نوازشریف کو ہرانے والے شہزادہ گشاسپ کا نوازشریف کو شکست تسلیم کرنیکا مشورہ

shehhai11h.jpg

الیکشن کمیشن میں این اے -15 مانسہرہ کے انتخابی نتائج بارے نوازشریف کی درخواست پر سماعت ۔۔ شہزادہ گشاسپ کا نوازشریف کو شکست تسلیم کرنیکا مشورہ

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہزادہ گستاسپ نے الیکشن کمیشن آفس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ انتخابات میں شکست بھی کھا سکتے ہیں۔ انتخابات سے قبل میرا خیال تھا کہ میاں نوازشریف 25 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے، مجھے لگتا ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

شہزادہ گستاسپ نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے جس کے مطابق این اے 15 میں انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔ حکومتی مشینری نے این اے -15 میں نوازشریف کا ساتھ دیا، ہمیں تو انتخابی مہم کے دوران جلسہ کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی۔ مزید کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے رویے سے شہری پریشان ہوئے جس کا فائدہ ووٹوں کی صورت میں مجھے ملا۔

قبل ازیں NA-15 مانسہرہ کے انتخابی نتائج بارے میاں نوازشریف کی درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن میں شہزادہ گستاسپ کے وکیل بابر اعوان اور نوازشریف کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ اور جہانگیر جدون پیش ہوئے۔


بابر اعوان نے الیکشن کمیشن سے خاتون ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ کی کاپی طلب کے ساتھ درخواست کی کاپی طلب کی۔

بابر اعوان نے کہا کہ نوازشریف کی عدم حاضری پر درخواست مسترد کے بعد بحال کر دی گئی، اس آرڈر کی کاپی بھی دی جائے، ہمیں آر او تبدیل کرنے پر اعتراض ہے جس پر نوازشریف کے وکیل جہانگرین جدون نے کہا ہمیں بھی اس پر آر او کی تبدیلی پر اعتراض ہے۔

الیکشن کمیشن ممبر نے کہا ریٹرننگ آفیسر بیمار تھیں جنہوں نے درخواست دی کہ مجھے تبدیل کیا جائے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پنڈی والے کمشنر کے بیمار ہونے کی بھی بات ہو رہی ہے جس پر الیکشن کمیشن ممبر نے کہا ہر بات پر شک نہ کریں، لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔ بابر اعوان نے کہا 8 فروری والا الیکشن رہنے دیں، 9 فروری والا کوئی نہیں مانے گا جس پر ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کوئی امیدوار 2 نشستوں سے کامیاب ہو تو ایک چھوڑنی پڑتی ہے۔


میاں نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا ابھی ہم نے فیصلہ نہیں کیا کون سی نشست چھوڑی جائے، ہم نے ابھی حلف نہیں لیا۔ بابر اعوان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن عدالت ہے نہ الیکشن ٹربیونل، درخواست گزار کو ایک وکیل رکھنا چاہیے، یہاں پر 2 وکیل پیش ہو رہے ہیں۔ جہانگیر جدون نے کہا کہ ہمیں ریٹرننگ آفیسر کی کاپی اور ریکارڈ دونوں دیئے جائیں۔

الیکشن کمیشن ممبر کا کہنا تھا کہ یہاں کالا ڈھاکا کے نتائج کا معاملہ ہے جس پر بابر اعوان نے کہا ہم 25 ہزار کی لیڈ سے کامیاب ہوئے، کالا ڈھاکا ایک کونا ہے وہ کیا کر لے گا؟ جہانگیر جدون ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کالا ڈھاکا کا ووٹ 2 لاکھ ہے، کیس کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے 26 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی۔