Mobile Culture In Pakistan

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
apps-sphere-pattern_~k4534651.jpg

18.gif


smag_heading.jpg
 

hans

Banned
Before Mobile Phone there was land line, before that it was TV, before that it was Radio before that it was Village Water well.

For a Student who wants to study there is no problem....
 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
نو جوان نسل کی بربادی کا ذمہ دار کون ؟



-موبائل فون کا غلط استعمال نو جوان نسل کو تیزی سے تباہی کی طرح لے جارہا ہے اور اس کی منزل ایک ایسی بند گلی ہے کہ جہاں سے واپسی بہت مشکل ہے۔ ایک سابقہ حکومت کی طرف سے ٹیلی کمیو نیکیشن کی دنیا میں جہاں آسانیاں پیدا کی گئیں اور انٹر نیٹ اور موبائل فون کا ایک انقلاب برپا کرتے ہوئے اس کا حصول اتناآسان بنادیا گیا کہ ایک معمولی ملازم رکشہ ڈرائیور ، مزدور، اور ایک گدھا گاڑی چلانے والے کے ہاتھ میں بھی باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ انسانی ضروریات اور آسائش کی خاطر ایجاد کی جانے والی ہر چیز صرف اسی وقت تک مؤثررہ سکتی ہے جب تک کہ اس کا استعمال مثبت ہو ویسے تو ہمارے معاشرے میں ہماری اسلامی اقدار ، شرم و حیاء ، ادب و آداب کو تباہ کرنے کے لیے جہاں اور بہت سے اسباب اور ذرائع موجود ہیں وہیں دو چیزوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی جن کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انٹر نیٹ کے مؤثر اور مثبت استعمال نے دنیا بھر میں بہت سے علوم کے خزانے کھولے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں اس مؤثر ایجاد سے بہت ہی کم فوائد حاصل کیے جارہے ہیں۔ نوجوان نسل نے اسے معلومات میں اضافے اور دیگر نئے اور جدید علوم تک آسانی سے رسائی پانے کے بجائے اسے صرف ذہنی عیاشی کے طور پر دل بہلانے کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے انٹرنیٹ تک آسانی سے رسائی اب چونکہ کوئی مسئلہ نہیں رہا جگہ جگہ انٹر نیٹ کیفے اور ان میں بیٹھے نوجوان جب اپنے اخلاق اور شرم و حیاء کے جنازے خود اپنے ہی ہاتھوں سے نکال رہے ہوں تو اس وقت ان کی اس بے راہ روی پر ہمارا معاشرہ سوائے چند آنسو گرانے کے تباہی کے ان اڈوں کے خاتمے کے لیے کیا کچھ کرسکا ہے ۔ جہاں انٹر نیٹ کیفے نے ہماری نوجوان نسل کے لیے تباہی کا سامان کیا وہیں یہ موبائل فون کمپنیاں بھی اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں اور بچی کچھی کسر ان موبائل کمپنیوں نے پوری کردی اور اس کو اتنا آسان کردیا کہ اب نوجوان نسل کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے نیٹ کیفے تک جانے کی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑتی بس صرف چند سو روپے کا ایک موبائل خرید کر کسی بھی کمپنی کی سم لگالیں جو 150روپے تک کی حقیر سی رقم میں مل جاتی ہے بلکہ کچھ کمپنیاں تو بعض اوقات فری میں سم مہیا کررہی ہیں ‘سم موبائل میں لگانے کی دیر ہوتی ہے کہ خود بخود کمپنیوں کی طرف سے SMSکا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جن میں انٹر نیٹ ایکٹویٹ کرانے سے لے کر آپ کے پسندیدہ فلمی گانے اور موبائل فون پر لڑکے لڑکیوں سے دوستی کرانے جیسے پیغامات کی ایک بھر مار ہوتی ہے قطع نظر اس کے کہ موبائل فون استعمال کرنے والے شخص کی عمر کتنی ہے آیا وہ بالغ ہے یا نہیں ، اسے صحیح اور غلط کی پہچان ہے بھی یا نہیں وہ اچھائی یا برائی کی تفریق کر بھی سکتا ہے یا نہیں ۔ نوجوان نسل کے اخلاقی بگاڑ اور راہ روی جیسے ناسور کو خوب سے خوب بڑھا یا جاتا ہے ۔موبائل کمپنیوں کے پاس نہ تو ایسی کوئی Deviceیا Softwareموجود ہے کہ وہ انٹر نیٹ سروسز کی فراہمی کے وقت اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ اس کو صرف باشعور لوگ ہی استعمال کررہے ہیں اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی دوسرا لائحہ عمل، اور نہ ہی ان کمپنیوں کو اس سے کوئی غرض ہے انہیں تو بس اپنے کاروبار کو پھیلا نے کے لیے زیادہ سے زیادہ گاہکوں کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے ملک میں اس وقت موبائل سروسز فراہم کرنے والی پانچ بڑی کمپنیاں ، وارد، موبی لنک،یوفون، زونگ، اور ٹیلی نور ، کے نام سے موجود ہیں جن میں ایک قومی اور باقی 4کمپنیاں بین الااقوامی ہیں جو صرف ایک دن میں کروڑوں روپے کا بزنس کرتی ہیں اور اپنے اس بزنس میں ترقی کے حصول کی خاطر کروڑوں روپے صرف اشتہارات پر خرچ کردیے جاتے ہیں۔اخبارات اور برقی ذرائع ابلاغ پر اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مرعوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے واضح رہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کی موبائل فون کمپنیاں ایک سوروپے کا کارڈ لوڈ کرتے ہی 18روپے اسی وقت ٹیکس کے نام پر وصول کرلیتی ہیں اور ستم یہ کہ اسی پر بس نہیں بلکہ اس کے بعد بھی مسلسل ہر کال پر فی منٹ کے حساب سے کال چارجز کے علاوہ دوبارہ سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے یعنی کارڈ لوڈ کرتے وقت 18روپے اور پھر ہر منٹ پر بات کرنے کے علیحدہ سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں اور یوں صارف کو بات کرنے کے لیے 40سے 50روپے ہی مسیر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے پیکجز متعارف کر واکر عوام کو مختلف انداز میں بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ایک غور طالب بات یہ ہے کہ ہر کمپنی اپنے صارفین کو چاہے وہ معمول کی کالز ہوں یا کوئی مخصوص پیکج ، اس کے مکمل چارجز بالکل بھی ظاہر نہیںکرتیںاور صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کال مثلاً 2روپے+ٹیکس یا پھر 3.50روپے فی گھنٹہ +ٹیکس ، یعنی وہ رقم ٹیکس کو ملا کر اتنی بن جاتی ہے کہ اگر اس کی تفصیل سے کسی بھی صارف کو آگاہ کردیا جائے تو یقیناصار فین کی اکثریت اس پیکج کو حاصل کرنے سے گریز کرے لیکن ان کمپنیوں کے پاس مارکیٹنگ کا با قاعدہ ایک ایسا شعبہ ہے جو کہ عوام الناس کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے اور وہ شعبہ ایک منظم منصوبے کے تحت صرف اسی مقصدپر عمل پیر ا ہوتا ہے کہ کسی طرح عوام کی جیبوں سے زیادہ سے زیادہ رقم اینٹھی جاسکے۔ عوام سے اتنا پیسا کمالینے کے بعد بھی پاکستا ن میں موبائل فون کمپنیوں کے نیٹ ورک پیکجز میں کہا کچھ اور جاتا ہے اور کیاکچھ اور جاتا ہے مثلاً بعض اوقات، نیٹ ورک پر ابلم، سگنل کا نہ آنا، اکثر اوقات نیٹ ورک کا بہت زیادہ مصروف رہنا جس کی وجہ سے صارف کو بر وقت کال کرنے میں دشواری ہو، ہیلپ لائن پر دیر تک انتظار کرنا، اور پھر عوام کے غصے کو کنٹرول کرنے کے لئے خوبصورت آواز اور الفاظ کے جادو گروں کو ہیلپ لائن کی سروسز جیسی ذمہ داری سونپ کر عوام کو مزید بے وقوف بناتے ہوئے راہ فراراختیار کرنا، عوام کی بے جا پریشانیوں کا سبب بنتا ہے۔ ایسے میں پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں سروس فراہم کرنے والی ان موبائیل فون کمپنیوں کو چند قواعد وضوابط کا پابند بنائے کہ موبائل کمپنیوں کو جن باتوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ان میں .1انٹر نیٹ اور دیگر سروسز کی فراہمی کے وقت کو ئی ایسا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے۔ جس میں پتا چل سکے کہ موبائیل فون استعمال کرنے والا شخص یا صارف کس عمر کا ہے .2صارفین کی پریشانیوں اور ان کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے سروس فراہمی کو بہتر سے بہتر انداز میں یقینی بنا یا جائے.3کال ریٹس ٹیکس کے ساتھ ملا کر بتایا جانا چاہیے وہ بھی صارف کے بنا پوچھے یعنی عوام کو +ٹیکس جیسے دھوکے میں نہ رکھا جائے.4پیکجز کے تحت اعلان کردہ ریٹس پر کسی صورت بھی سمجھوتا نہ کیا جائے.5کال سینٹر پر صارف کو دیر تک انتظار کروانے اور پھر بار بار لائن کٹنے اور ہیلپ لائن کے واجبات وصول کرنے جیسے مسائل کا ادراک کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی کے لیے بھی یہ ایک لمحہ فکر ہے کہ اسلامی دنیا میں مذہب کے نام پر وجود میں آنے والا واحد اسلامی ملک پاکستان ایک انٹر نیشنل سروے کے مطابق سیکس اور Blue Nude Sideسرچ کرنے والے ممالک میں گزشتہ 7سال سے مسلسل پہلے نمبر پر آرہا ہے لہٰذا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ جس سے انٹرنیٹ پر Blue Sideکو بلاک کیا جا سکے جیسا کہ کئی عرب ممالک میں ان کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹیز نے ان کو بلاک کر رکھا ہے ۔والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچو ں کو اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت ہر گز نہ دیں جب تک وہ اس کے اچھے اور برے استعمال اور اس کے فوائد و نقصانات سے آگاہ نہ ہوجائیں، اور خاص طور پر معصوم بچو ں اور بچیوں کی سالگرہ پر موبائل فون کا تحفہ دینے جیسے معاملات میں بہت زیادہ احتیاط کریں۔




 

awan4ever

Chief Minister (5k+ posts)
Idher aik aur sawal bhe uthaya jana chaheaye.


Ye mobile technologies jo hamaray pass hien in say kaheen ziada high speed connections and data plans China, Japan, Europe aur America aur deegar taraqqi yaafta mumalik mein available hein.

Mera sawal ye hay keh ye mobile technology sirf hamari he nojawan nasl ko kyun kharab ker rahi hay (ager ker rahi hay), Japani aur Cheeni bachay kyun aj bhe perhai likhai mein utnay he agay hein?

Totay dekhnay ka dil tu sab mumalik kay nojawano ka aik sa kerta hay!
;)
 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
Is lie ke humari koum ke dosrron ka munh surk dekh ker apna bi surk ker leti hai,humare taleemi nazam ne noujwan nasal ko batia hi kia hai...taleem kia our akhlaq kia hoote hain? bat wo hi hai english ki..bechare matirc men 30+3 se pass hoote hain.....wo internet our mobile ke fawaid kia jane ge.....wo wo hi keren ge jis ka ziker app ker rahe hain.......Yo ajj her internet club our mobile phone per ho raha hai.

Idher aik aur sawal bhe uthaya jana chaheaye.


Ye mobile technologies jo hamaray pass hien in say kaheen ziada high speed connections and data plans China, Japan, Europe aur America aur deegar taraqqi yaafta mumalik mein available hein.

Mera sawal ye hay keh ye mobile technology sirf hamari he nojawan nasl ko kyun kharab ker rahi hay (ager ker rahi hay), Japani aur Cheeni bachay kyun aj bhe perhai likhai mein utnay he agay hein?

Totay dekhnay ka dil tu sab mumalik kay nojawano ka aik sa kerta hay!
;)
 

awan4ever

Chief Minister (5k+ posts)
Is lie ke humari koum ke dosrron ka munh surk dekh ker apna bi surk ker leti hai,humare taleemi nazam ne noujwan nasal ko batia hi kia hai...taleem kia our akhlaq kia hoote hain? bat wo hi hai english ki..bechare matirc men 30+3 se pass hoote hain.....wo internet our mobile ke fawaid kia jane ge.....wo wo hi keren ge jis ka ziker app ker rahe hain.......Yo ajj her internet club our mobile phone per ho raha hai.


Tu phir mobile fones aur technology ko gaalian denay kay bajai humein 'root cause' per tawajjuh deni chaheaye because unless you plan to turn into North Korea, there is no stopping technology and its increasing influence on our daily lives.

Doosri bat ye ke jo log West mein musalman ho rahay hein ya wahan reh rahay hein kia unko bhe English ko tark ker dena chaheaye?
 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
Bahi jis mulk men rehte hain us ki zaban ko q tarak kere,bat sirif culture ki hoo rahe hai,our sub is ko doosre andaz men samjate hai........bus root cause ki behs hai sirif ,jadeed techonology ko choor ker app kahan jaien ge....Pakistani tu phele hi andere men hain....rooshnimen bi our taleem se bi.

Pakistan ki misal ese hi hai:
Kawa chala hans ki chal apni bi bhool gia.


Tu phir mobile fones aur technology ko gaalian denay kay bajai humein 'root cause' per tawajjuh deni chaheaye because unless you plan to turn into North Korea, there is no stopping technology and its increasing influence on our daily lives.

Doosri bat ye ke jo log West mein musalman ho rahay hein ya wahan reh rahay hein kia unko bhe English ko tark ker dena chaheaye?
 

awan4ever

Chief Minister (5k+ posts)
Bahi jis mulk men rehte hain us ki zaban ko q tarak kere,bat sirif culture ki hoo rahe hai,our sub is ko doosre andaz men samjate hai........bus root cause ki behs hai sirif ,jadeed techonology ko choor ker app kahan jaien ge....Pakistani tu phele hi andere men hain....rooshnimen bi our taleem se bi.

Pakistan ki misal ese hi hai:
Kawa chala hans ki chal apni bi bhool gia.


So once again, lets talk about educating people instead of saying ye bhe nuksan deh hay wo bhe nuksaan deh hay.

Educated people can make better choices for themselves.
 
Sponsored Link