کپتان ہاکی ٹیم کا وزیراعظم سے ڈیپارٹمنٹس ہاکی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ

13ammadbuttdepartments.png

ڈیپارٹمنٹس کی بندش کے حوالے سے مسائل حل کر کے دوبارہ سے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں: وزیراعظم سے اپیل

پاکستان قومی ہاکی ٹیم 30ویں سلطان اذلان شاہ ہاکی کپ کے فائنل میں جاپان کو شکست دینے میں ناکام رہی تاہم سلور میڈل جیت کر قوم کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے ایک انٹرویو میں ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے سہولیات کے فقدان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی ہاکی ٹیم کے پاس نوکریاں ہی نہیں ہیں جس کے باعث وہ اپنے گھر چلانے سے بھی قاصر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے پاکستان کی نمائندگیکرنے والے بہت سے کھلاڑی اس وقت بھی اپنا گھر چلانے کے لیے اوبر ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیپارٹمنٹس کی بندش کے حوالے سے مسائل حل کریں اور انہیں دوبارہ سے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

عماد شکیل بٹ کا کہنا تھا کہ سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے بعد جب ہم اپنے ملک کے ایئرپورٹ پر پہنچے تو ہمیں لگا کہ پائلٹ ہمیں کسی اور ملک میں لے آیا ہے۔ پاکستان کے شہریوں کی طرف سے قومی ہاکی ٹیم کے پرتپاک استقبال پر ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ واضح رہے کہ قومی ہاکی ٹیم 13 برس بعد سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچی تھی جہاں جاپان نے سخت مقابلے کے بعد اسے شکست دی۔

علاوہ ازیں 30ویں سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں سلور میڈل حاصل کرنے والی قومی ہاکی ٹیم سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے ملاقات کی اور کہا کہ ہمارے ہیروز ہمارا اثاثہ ہیں اور ہم ہر طرح سے ان کی سپورٹ کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے قومی ہاکی ٹیم سے ملاقات کے موقع پر ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور نقدانعام کی رقم 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کر دیا۔

کپتان قومی ہاکی ٹیم عماد شکیل بٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وزیراعظم پنجاب کی طرف سے ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، ہماری ٹیم کی عالمی رینکنگ میں تنزلی کی وجہ فنڈز نہ ہونے کے باعث عدم شرکت ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ حکومت اپنے ڈیپارٹمنٹس بحال کرنے کے اعلان کو عملہ جامہ پہنائے تاکہ کھلاڑیوں کے معاشی مسائل حل ہوں۔