Request for renewal of licences for two mobile companies on previous fee rejected, ordered to pay 900m

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
P1-Lhr-042.jpg


 

fawad ali

Chief Minister (5k+ posts)
PM ki mudakhilat? These are very technical issues and PM should not mudakhilat in such issues. Let institutions made for this purpose do their job.
 

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
It is good news for common man, I have written on the dawn news published on May 10, 2019

"What a logic provided by the operators to use the same old 2004 USD price (around 65PKR/$), then in this case why not these operators will charge accordingly. It is normal in Pakistan due to inability of local diplomates and corruption (main reason) to threat the foreign investment dropped. Business are based on the and the quality of services. Pakistan is the 10th largest market for mobile operators. Government and the relative departments must not scare the threat or black mailing of these operators. Just for example Qatar or Bahrain is the only population of less then 3 million (a medium city of Pakistan) and more then three operators providing services and earning enough profits."
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Good decision..These mobiles companies earning billions in every years..and giving peanuts for liecenc feeses for 15 years..
 

Sunbeam

Senator (1k+ posts)
*وزیراعظم کی مداخلت کے نتیجے میں* وفاقی حکومت نے 2موبائل فون کمپنیوں ٹیلی نار اور موبی لنک کے لائسنس کی پرانی فیس پر آئندہ 15 سال کیلئے تجدید کی درخواست مسترد کردی ہے اور *دونوں موبائل فون کمپنیوں سے 900ملین ڈالر فیس وصول کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے* *قومی خزانے کو67ارب روپے کے نقصان سے بچا لیا گیا ہے* ۔ اس سے حکومت کو *1 ارب 37 کروڑ ڈالر* کا ریونیو ملے گا ٹیلی نار اور موبی لنک نے 582ملین ڈالر فیس کے عوض آئندہ 15سال کیلئے لائسنس تجدید کروانے کامطالبہ کیا۔ ان موبائل فون کمپنیوں کے تھری جی اور فور جی کے 15سالہ لائسنس کی میعاد 25مئی کو ختم ہوجا ئیگی جبکہ تیسری کمپنی کے لائسنس کی بھی اکتوبر 2019میں 450 ملین ڈالر کے عوض تجدید ہوگی *مسلم لیگ ن کی حکومت میں موبائل فون کمپنیوں کی بھرپور لابنگ تھی لیکن اب 477ملین ڈالر اضافی فیس وصول کی جا ئیگی* اب کوئی چینل نہ خبریں دے گا نہ ٹاک شوز ہوں گے نہ تبصرے کیونکہ پالیسی اشتہارات کمپنیوں کے لئیے ہے کمپنیاں بھی کہتی کاش میاں صاحب سیاست میں زندہ ہوتے تو 10ارب دوبئی میں کمیشن وصول کرتے بذریعہ اقامہ مال لندن سپین ترکی 10 ارب کا ڈسکاونٹ کروا کے خزانے میں پٹواریوں سے بلے بلے 47کمپنیوں کی جیب میں سب خوش لیکن کیا کریں کپتان نے 67ارب سیدھا خزانے میں پہنچا دیا بیچارے کو سیاست ہی نہیں آتی اب ان کمپنیوں کے تحفظ کے لئیے اشتہار بٹورنے والے میڈیا کو تکلیف تو ہوگی کھاتا ہے پر لگاتا بھی ہے والا کھاتہ ہی بند کردیا ایسے کئی ایشو ہیں موبائل کمپنیز کے لائسنس کی تجدید کیلئے کابینہ کی کمیٹی کا 3مئی 2019 کو اجلاس ہوا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996ء کے سیکشن 8 کے تحت سیلولر کمپنیوں کے لائسنس کی مدت ختم ہونے کے معاملے پر پالیسی گائیڈ لائن جاری کردی گئی ہے۔ جس کے تحت زونگ، ٹیلی نار اور موبی لنک کے لائسنسز کی تجدید کی جائے گی فریکوینسی ایلوکیشن بورڈ اور پی ٹی اے کو ہدایت نامے کے مطابق تھری جی، فور جی اسپیکٹرم لائسنسز کی تجدید آئندہ 15 سال کے لیے ہوگی رولز آف بزنس 1973 کے رول 17(1)(c) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 ئکے سیکشن 8 کے تحت وفاقی کابینہ کو سفارشات ارسال کی گئیں جس کے تحت وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فریکونسی سپیکٹرم کے استعما ل کیلئے نئی قیمت 2016اور2017 کے فریکونسی سپیکٹرم کی نیلامی کے وقت مقرر کی جانے والی فی میگا ہرٹز کے مطابق ہو نی چاہیے جیسا کہ 900 میگا ہرٹز کے فریکونسی سپیکٹرم کی فی میگا ہرٹز کی قیمت 39.5 ملین امریکی ڈالر اور 1800میگا ہزٹز کے فریکونسی سپیکٹرم کی فی میگا ہرٹز کی قیمت29.5 ملین امریکی ڈالر تھی۔ ادائیگی کی شرائط کے تحت 100 فیصد ادائیگی یا 50 فیصد فوری اور بقیہ 50 فیصد ادائیگی50 سالانہ اقساط اور KIBOR+3% کے تحت کی جائینگی۔ فیس کی ادائیگی امریکی ڈالر کے ساتھ ساتھ پاکستانی روپوں میں بھی کی جا سکے گی،جس کا تعین ادائیگی کے وقت مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے تحت کیا جا ئیگا۔ اس پالیسی ہدایات کے مطابق لائسنس کی تجدید موجودہ حکومت کی پالیسیز کے مطابق ہونگی۔منظور شدہ ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق سپیکٹرم ٹریڈنگ اور شیئرنگ کی فراہمی پی ٹی اے کی جانب سے تجدید شدہ لائسنس میں شامل ہو گی۔ کوریج اور کوالٹی سے متعلق شرائط و ضوابط تجدید شدہ لائسنس میں پی ٹی اے کی جانب سے شامل کئے جا ئینگے جو کہ ٹیلی کام پالیسی 2015 ءکے عین مطابق ہونگی۔تجدید شدہ لائسنس کی 100فیصد یا 50فیصد ادائیگی 25جون 2019 ءتک کی جا سکے گی۔ اگر مقررہ تاریخ تک سپیکٹرم کو استعمال کیا جا چکا اور ادائیگی نہ کی گئی تو مقررہ مدت کے تناسب سے رقم وصول کی جا ئیگی۔اگر رقم نہ دی گئی تو ایکٹ،رولز اور پالیسی کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے ٹیلی نار اور موبی لنک نے لائسنس کی تجدید میں تاخیر پر پی ٹی اے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ عدالت نے متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکتے ہوئے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے سے 14 مئی کو جواب طلب کیا تھا جس پہ حکومت نے جواب جمع کروا دیا ہے
 

HimSar

Minister (2k+ posts)
PM ki mudakhilat? These are very technical issues and PM should not mudakhilat in such issues. Let institutions made for this purpose do their job.
Abhi tak koi acha mechanism nahi develop hua ke automatically in anamolies ko check karay but I agree, in the long run, it is institutions and systems and regulations that take care of such issues.
Can't blame him, he is undergoing a process and bringing about a revolution and this is the peak mad hour in the labour room.. The time before delivery. Hopefully.
Can only blame the monkeys which had the system since B. C. and still didn't put any mechanisms in place. There, this 'notice le Liya, mudakhilat Kar di,..' bs will not be allowed to fly.