Is it our ignorance ?

aping4

Senator (1k+ posts)
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/08/100813_ali_salman_people.shtml
پاکستان کے سیلاب جسے اقوام متحدہ حالیہ دہائیوں میں انسانوں کی سب سے بڑی تعداد کو متاثر کرنے والی آفت قرار دے رہی ہے، اس کے بارے میں خود پاکستانیوں کی ایک تعداد حیرانگی کی حد تک یا تو لاعلم ہے یا اسے اس کی سنگینی کا اندازہ کرنے اوراس کے مطابق ردعمل کا اظہار کرنے میں ناکام ہے۔
پاکستان کے تقریباً دس فی صد کے لگ بھگ شہری ملکی تاریخ کے ان بدترین سیلابوں کی مشکلات کا شکار ہیں لیکن جو لوگ متاثر نہیں ہیں وہ ان بھوکے پیاسے بےسر و سامان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے اس طرح سامنے نہیں آ رہے جس کی ان سے توقع کا جاتی تھی۔
لاہور میں پتلون قمیض پہنے دو محنت کش نوجوان لکڑی کے تختے کاندھوں پر اٹھائے جا رہے تھے جب میں نے انہیں چندلمحوں کے لیے روکا تو پتہ چلا کہ دونوں کھڑکیوں میں شیشے فٹ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ایک نوجوان محمد شفیق کو تو یہ علم ہی نہیں تھا کہ ملک میں کوئی سیلاب آیا ہے اور دوسرے کی معلومات اس حد تک ناقص تھیں کہ وہ سمجتھے تھے کہ سیلاب صرف سندھ اور کراچی میں آیا ہے۔
ظاہر ہے انہوں نے یا ان کے کسی قریبی عزیز نے نہ تو کوئی امداد کی ہوگی نہ اس بارے میں ذکر کیا ہوگا۔
دوسری عجیب بات یہ تھی کہ یہ دونوں نوجوان اس زلزلے کےبارے میں جانتے ہیں جو کشمیر اور پختونخواہ کے کچھ علاقوں میں پانچ برس قبل آیا تھاحالانکہ اس وقت یہ دونوں اپنے لڑکپن کی عمر میں تھے۔
پانچ سال پہلے کشمیر اور سرحد کے بعض حصوں میں زلزلے آنے سے والی تباہی کے متاثرین کی تعداد تیس لاکھ تھی اس کے مقابلے میں حالیہ سیلاب متاثرین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ چکی ہے لیکن پانچ برس پہلے متاثرین کے لیےامداد اور ہمدردی کے جوجذبات پورے پاکستان میں دیکھنے کو ملے تھے اب ان کی ہلکی سے جھلک بھی نظر نہیں آ رہی۔
پانچ برس پہلے متاثرین کے لیےامداد اور ہمدردی کے جوجذبات پورے پاکستان میں دیکھنے کو ملے تھے اب ان کی ہلکی سے جھلک بھی نظر نہیں آ رہی




مجھے یاد ہے روزانہ لاہور سے سینکڑوں ٹرک امداد کے روانہ ہوتے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں اور گاڑیوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ٹریفک جام ہو جاتی تھی۔

بعض لوگ تو اتنے جذباتی ہوئے کہ خود مدد کے لیے دوڑ پڑے اور کئی مقامات پر انتظامیہ کو منع کرنا پڑا کہ ان کی وجہ سے امدادی کاموں میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔
مجھے اندرون بھاٹی گیٹ کا وہ نوجوان نہیں بھولتا جو امداد کی استطاعت نہیں رکھتا تھا لیکن پلاسٹک کی خالی بوتلیں اکھٹی کرتا رہتا تھا۔ میں نے پوچھا تھا کہ یہ کس لیے تو جواب ملا کہ انہیں دھو کر ان میں نلکے سے پانی بھر کر زلزلہ زدگان کو دے آؤں گا۔
اب یہ جذبے مفقود دکھائی دیتےہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان پانچ برسوں میں حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں کیونکہ اس دوران قوم کو کسی نے کسی مصیبت نے گھیرے رکھا۔ روز روز کے بم دھماکوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی اور ہرشخص نے خود کو ہمہ وقت خطروں میں گھرا ہوا پایا۔
ایک نجی سکول کی ٹیچر مس شبانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں اس بار اتنی امداد نہیں کی جتنی انہوں نے زلزلہ زدگان کے لیے کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو مہنگائی نے کسی کو اس قابل نہیں چھوڑا دوسرے ایک بعد دوسری مصیبت نے قوم کا مزاج ہی تبدیل کر دیا ہے۔
I know hurling show is not important than 150 million people but was it worth for Zordari to visit his unknown fathers in UK and France when the whole Pakistan was going through the devastation of flood.
 
Last edited: