں ٹیں کرتے رہتے ہیں ۔

مجھے اس چیز کا پورا ادراک ہے کہ مذکورہ دونوں تقریروں کے بعد محترمہ اسٹیبلشمنٹ کی نیندیں حرام ہوئی ہوں گی اور ایک دفعہ مشرف صاحب اور ضیا مرحوم کی رُوح بیدار ہوئی ہو گی لیکن خُدارا اب اس بد روح کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیجئے ۔ کیونکہ ان دونوں تقریروں کا مقصد یہی ہے کہ آ بیل مجھے مار۔ اس بات کا بھی آپ کو بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ یہ بیج آپ کا ہی بویا ہوا ہے ۔ اُس وقت حالات جو بھی تھے لیکن ان دونوں پارٹیوں کے فاوٗنڈنگ فادر آپ ہی ہیں۔بعد میں جب آپ کو ادراک ہوا یہ نااہل ہیں تو آپ نے اُن کو چلتا کر دیا اور جب بھی آپ نے اِ ن دونوں پارٹیوں کو چلتا کیا تو انہوں نے مظلومیت کی تختی اپنے گلے میں باندھی اور دوبارہ قوم کی جہالت کا فائدہ اٹھا کراقتدار میں واپس آ گئے۔
پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کا ایک ہی سبب ہے۔
(Low Literacy Rate)
یعنی کہ جہالت ۔ ڈاکٹر اقبال ؒ نے اسے یوں بیان کیا ہے۔

؎ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

لیکن اس مرتبہ پہلی بار یہ موقع آیا ہے کہ لوگوں کو اس بات کا شعور آ رہا ہے کہ یہ لوگ نااہل ، بدعنوان، اقربا پرور اور بے کردار ہیں۔ آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن پاکستانی سیاست بالکل تبدیل ہو رہی ہے۔ اور انشااللہ وہ دن دور نہیں جب ان لوگوں کا دائماً خاتمہ ہو گا۔ لیکن اگر محترمہ اسٹیبلشمینٹ کے اندر دوبارہ مشرف یا ضیا صاحب کی پیدائش ہو گئی تو پھر اس دفعہ تباہی ہو گی۔ پہلے تو مشرف کی روانگی کے بعد حالات کنٹرول ہو گئے تھے لیکن پھر شائد نا ہوں۔ اس لئے ، اس دفعہ آپ نے جس طرح اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھا ہوا ہے ( یا ظاہر کروا رہے ہیں کہ ہم دور ہیں) اسی طرح ہی اپنا کام جاری رکھیں۔ لوگ حلقہ 120 میں ڈاکٹر یاسمین کی ہار کی وجہ سے پریشان ہیں لیکن مجھے اس شکست میں ایک دائماً جیت نظر آ رہی ہے۔

Twitter: @Gultasab
 
Last edited:

چھومنتر

Minister (2k+ posts)

گدھوں سے معذرت کے ساتھ

(bigsmile)


raw
 

Rizwan2009

Chief Minister (5k+ posts)
اگر عوامي عدالت پر ہي فيصلے ہونے ہيں تو پھر ديگر عدالتيں بند کرکے عوامي عدالت ہي کھول ليں
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
اسٹبلشمنٹ کے مصدقہ سپوت خود ہی چلا چلا کر اپنی حقیت کا ثبوت مہیا کرتے ہیں
 

GreenMaple

Prime Minister (20k+ posts)
اگر عوامي عدالت پر ہي فيصلے ہونے ہيں تو پھر ديگر عدالتيں بند کرکے عوامي عدالت ہي کھول ليں

عوامی عدالتیں کھولوا کر یہ پچھتائیں گے ـ وہ إن کی سرِ چوک تکہ بوٹی کر دیں گی
 
Sponsored Link