JI works:
پاکستان کے لیے سبکی کا پہلو نہیں‘
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چینی حکام کہتے رہے ہیں کہ اس کے صوبے چینگ شیانگ (سنکیانگ) میں مسلم علیحدگی پسند تحریک کو پاکستانی سر زمین سے مدد مل رہی ہے
چینی علاقے شنگ جیانگ میں پُر تشدد واقعات کی پیش بندی کے لیے چین اور پاکستانی حکام کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد سیاسی اور سفارتی رابطے ہوئے ہیں جن پر پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق چین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
شنگ جیانگ میں حالیہ پُرتشدد واقعات میں پاکستان کے لیے سفارتی سُبکی کا کوئی پہلو تو نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ایک متعلقہ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’چین میں جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس ہے لیکن ہمارے لیے اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ان فسادات سے قبل پاکستان نے بعض ایسے اقدامات لیے ہیں جو ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے میں بہت معاون ثابت ہوئے ہیں جو پاکستان میں چینی مسلمان شدت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے چینی قیادت کے ذہنوں میں عرصے سے موجود تھیں‘۔
ینی حکومت کے لیے اصل پریشانی کا سبب جماعت اسلامی رہی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ چینی مسلمان علیحدگی پسندوں کو سیاسی اور سفارتی کے علاوہ مالی اور مادی امداد بھی کرتی رہی ہے۔
چینی حکام کئی برسوں سے کہتے رہے ہیں کہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ چینی صوبے چینگ شیانگ (سنکیانگ) میں مسلم علیحدگی پسند تحریک کو پاکستانی سر زمین سے مدد مل رہی ہے۔ چینی حکام کا الزام ہے کہ یہ مدد دو طریقوں سے سنکیانگ کے مسلمان اوغر باشندوں کے لیے تقویت کا باعث بنتی رہی ہے۔
ان میں ایک سیاسی مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کی صورت میں اور دوسری ان جنگجوؤں کے ذریعے ہے جو برس ہا برس سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں تربیت حاصل کر کے چینی علاقوں میں شورش اور تشدد کا باعث ہیں۔
’ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ’ کے پلیٹ فارم سے چینی شدت پسند پاکستان میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس تنظیم کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق اس وقت ہوئی جب چھ برس قبل وزیرستان میں ایک فوجی کارروائی میں اس تنظیم کے سربراہ حسن محسوم کی ہلاکت کی چینی حکام نے تصدیق کی۔
حسن محسوم کے القاعدہ سے بھی روابط ثابت ہوئے تھے۔
چین کی اس تشویش میں سنگین اضافہ، بعض ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اس وقت ہوا تھا جب چینی حکام نے شمالی علاقے گلگت کے قریب ایک ایسے مدرسے کی نشاندہی کی تھی جس میں چینی مسلمان باشندے مذہبی تعلیم کے ساتھ جنگی تربیت بھی حاصل کر رہے تھے۔
بار بار کی شکایت کے بعد مشرف حکومت نے اس مدرسے کو بند کر دیا اور یہاں زیرتعلیم چینی باشندوں میں سے چند کو گرفتار کر کے چین کے حوالے کیا جن کے بارے میں بعد میں مغربی میڈیا میں ایسی اطلاعات آئیں کہ انہیں چین پہنچتے ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد آنے والے عالمی دباؤ کے بعد پاکستان نے مزید چینی باشندوں کو چین کے حوالے نہ کرنے کی پالیسی اپنائی اور شمالی علاقوں میں فوجی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے چینی مسلمان شدت پسندوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا جہاں ان میں سے بعض اب بھی گوانتاناموبے میں قید ہیں۔
لیکن چینی حکومت کے لیے اصل پریشانی کا سبب جماعت اسلامی رہی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ چینی مسلمان علیحدگی پسندوں کو سیاسی اور سفارتی کے علاوہ مالی اور مادی امداد بھی کرتی رہی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے چین کے ساتھ تعلقات کو ماضی کی طرح پر جوش بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دورہ چین کے فوراً بعد جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر قاضی حسین احمد ایک اعلیٰ سطحی جماعتی وفد کے ہمراہ چین روانہ ہوئے۔
اس دورے کو چینی قیادت پاک چین سفارتی تعلقات میں نہایت اہم قرار دیتے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی کے سربراہ نے ناصرف زبانی چین کی اعلیٰ قیادت کو چینی مسلمانوں کی حمایت سے عملاً دستبردار ہونے کا یقین دلایا بلکہ اس موقع پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ عدم مداخلت کے ایک تحریری معاہدے پر دستخط بھی کئے۔
جماعت اسلامی کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ اس سال فروری میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد یہ جماعت چین کے علاقے سنکیانگ میں ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر تائب ہو چکی ہے۔
اس اہم سیاسی پیش رفت کے بعد چینی قیادت نے پاکستان کو خط لکھ کر انہیں اس معاہدے پر مبارکباد دی بلکہ ان کی توجہ اس امر کی جانب بھی مبذول کروائی کہ حکومت پاکستان اپنی سرزمین سے گرفتار ہونے والے چینی جنگجوؤں کو چین کے حوالے نہ کر کے اپنے اس اعلان کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے غیر ملکی شدت پسندوں کو پہلے ان کے ملک کے حوالے کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے اور اگر کوئی ملک اپنے باشندوں کو قبول کرنے سے انکار کرے تو انہیں امریکہ روانہ کر دیا جاتا ہے۔
چینی حکومت کے ساتھ اس دوران ہونے والے سفارتی روابط کے بعد پاکستان سے گرفتار ہونے والے چینی شدت پسندوں کو دوبارہ چین کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں دو ماہ قبل وزیرستان سے گرفتار ہونے والے درجن بھر چینی باشندوں کو چین کے حوالے کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد وزیرداخلہ رحمٰن ملک بھی چین گئے تھے جہاں چینی حکام کے ساتھ چینی جنگجوؤں اور ان کی تنظیم کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔
دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ چین میں تشدد کے حالیہ واقعات سے ملتے جلتے واقعات ماضی میں پاکستان کے لیے سفارتی شرمندگی کا باعث بنتے رہے ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہے۔ اور اس کی دلیل منگل کے روز دفتر خارجہ میں چینی سفارتکاروں کے ساتھ پاکستانی حکام کی ایک میٹنگ ہے جس کے دوران، ان ذرائع کے مطابق چینی اہلکاروں نے ایک بار بھی سنکیانگ میں حالیہ واقعات کا تذکرہ تک نہیں کیا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090707_xingjian_pakistan.shtml?s