Mufti Muneeb-u-Rehman & Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi on Dollar Hoarding

Kashif Rafiq

Prime Minister (20k+ posts)
news-1558545237-5275.jpg

کراچی (سٹاف رپورٹر)تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے جن فارن ایکسچینج کمپنیوں کو حکومت نے پاکستانی کرنسی کے عوض غیر ملکی کرنسیوں کی خرید وفروخت کا لائسنس دیاہے ، اُن کا کاروبار فی نفسہ جائز ہے ،اگر کسی کے پاس حکومتی لائسنس نہیں اور وہ یہ کاروبار کرتاہے ،تو خلافِ قانون ہے اور اِسی بناپر شریعت میں بھی منع ہے ،اس وقت پاکستان ڈالر یعنی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی قلت کا شکار ہے اور ملک اقتصادی مشکل سے دوچار ہے ،پس ایسے حالات میں جب کسی چیز کی ملک وقوم کو شدیدضرورت ہو یا معاشرے میں قلّت ہو ، محض ذاتی منافع خوری کیلئے اُسے خرید کر ذخیرہ اندوزی کرنا شریعت کی رُو سے منع ہے ، ملک کے اندر لین دین مقامی کرنسی میں ہوتاہے ، اس لئے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر ٹوٹ پڑنا محض ہوسِ زَر ہے اور خود غرضی ہے ،جو شریعت ،قانون اور اخلاقیات کی رُوسے انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے ،البتہ غیر ملکی سفری ضروریات کیلئے ضرورت کے مطابق زرِ مبادلہ رکھنا درست ہے ۔


اوکاڑہ(24 نیوز) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہرمحموداشرفی کاکہنا ہے کہ ملک کو اس وقت ڈالر کی ضرورت ہے۔

کونسل کے دارالافتاء کے مطابق ڈالرکاذخیرہ کرنا حرام ہے۔ جن کے پاس ڈالر ہیں وہ ان کو نکال دیں کیونکہ ملک کااستحکام سب کا استحکام ہے۔ اسٹیٹ بینک بھی اپنی پالیسی کوتبدیل کرے، حکمران عوام کواعتماد میں لیں، اپوزیشن کا اتحاد حکومت کونہیں گراسکتا۔ اسٹیٹ بینک کوچاہیے کوئی ایسی پالیسی بنائے کہ تاجر برادری، عوام ڈالر ان کے پاس امانت کے طور پر جمع کروائیں۔حکمران عوام کو اعتماد میں لیں تاکہ ملک بچاؤ قرض اتارو جیسی صورتحال نہ ہو. عوام اعتماد کر سکیں۔

علامہ طاہرمحموداشرفی کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ہمارا عقیدت کارشتہ ہے اور ایران ہمارا پڑوسی ہے ہم سمجھتے ہیں بات چیت سے مسائل حل ہونے چاہئیں جس کے لیے پاکستان کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ حو ثی باغیوں کی مد د یا اس طرح کے کسی دہشت گرد گروہوں کی امداد بند ہونی چاہیے. دنیا امن چاہتی ہے۔سعودی عرب کے امن سلامتی اور دفاع کے لئے ہر طرح سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور جو کل اور پرسوں حملے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں.

پاکستان علماء کونسل کے دارالافتاء نے آج فتویٰ جاری کیا ہے کہ ڈالر کا ذخیرہ یا جن چیزوں کی ملک کو ضرورت ہے اس کا ذخیرہ حرام ہے، احتساب سب کا ہونا چاہیے اور غیر جانبدار ہونا چاہیے.



 

Ayaz Ahmed

Senator (1k+ posts)
معاملات - بیع و تجارت
Pakistan
سوال # 21854
حضرت کاروبار کے حوالہ سے مسئلہ معلوم کرنا تھا وہ یہ کہ (۱)کیا اسلامی نقطہ نظر سے مستقبل میں قیمت بڑھنے کے پیش نظر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اور نیز یہ بھی بتائیں کہ کس طرح کے سامان کا اور کتنی مقدار میں ذخیرہ کرنا جائز ہے؟ (۲)کیا اسلامی نقطہ نظر سے لین دین کو پیشگی طے کرنا یا کسی بھی قسم کی فصل کو پیداوار سے پہلے طے کرنا جائز ہے؟
Published on: May 9, 2010
جواب # 21854
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 727=727-5/1431

مستقبل میں قیمت بڑھ جانے کی امید پر اشیاء کو خریدکر اپنے پاس روک لینے اور ذخیرہ جمع کرلینے کی وجہ سے اگر اہل بستی کو پریشانی وگرانی اور نقصان ہو تو یہ احتکار (ذخیرہ اندوزی) ممنوع ومکروہ ہے ورنہ نہیں۔ رہا سوال کہ کس طرح کے سامان کی ذخیرہ اندوزی مکروہ ہے تو
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو چیزیں انسان اور جانوروں کی قو ْت اور خوراک ہوا کرتی ہیں اور امام ابویوسف رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہر وہ چیز جس کا حبس عام لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو تو وہ احتکار مکروہ ہے: وکرہ احتکار قوْت البشر والبہائم․․․ وفي الشامیة: والتقیید بقوْت البشر قول أبي حنیفة ومحمد وعلیہ الفتویٰ کذا في الکافي وغیرہ، وعن أبي یوسف: کل ما أضر بالعامة حبسہ فھو احتکار (شامي)
(۲) بیع سلم (جس میں ثمن پیشگی اور مبیع ادھار ہوتی ہے) میں جائز ہے لیکن سَلَم کے جواز کی کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں مفصل مذکور ہیں ان شرائط کے مطابق معاملہ سلم طے ہو تو جائز اور درست ہے ، ورنہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند
 

Ayaz Ahmed

Senator (1k+ posts)
اشیاء کی ذخیرہ اندوزی
سوال

کن اشیاء کی ذخیرہ اندوزی جائز نہیں؟
جواب

ایسی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی جوضروریات میں شامل ہوں (یعنی ان کا تعلق ضروری غذا سے ہو)، اورذخیرہ اندوزی بھی ایسی ہوکہ جس سے معاشرہ کے افراد تکلیف میں آجاتے ہیں، دام مصنوعی طور پر بڑھ جاتے ہیں یا دام بڑھنے کی صورت میں ان اشیاء کی فروخت بند کردی جاتی ہے ،حال آں کہ لوگوں کو اس کی طلب ہوتی ہے، اسلام میں ایسی ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے ،احادیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں ۔
چند وعیدات ملاحظہ ہوں:
۱) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’الجالب مرزوق، و المحتکر ملعون‘‘. (سنن ابن ماجہ: باب الحکرۃ والجلب)یعنی: تاجر کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ کرنے والا ملعون ہے۔
۲) اسی طرح حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسلمانوں میں گراں فروشی کی تو اللہ تعالی کا حق ہے کہ اسے قیامت کے دن بہت بڑی آگ میں ڈال دے۔ (سنن کبری بیہقی: 10855)
البتہ اگرمعاشرے میں اس چیزکی ضرورت پوری ہورہی ہو اورمقصود لوگوں کوپریشانی میں مبتلا کرکے زائد نفع خوری نہ ہو، بلکہ صرف اس شے کو زائدمقدارمیں خریدکررکھاجائے،​
سیزن کے علاوہ بھی لوگوں کی طلب پراس شے کو روکانہ جائے یا اس چیز کا تعلق غذائی ضرورت سے نہ ہو تو اس صورت میں ذخیرہ اندوزی جائز ہے​
۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200503
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن​