ماں کی آبروریزی ہوتی رہیگی ،معزز ججز دیکھتے رہینگے

SAYDANWAR

Senator (1k+ posts)
دنیا میں رائج بیشتر زبانوں میں مادروطن،دھرتی ماں،مدرلینڈ اور اس احترام کی سوچ پرمبنی الفاظ سے لوگ اپنے اپنے ملک کو مقدس جگہوں میں شمار کرتے ہیں اور اسکی نگہیبانی اورحفاظت پر اپنی جان نثار کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔تاریخ پاکستان 6 ستمبر 1965 ان ہی جاننثاروں کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہی جو52 سال گزرنے کے باوجود جسے پاکستانیوں کے جزبہ حبالوطنی اور شوق شھادت سے مرصع کہانیوں اور ایمان کی حرارت کو زندہ رکھنے کی ایک سعئ کہنا مناسب ہوگا۔
افسوس اس ہی سرزمین پاکستان میں چاولوں کی طرح پرانے ہونے کا فائیدہ تو تمام شعبئہ زندگی کے افراد اٹھارہے ہیں

مگر جانے کیوں اس ملک کے اہم اور خصوصی ادارے اس ملک سے مراعات تو وصول کررہے ہیں جسکے وہ بعض صورتوں میں حقدار بھی نہ تھے، مثلا پاکستان کی عدالت عظمی کے سابق جج چودہری افتخار سپریمکورٹ کی عطا کردہ رہائش گاہ کو اپنے بیٹے کے بزنس آفس کے طور پر استمعال،اپنے اثررسوخ سے بیٹے کو داخلے سے لیکر ملازمت اور تقرری پر تو متوجہ رہے سپریم کورٹ میں پڑے تیس تیس سال پرانے مقدموں کو نمٹانے کی بجائے گرما گرم سموسوں کی از خود تحقیقات کرکے انہیں ٹھنڈا ہونے سے قبل کھا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام لکھوانے کے مستحق بنے مگر ملک کو لوٹنے والوں سے نجات کی بجائے مادروطن کو لوٹنے والوں میں خود بھی شریک ہوگئے۔

ان انصافی خوانچہ فروشوں میں کئی نام نامیوں میں جسٹس سجاد احمد جان، مولوی مشتاق، نسیم حسن شاہ،فخرالدین بھائی ابراہیم،افتخار چودہری اور بہت سوں کے سامنے اسملک کی آبروریزی مجرم کرتے رہے مگر کسی قانون کے دلالوں نےمادروطن کی آبروریزی کو نہ روکا۔ ہر آنے والے جج نے اپنے پیش رو سے بڑھکر کثیف لفظوں سے کھیلکر عوام کو پہلے سے زیادہ بےوقوف بنایا ،پینشن اور عہدے سے فائیدہ اٹھایا اور رخصت ہوا۔

ان بے حس ججز نے اس پاکستانی پنجر کی ہڈیوں سے گوشت نام کی خوشبو تک نوچ لی ،ریڈیکیول ،ابائیڈرجیسے لفظوں پر بے مغزی بحث کرتے رہےاور فیصلے ایسے لکھنے کا دعوہ کرتے رہے کہ انکے فیصلے آنے والے بیسیوں سال بھلائے نہ جائیں گے، واقعئی بس یہی جملے سچ کہے"میر جعفر" کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔
ہے کوئی ایساقاضی نما جج جسکے کسی فیصلے سے رسہگیروں کا قلعقمہ ہو بے شک ملک میں سموسے نہ بنیں اگر ان مردہ ضمیروں کو ہوش نہ آیا تو پاکستان کو مغلیہ سلطنت کی طرح کوشش کروگے تب بھی تاریخ میں نہ پاؤگےخدا ایسا ہی کریگا،یہی کوشش یہ جج اغیار اور انکے کتہ دھوبی کررہے ہیں۔

 
Last edited by a moderator:

SAYDANWAR

Senator (1k+ posts)
دنیا میں رائج بیشتر زبانوں میں مادروطن،دھرتی ماں،مدرلینڈ اور اس احترام کی سوچ پرمبنی الفاظ سے لوگ اپنے اپنے ملک کو مقدس جگہوں میں شمار کرتے ہیں اور اسکی نگہیبانی اورحفاظت پر اپنی جان نثار کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔
تاریخ پاکستان 6 ستمبر 1965 ان ہی جاننثاروں کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہی جو52 سال گزرنے کے باوجود جسے پاکستانیوں کے جزبہ حبالوطنی اور شوق شھادت سے مرصع کہانیوں اور ایمان کی حرارت کو زندہ رکھنے کی ایک سعئ کہنا مناسب ہوگا۔
افسوس اس ہی سرزمین پاکستان میں چاولوں کی طرح پرانے ہونے کا فائیدہ تو تمام شعبئہ زندگی کے افراد اٹھارہے ہیں مگر جانے کیوں اس ملک کے اہم اور خصوصی ادارے اس ملک سے مراعات تو وصول کررہے ہیں جسکے وہ بعض صورتوں میں حقدار بھی نہ تھے، مثلا پاکستان کی عدالت عظمی کے سابق جج چودہری افتخار سپریمکورٹ کی عطا کردہ رہائش گاہ کو اپنے بیٹے کے بزنس آفس کے طور پر استمعال،اپنے اثررسوخ سے بیٹے کو داخلے سے لیکر ملازمت اور تقرری پر تو متوجہ رہے سپریم کورٹ میں پڑے تیس تیس سال پرانے مقدموں کو نمٹانے کی بجائے گرما گرم سموسوں کی از خود تحقیقات کرکے انہیں ٹھنڈا ہونے سے قبل کھا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام لکھوانے کے مستحق بنے مگر ملک کو لوٹنے والوں سے نجات کی بجائے مادروطن کو لوٹنے والوں میں خود بھی شریک ہوگئے۔
ان انصافی خوانچہ فروشوں میں کئی نام نامیوں میں جسٹس سجاد احمد جان، مولوی مشتاق، نسیم حسن شاہ،فخرالدین بھائی ابراہیم،افتخار چودہری اور بہت سوں کے سامنے اسملک کی آبروریزی مجرم کرتے رہے مگر کسی قانون کے دلالوں نےمادروطن کی آبروریزی کو نہ روکا۔ ہر آنے والے جج نے اپنے پیش رو سے بڑھکر کثیف لفظوں سے کھیلکر عوام کو پہلے سے زیادہ بےوقوف بنایا ،پینشن اور عہدے سے فائیدہ اٹھایا اور رخصت ہوا۔
ان بے حس ججز نے اس پاکستانی پنجر کی ہڈیوں سے گوشت نام کی خوشبو تک نوچ لی ،ریڈیکیول ،ابائیڈرجیسے لفظوں پر بے مغزی بحث کرتے رہےاور فیصلے ایسے لکھنے کا دعوہ کرتے رہے کہ انکے فیصلے آنے والے بیسیوں سال بھلائے نہ جائیں گے، واقعئی بس یہی جملے سچ کہے"میر جعفر" کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔
ہے کوئی ایساقاضی نما جج جسکے کسی فیصلے سے رسہگیروں کا قلعقمہ ہو بے شک ملک میں سموسے نہ بنیں اگر ان مردہ ضمیروں کو ہوش نہ آیا تو پاکستان کو مغلیہ سلطنت کی طرح کوشش کروگے تب بھی تاریخ میں نہ پاؤگےخدا ایسا ہی کریگا،یہی کوشش یہ اغیار اور انکے کتہ دھوبی کررہے ہیں۔