سوشل میڈیا کو قابو کرنے کیلئے لگائی گئی فائر وال کس طرح کام کرتی ہے؟

14howowojfirlwalalworlk.png

سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی سطح پر ایک فائر وال نافذ کرنےکی تیاریوں کے حوالے سے خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ویب سائٹس اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک فائر وال نصب کرنے کی تیاری کررہی ہے جس کے ذریعے مختلف ویب سائٹس خصوصا سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز کو کنٹرول کیا جائے گا۔

خبروں کے مطابق حکومت نے فائروال کا یہ نظام چین سے حاصل کیا ہے تاہم حکومتی سطح پر اس منصوبے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں اور اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کے باعث کسی بھی سطح پر اس بارے میں بات نہیں کی جارہی۔

تاہم ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ فائر وال سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی طرز پر کام کرے گاجہاں کی حکومتیں ہر ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرتی ہیں، اس فائر وال کی مدد سے ریاست کے مخالف پراپیگنڈہ کرنے والے صارفین کے آئی پی ایڈرسز فوری طور پر حکومت کو دستیاب ہوں گے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کرناممکن ہوسکے گا۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے واضح یا باضابطہ طور پر اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے تاہم چند روز قبل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کا عندیہ دیا تھا، پاک فوج کی جانب سے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ پر بارہا تنقید سامنے آئی ہے اور فوج کی جانب سے اس کو "ڈیجیٹل دہشت گردی " قرار دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وائس آف امریکہ اردو کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں فائر وال سسٹم کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی گئی ہیں جس کے مطابق فائر وال بنیادی طور پر انٹرنیٹ گیٹ ویز پر لگایا جانے والا نظام ہےجس کے ذریعے انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک کیا جاسکتا ہے، اس فائر وال کی مدد سے کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مخصوص مواد کو کنٹرول کیاجاسکتا ہے اور ایسے کسی مواد کو بلاک بھی کیا جاسکتا ہے۔

فائر وال کے حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم بولو کی ڈائریکٹر فریحہ ادریس نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائر وال سسٹم کا اصل مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کرنا ہوتا ہے، اگر ایسا اقدم اٹھایا جاتا ہے تو ای کامرس بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور انٹرنیٹ بینکنگ پر بھی اثر پڑسکتا ہے، اس سے قبل پی ٹی سی ایل اور دیگر انٹرنیٹ پرووائڈرز کے پاس فائر والز نافذ تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل ایف آئی اے امیگریشن کی طرح کام کرتا ہےجبب آپ نے ملک سے باہر جانے اور ملک کے اندر آتے ہوئے اپنی دستاویزات دکھانےی اورچیکنگ کروانی ہے، اس فائر وال کے بعد ملک کے باہر جانے اور ملک کے اندر آنے والی انٹرنیٹ ٹریفک کو مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔
 

Husaink

Prime Minister (20k+ posts)
14howowojfirlwalalworlk.png

سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی سطح پر ایک فائر وال نافذ کرنےکی تیاریوں کے حوالے سے خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ویب سائٹس اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک فائر وال نصب کرنے کی تیاری کررہی ہے جس کے ذریعے مختلف ویب سائٹس خصوصا سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز کو کنٹرول کیا جائے گا۔

خبروں کے مطابق حکومت نے فائروال کا یہ نظام چین سے حاصل کیا ہے تاہم حکومتی سطح پر اس منصوبے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں اور اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کے باعث کسی بھی سطح پر اس بارے میں بات نہیں کی جارہی۔

تاہم ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ فائر وال سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی طرز پر کام کرے گاجہاں کی حکومتیں ہر ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرتی ہیں، اس فائر وال کی مدد سے ریاست کے مخالف پراپیگنڈہ کرنے والے صارفین کے آئی پی ایڈرسز فوری طور پر حکومت کو دستیاب ہوں گے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کرناممکن ہوسکے گا۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے واضح یا باضابطہ طور پر اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے تاہم چند روز قبل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کا عندیہ دیا تھا، پاک فوج کی جانب سے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ پر بارہا تنقید سامنے آئی ہے اور فوج کی جانب سے اس کو "ڈیجیٹل دہشت گردی " قرار دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وائس آف امریکہ اردو کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں فائر وال سسٹم کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی گئی ہیں جس کے مطابق فائر وال بنیادی طور پر انٹرنیٹ گیٹ ویز پر لگایا جانے والا نظام ہےجس کے ذریعے انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک کیا جاسکتا ہے، اس فائر وال کی مدد سے کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مخصوص مواد کو کنٹرول کیاجاسکتا ہے اور ایسے کسی مواد کو بلاک بھی کیا جاسکتا ہے۔

فائر وال کے حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم بولو کی ڈائریکٹر فریحہ ادریس نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائر وال سسٹم کا اصل مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کرنا ہوتا ہے، اگر ایسا اقدم اٹھایا جاتا ہے تو ای کامرس بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور انٹرنیٹ بینکنگ پر بھی اثر پڑسکتا ہے، اس سے قبل پی ٹی سی ایل اور دیگر انٹرنیٹ پرووائڈرز کے پاس فائر والز نافذ تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل ایف آئی اے امیگریشن کی طرح کام کرتا ہےجبب آپ نے ملک سے باہر جانے اور ملک کے اندر آتے ہوئے اپنی دستاویزات دکھانےی اورچیکنگ کروانی ہے، اس فائر وال کے بعد ملک کے باہر جانے اور ملک کے اندر آنے والی انٹرنیٹ ٹریفک کو مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔
اسکا حال بھی افغاستان بارڈر پر لگائی گئی باڑھ جیسا ہی ہوگا دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور پاکستانی راستے نکال چکے ہوں گے