اتحادی جماعتوں کا وفد مولانا فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

maulaa11hh31.jpg

اتحادی جماعتوں کے رہنما فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے,مسلم لیگ ن پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کا وفد ایوان میں حمایت مانگنے کیلیے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا,لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی,اتحادی جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹی کا وفد یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا۔ جن کا مولانا فضل الرحمان نے استقبال کیا۔

کمیٹی اراکین میں احسن اقبال، ایاز صادق، سعد رفیق، رانا تنویر، خورشیدشاہ، نوید قمر، صادق سنجرانی، خالد مگسی، سینیٹر عبدالقادر، آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان، ق لیگ کے سالک حسین وفد میں شامل تھے۔

مذاکراتی کمیٹی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی تو جے یو آئی کے مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا عطا الرحمان، مولانا اسعد محمود، مفتی مصباح الدین، اسلم غوری، حافظ حمداللہ، عثمان بادینی، نور عالم خان بھی اجلاس میں شریک تھے۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے کے قائدین میڈیا سے گفتگو کی۔ لیگی رہنما سردار ایاز صادق نے بتایا کہ مسلم لیگ ن، پی پی پی، بلوچستان عوامی پارٹی، مسلم لیگ ق ہم سب مولانا فضل الرحمن سے ووٹ مانگنے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں ہمارا مولانا فضل الرحمن سے عزت کا تعلق بھی ہے، مولانا سے درخواست کی ہے کہ وہ صدر وزیر اعظم سمیت دیگر آئینی عہدوں کے لئے ایوان میں ہمیں ووٹ دیں۔

ایاز صادق نے بتایا کہ گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنے تحفظات پیش کیے جس پر بات کی گئی تاہم انہوں نے ووٹ دینے کی رضامندی ظاہر نہیں کی۔انہوں نے بتایا کہ اب مولانا فضل الرحمان سے ہمارے قائدین کی ملاقات ایوان میں ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ مولانا نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ماضی کی سیاسی جدوجہد ، قربانیوں کے تذکرے اور یاددہانیاں کرائیں ساتھ ہی الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں پر تحفظات ظاہر کئے۔

حکومتی وفد نے جے یو آئی سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی اور اعلیٰ عہدوں اور، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے لئے حمایت پر اصرار کیا۔

جس پر جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ حکومت سازی میں حصہ نہیں لیں گے، ہمیں تحفظات ان سے ہیں جنہوں نے الیکشن کروائے۔

ذرائع کے مطابق آج پارلیمنٹ ہاؤس میں اتحادی مولانا کو منانے کی ایک اور کوشش کریں گے۔

جمیعت علماء اسلام کے سربراہ نے حکومت کا حصہ بننے سے انکار کر دیاہے اور وہ آج حلف برداری کی تقریب میں اپوزیشن کے بینچز پر بیٹھے جہاں آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے جا کر ان سے ملاقات بھی کی جبکہ نوازشریف سے ان کی ملاقات سپیکر کے ڈائس کے قریب ہوئی ۔

اسمبلی میں صحافی نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ آپ کو آج اسمبلی آ کر کیسا لگا؟ جس پر سربراہ جے یو آئی ایف نے کہا کہ یہ اسمبلی تو نہیں کوئی اور ہی چیز ہے ۔ صحافی نے ایک اور سوال کیا کہ کیا اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی ؟جس پر مولانا نے جواب دیا کہ اگر یہی عالم رہا تو لگتا نہیں کہ پوری کرے گی ۔
 
Last edited by a moderator:

samkhan

Chief Minister (5k+ posts)
تحریک انصاف کو چاہئے کہ مولانا کو صدر کہ عہدے کہ لئے ووٹ دینے کا وعدہ کرے اور پھر تماشا دیکھے
 

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
تحریک انصاف کو چاہئے کہ مولانا کو صدر کہ عہدے کہ لئے ووٹ دینے کا وعدہ کرے اور پھر تماشا دیکھے



تم بیوقوفوں کے تماشوں نے ھی تو ملک کو یہاں تک پہنچا دیا ھے ۔