NAB takes notice of alleged corruption in Peshawar BRT

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Its good to investigate every Mega project in the country.

After every such news the records are burnt in Punjab, but I am sure nothing of that sort will happen in KPK..
 

wamufti

Senator (1k+ posts)
Say se pehle record confiscate kero - Then audit it to maximum - we must know the reasons for increase in cost and if all the money is accounted for. Cant compare it to Lhr BRT . Peshawar BRT will have 32 stations, two depots, 68 kilometers feeder bus routes, 150 bus stops, 450 buses, six storied parking plaza and 61 acres of commercial plaza. Unlike Lhr BRT - There will be no subsidy and hence will not cost Govt to run it.

I know you guys want to know full details of the project - here it is on ADB website

https://www.adb.org/projects/48289-001/main
 

Birdie101

Senator (1k+ posts)
Ham bhi iss ko pre poll rigging keh saktein hein.Lekin hum rona dhona nahi kertai pml-n ki tarah.
 

Birdie101

Senator (1k+ posts)
Thing is that Pakistan public loves development.I have seen a lot of public opinions shows in Peshawar and majority support brt.This is first government in history who has done this mega project for them.
 

Birdie101

Senator (1k+ posts)
Waise iss Peshawar brt nei basti hei karwai hei pti ki.Yei Pervez Khattak ka demag hi kharab tha jo iss nei samhja kei itna bara project 6 months mein complete ho jae ga.It would be better to buy busses like speedo and run in Peshawar. Sigh.
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
HAHAH
LAHORE METRO 30 B
KPK METRO 70 B


WAH YOUTH!A WAH

لاہور میٹرو بس کا پروجیکٹ شہباز شریف نے اپنے دوسرے دور اور اپنی پارٹی کے چوتھی باری میں ستبمر 2011 کو شروع کیا اور فروری 2013 کو اس کے ایک حصے کا افتتاح ہوا۔ 2017 میں اس می فیڈر روٹس اور بسیں بھی شامل کی گئی ۔

پشاور میں تحریک انصاف نے اپنے پہلی حکومت میں ہی بی آرٹی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد نومبر 2017 میں رکھا۔ اس پروجیکٹ پر ابھی تک 80 فیصد کام ہو چکا ہے اور جولائی کے اخر میں مکمل ہو جائے گا۔
  1. سڑکوں. روڈز، پلوں اور بریجز کی تعمیر
لاہور میٹرو کے لئے سڑکوں، انڈر پاسیز اور پلوں سمیت 27 سٹیشنز کی تعمیر پر تقریباً 30 ارب کی لاگت آئی ۔ جبکہ پشاور بی آرٹی کے لئے سڑکوں، بریجز اور انڈر پاسز پر تقریباً 30 ارب کا خرچہ آیا ہے۔ اس لاگت میں ایک اضافی سائیکل ٹریک بھی شامل ہے۔ لاہور اور پشاور کی میٹرو بس سسٹم میں روٹ کی لمبائی ایک جتنی ہیں ۔
  1. بسوں کی خریداری
پشاور بی آرٹی میں 300 بسوں کی خریداری پر 7.5 ارب کا خرچہ ہیں جبکہ لاہور میں بسوں کی خریداری پر کتنا خرچہ ایا ہے اس کی کوئی سرکاری یا غیر سرکاری دستاویز موجود نہیں ۔ پشاور میں موجود پرانی بسوں اور ویگنوں کو حکومت خود خرید کر سکریپ کریگی جس ہر 1 ارب روپے کا خرچہ آئے گا جبکہ لاہور میں کوئی ایک بھی پرانی بس حکومت نے نہیں خریدی ۔
  1. ٹیکسیز اور ڈیوٹی
پشاور بی آر ٹی پر ڈیوٹی اور ٹیکسیز کی مد میں 2.4 ارب روپے کا خرچہ ہوگا جبکہ لاہور میٹرو کی ڈیوٹیز اور ٹیکسیز وفاق نے یا تو معاف کئے ہیں یا خود ادا کئے ہیں ۔ اس حوالے سے کوئی بھی سرکاری رپورٹ یا دستاویز نہیں ۔
  1. شاپنگ مال اور دوکانیں
پشاور بی آرٹی کے روٹ پر امن چوک پر ایک جدید شاپنگ پلازہ تعمیر ہو رہا ہے جس میں 1100 دوکانیں بنائی جائیں گی۔ اس کے لئے 8.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ لاہور میٹرو میں کوئی ایک بھی دوکان نہیں جو حکومت پنجاب کے لئے اضافی آمدن دے سکے ۔
  1. زمین کی خریداری
زمین کی خریداری پر بی آر ٹی میں تقریباً 1.5 ارب روپے لگائے گئے ہیں جبکہ پنجاب میں زمینوں کی خریداری پر کتنا خرچہ آیا کوئی سرکاری اور غیر سرکاری دستاویز موجود نہیں ۔
  1. سسٹم اور ٹیکنالوجی کا خرچہ
بی آرٹی پشاور سسٹم چلانے کے لئے 1.5 ارب روکھے گئے ہیں جبکہ لاہور میٹرو کا ٹیکٹینگ سسٹم اور باقی یوٹیلیٹیز پر کتنا خرچہ آیا ہے دنیا اس سے بے خبر ہیں ۔
  1. اطراف کی تزئین و آرئش اور فیڈر سسٹم
پشاور بی آرٹی کے اطراف میں تمام روڈز کی تعمیر، تزیئن آریش اور شہر کی خوبصورتی کے لئے 11 ارب رکھے گئے ک ہیں جبکہ لاہور میں میٹرو بننے کے بعد اس کے لئے الگ سے فنڈ رکھا گیا تھا ۔

بی آرٹی کی اس 1 1ارب روپے میں میں8 فیڈر روٹس پر محیط 68 کلویٹر روٹ کی تعمیر ، سٹیشنز اور لاجسٹک بھی شامل ہیں ۔ لاہور میں فیڈر سروس2017 میں شروع کی گئی اور اس پر 5 ارب کا خرچہ ایا جو صرف ڈائیو بس سروس کو بسیں خریدنے کے لئے دئے گئے۔
  1. سبسڈی اور قرض کی واپسی
بی آرٹی کو ٹرانز پشاور چلائی گی جو اپنی آمدنی سے 59 ارب روپے کی قرضے اتارے گی اورقرضہ اتارنے کے بعد پورا بی آرٹی سسٹم خیبر پختونخواہ حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا ۔ یاد رہے پختونخواہ حکومت اس پروجیکٹ پر پر زیرو سبسڈی دے گی

جبکہ لاہور میٹرو کو چلانے کے لئے پنجاب حکومت اب تک 10 ارب کی سبسڈی دے چکی ہیں اور 2 ارب روپے ہر سال سبسڈی دیتی رہے گی۔۔

http://www.humsub.com.pk/134979/gulzar-khan-6/?print=print