Punjab Bar Lawyer Action Committee demands to Pakistan Bar to withdraw protest at 14 June

kingQ

Minister (2k+ posts)
Potty Eye Liars Action Committee is farting and pleading but their plead will be rejected, lol.
 

kingQ

Minister (2k+ posts)
On 14 June, this harami government will be peed and shitted on its face. Imran Niazi the Mianwali Coward had called his provincial and federal law ministers to Banigala because his shalwar has got some new holes from where hot air is entering and affecting his assets lol.
 

midwayus

MPA (400+ posts)
On 14 June, this harami government will be peed and shitted on its face. Imran Niazi the Mianwali Coward had called his provincial and federal law ministers to Banigala because his shalwar has got some new holes from where hot air is entering and affecting his assets lol.



harrami tu tera leader aur teraY TEIN baAp HAIN


pata nahi kon tera real bap hai NAWAZ YEAH ZARDARI

 

abidbutt

Senator (1k+ posts)
Pakistan Bar Council has no real issue to build any movement as a constitutional process been initiated against the allegedly corrupt judges and there is nothing wrong about the process. The other interpretation of their movement is all the judges sitting in the supreme judicial council are biased and partisan against the judges facing corruption charges which is rubbish. It is not like Iftikhar's case because the military dictatorship tried to remove him by force and did not adopt any constitutional way and hence we saw a unanimity among all the lawyers which would be lacking here.
 

tipupk

Minister (2k+ posts)
پنجاب بار کونسل نے زرداری اور نواز شریف کے پالتو جانوروں کی ساری ہوا نکال دی، شاباش
 

Lefty

Minister (2k+ posts)
Credit goes to Chaudhary brothers who met with Lawyers on Eid Millan Party and puncture the tyre of saazish from zarnawaz and qazi choosa I mean qazi Eesa
 

Geek

Chief Minister (5k+ posts)
images-1-3.jpeg




سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی کے ریفرنس کے معاملے پر پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی ان ایکشن ہوگئی، 14 جون کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا پاکستان بار کونسل سے ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ بھی کردیا.



پنجاب بار کونسل کے سیکریٹری ایڈووکیٹ شاہد گوندل کی سربراہی میں اسلام آباد میں وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب بار کونسل سمیت ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک ہوئے۔ سابق ممبر پاکستان بار کونسل اورسابا وائس چیئرمین پنجاب بارکونسل اور سابقہ وکلاء تحریک کے روح رواں سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ بار سید ذوالفقار علی بخاری بھی شریک ہوئے.

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ججز ریفرنس کے معاملے میں شخصیت کی نہیں رول آف لاء کی پیروی کرنی ہے، ہمارا مقصد بےلاگ احتساب ہے اور ہمیں شخصیت کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط دیکھنا ہے، آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے۔



سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر رائے بشیر کھرل نے کہا کہ صدر مملکت نے ریفرنس بھیج کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے، ہم جج بچاؤ تحریک نہیں چلائیں گے نہ ہی کسی جج یا سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے۔

صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر 2007 کی وکلاء تحریک کے وقت ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے وکیل تھے۔

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہوسکتا ہے، قانون سے کوئی بالاتر نہیں چاہے وی جج ہی کیوں نہ ہو۔

اجلاس کے شرکاء نے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ہڑتال کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کیا جب کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی رکنیت معطل کرنے کی مذمت بھی کی گئی۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی وکلاء کا اوپن ہاؤس اجلاس بلائیں اور ان سے فیصلہ لیں۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلز ک اہم اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہوا تھا۔ جس میں صوبائی بار کونسلز کے چند نمائندوں شرکت کی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی 14 جون کو سماعت کے موقع پر ہڑتال کا اعلان کیا۔

پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کے اجلاس میں وزیرقانون سینیٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کی مذمت کی گئی تھی اور دونوں سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کیا تھاکہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کےخلاف ریفرنس واپس لیا جائے۔



---------------------------------------------------------------------------------------------------------------

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی اور اسلام آباد بار کونسل کا اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس۔۔۔!!!
اجلاس میں پنجاب اور اسلام آباد کے تمام وکلاء نمائندگان کی شرکت ۔۔
اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔۔۔
١: پنجاب وکلاء ایکشن کمیٹی نے پاکستان بار کونسل کی ہڑتال اور احتجاج کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔۔
٢: پاکستان بار کا ریفرنس کی سماعت سے قبل احتجاج کی کال دینا معنی خیز ہے۔۔۔اجلاس میں ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ بھی کر دیا۔۔۔
٣: آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لگنے والے الزامات سے سب واقف ہیں۔۔۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔۔۔
۴: وکلاء رہنماوں کا مزید کہنا تھا کہ ججز کو احتساب سے ڈرنا نہیں چاہیے اور قانون سے لوئی بھی بالاترنہیں ہے*۔۔۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راولپنڈی ڈسٹرک بار ایسوسی ایشن کے # *جنرلسیکرٹریایڈووکیٹشہزادمیر اور لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے جنرلسیکرٹریمحمد_فیصل نے کہا کہ ہم وکلاء آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے اور قانون کے محافظ ہیں ۔۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اداروں کے ساتھ ہیں نہ کہ کسی شخصیت کے ساتھ ہیں۔۔۔
پنجاب بارکونسل
اسلام آبادبار_کونسل


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-28-PM.jpg



Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-08-57-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-11-16-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-11-34-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-18-PM.jpg



Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-19-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-20-PM.jpg
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
Aman ullah hrami gushti bachaa Mafia naay khareed liyaa hai yeh hram kaa nutfaa pehlay apni ...m ke khassm musharaff kaa wakeel thaa iss hram khor fradiyaa kaay assasay bank account aur baqi aaj klll apni maa ke najaiz khusmo saay wasooli ko bhi check krnay ki zaroort hai kyonkeh sirff gushti ke bachay hram ke nutfaay laanti khanzeeron ki aulaad bikaooo dallay hi Mafia aur corruption ki traff dari krr ke mulk dushmni krr saktay hain
 

kingQ

Minister (2k+ posts)
images-1-3.jpeg




سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی کے ریفرنس کے معاملے پر پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی ان ایکشن ہوگئی، 14 جون کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا پاکستان بار کونسل سے ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ بھی کردیا.



پنجاب بار کونسل کے سیکریٹری ایڈووکیٹ شاہد گوندل کی سربراہی میں اسلام آباد میں وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب بار کونسل سمیت ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک ہوئے۔ سابق ممبر پاکستان بار کونسل اورسابا وائس چیئرمین پنجاب بارکونسل اور سابقہ وکلاء تحریک کے روح رواں سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ بار سید ذوالفقار علی بخاری بھی شریک ہوئے.

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ججز ریفرنس کے معاملے میں شخصیت کی نہیں رول آف لاء کی پیروی کرنی ہے، ہمارا مقصد بےلاگ احتساب ہے اور ہمیں شخصیت کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط دیکھنا ہے، آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے۔



سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر رائے بشیر کھرل نے کہا کہ صدر مملکت نے ریفرنس بھیج کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے، ہم جج بچاؤ تحریک نہیں چلائیں گے نہ ہی کسی جج یا سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے۔

صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر 2007 کی وکلاء تحریک کے وقت ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے وکیل تھے۔

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہوسکتا ہے، قانون سے کوئی بالاتر نہیں چاہے وی جج ہی کیوں نہ ہو۔

اجلاس کے شرکاء نے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ہڑتال کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کیا جب کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی رکنیت معطل کرنے کی مذمت بھی کی گئی۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی وکلاء کا اوپن ہاؤس اجلاس بلائیں اور ان سے فیصلہ لیں۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلز ک اہم اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہوا تھا۔ جس میں صوبائی بار کونسلز کے چند نمائندوں شرکت کی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی 14 جون کو سماعت کے موقع پر ہڑتال کا اعلان کیا۔

پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کے اجلاس میں وزیرقانون سینیٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کی مذمت کی گئی تھی اور دونوں سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کیا تھاکہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کےخلاف ریفرنس واپس لیا جائے۔



---------------------------------------------------------------------------------------------------------------

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی اور اسلام آباد بار کونسل کا اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس۔۔۔!!!
اجلاس میں پنجاب اور اسلام آباد کے تمام وکلاء نمائندگان کی شرکت ۔۔
اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔۔۔
١: پنجاب وکلاء ایکشن کمیٹی نے پاکستان بار کونسل کی ہڑتال اور احتجاج کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔۔
٢: پاکستان بار کا ریفرنس کی سماعت سے قبل احتجاج کی کال دینا معنی خیز ہے۔۔۔اجلاس میں ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ بھی کر دیا۔۔۔
٣: آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لگنے والے الزامات سے سب واقف ہیں۔۔۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔۔۔
۴: وکلاء رہنماوں کا مزید کہنا تھا کہ ججز کو احتساب سے ڈرنا نہیں چاہیے اور قانون سے لوئی بھی بالاترنہیں ہے*۔۔۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راولپنڈی ڈسٹرک بار ایسوسی ایشن کے # *جنرلسیکرٹریایڈووکیٹشہزادمیر اور لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے جنرلسیکرٹریمحمد_فیصل نے کہا کہ ہم وکلاء آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے اور قانون کے محافظ ہیں ۔۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اداروں کے ساتھ ہیں نہ کہ کسی شخصیت کے ساتھ ہیں۔۔۔
پنجاب بارکونسل
اسلام آبادبار_کونسل


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-28-PM.jpg



Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-08-57-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-11-16-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-11-34-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-18-PM.jpg



Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-19-PM.jpg


Whats-App-Image-2019-06-09-at-11-33-20-PM.jpg
Lawyers' Action Committee is not the bar council, ya Jahil potties
 

Doctor sb

Senator (1k+ posts)
وکلاء میں اختلاف راۓ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی عقل، فہم، اور منطق بالکل دفن نہیں ہوئی- چند ایسے سرپھرے ابھی موجود ہیں جو بڑے نام نہاد وکلاء کے ہاتھوں میں کھیلنے کو تیار نہیں - ان بڑے معتبروں کا ایجنڈا بھی سامنے آ جاۓ گا جنھوں نے اس موقع پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی