Hazrat Umer, Imam Ali and Chief Justice.

Awanabadi

MPA (400+ posts)
سیدنا عمرؓ بن خطاب کا عہدِ خلافت ہے۔ عمرؓ کسی شخص سے ایک گھوڑا خریدتے ہیں، اِس شرط پر کہ پسند آ گیا تو رکھ لیں گے، ورنہ واپس کر دیں گے۔ گھوڑا ایک سوار کو دیتے ہیں اور وہ سواری میں چوٹ کھا کر لنگڑا ہو جاتا ہے۔ عمرؓ گھوڑا واپس کرنا چاہتے ہیں مگر مالک لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ دونوں شریح بن حارث کو ثالث مقرر کرتے ہیں۔ شریح فیصلہ کرتے ہیں ’’جو گھوڑا خریدا ہے، اُسے رکھو یا جس حالت میں لیا تھا، اِسی حالت میں واپس کرو۔‘‘ عمرؓ فیصلہ ہی تسلیم نہیں کرتے بلکہ شریح کو کوفہ کا جج بھی مقرر کر دیتے ہیں کہ ایسا دقیقہ رس، ذکی، طباع، حدیث و فقہ کا ماہر اور بے خوف انسان شخص ایسے ہی بلند پایہ منصب کا اہل ہو سکتا ہے۔

قاضی شریح اپنی ذمے داریاں اِتنی خوبی، قابلیت اور دیانت کے ساتھ انجام دیتے ہیں کہ اموی خلیفہ عبدالمالک کے زمانے تک مسلسل ساٹھ برس اِس منصبِ جلیلہ پر فائز رہتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں اُن کا شمار سب سے بڑے قضاۃ میں ہوتا ہے۔ اِن کے بعض فیصلوں پر تو اسلام کی تاریخِ عدل بجا طورپر ناز کر سکتی ہے۔ سیدنا علیؓ کا دورِ خلافت ہے۔ دارالخلافہ مدینے سے کوفے منتقل ہو چکا۔ شریح اسلامی مملکت کے چیف جسٹس ہیں۔ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ اور ایک یہودی کا تنازع ان کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ امیر المؤمنین کی زرہ کہیں گر پڑی تھی اور اِس یہودی کے ہاتھ لگ گئی۔ امیر المؤمنین کو پتا چلتا ہے تو اِس سے زرہ کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر یہودی کہتا ہے کہ زرہ میری ہے، چناں چہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ امیر المؤمنین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ چیف جسٹس شریح فریقین کے بیان لیتے ہیں۔

یہودی اپنے بیان میں کہتا ہے کہ زرہ میری ہے اور اِس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ میرے قبضے میں ہے۔ چیف جسٹس شریح، امیر المؤمنین سے اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرنے کو کہتے ہیں۔ وہ دو گواہ پیش کرتے ہیں: حسنؓ اور قنبرؓ۔ چیف جسٹس شریح کہتے ہیں کہ قنبرؓ کی شہادت تو قبول کرتا ہوں لیکن حسنؓ کی شہادت قابلِ قبول نہیں۔ امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ آپ حسنؓ کی شہادت کو مسترد کرتے ہیں! کیا آپؓ نے رسول اللہ کا ارشاد نہیں سنا کہ حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ چیف جسٹس شریح کہتے ہیں ’’سنا ہے، مگر میرے نزدیک باپ کے حق میں بیٹے کی شہادت معتبر نہیں۔‘‘ دوسرا شاہد نہ ہونے کی وجہ سے امیر المؤمنین کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔

امیر المؤمنین نہ تو کوئی آرڈی نینس جاری کرتے اور نہ کسی قانون کی پناہ ڈھونڈتے ہیں بلکہ اِس فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ یہودی اِس فیصلے سے بے حد متاثر ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک شخص صاحبِ اقتدار ہونے کے باوجود زرہ اِس سے نہیں چھینتا بلکہ عدالت کے دروازے پر دستک دیتا اور مدعی کی حیثیت سے اِس کے سامنے جاتا ہے۔ پھر عدالت اِس کے ساتھ کوئی امتیازی برتاؤ نہیں کرتی، مدعی اور مدعا علیہ دونوں یکساں حالت میں اِس کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔

عدالتی کارروائی میں بھی کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا، روز مرہ کی سی کارروائی ہوتی ہے اور عدالتی طریق کار کے عین مطابق۔ پھر عدالت کا جج امیر المؤمنین کے خلاف فیصلہ صادر کرتا اور امیر المؤمنین بے چون و چرا اِس فیصلے کے آگے سر جھکا دیتا ہے۔ اسلامی عدالت کا بے لوث عدل اور امیر المؤمنین کا منصفانہ کردار اِس کے دل میں کھب جاتا ہے۔ وہ وہیں عدالت میں پکار اُٹھتا ہے کہ’’ زِرہ امیر المؤمنین ہی کی ہے اور جس دین کا ماننے والا قاضی، امیر المؤمنین کے خلاف فیصلہ صادر کرتا ہے اور امیر المؤمنین اِس فیصلے کو بلا حیل و حجت تسلیم کر لیتا ہے، وہ یقینا سچا ہے۔‘‘ امیر المؤمنین اِس یہودی کے اسلام قبول کر لینے پر اِتنے مسرور و شادماں ہوتے ہیں کہ بطور یادگار اپنی زرہ اِسے دے دیتے ہیں۔
 
Last edited by a moderator:

Admiral

Chief Minister (5k+ posts)


آج کے دور میں حکمران یا تو جج کو مشرف بہ پی سی او کر دیتے ہیں یا پھر اگر اپنے خلاف فیصلہ آنے کا ڈر ہو تو اسے چھٹی پر بھیج کر اپنی مرضی کا چنگڑ پکڑ کر جج بنا دیتے ہیں
 

saeenji

Minister (2k+ posts)
jazakallah.png
 
ہمارے اسلاف کے سنہری کردار جو اب صرف کتابوں میں ملتے ہیں۔
Nahi nahi aaj ka door bhi kitabon mein likha Jaye ga . Jhoot ko josh e khitabat . Munafqat ko mofahmat or Wada khalafi ko asoli moqaf jesay qawaneen sabit kar ke yeh beighairat bhi tareekh ke siyah Haroof mein likhay Jain gai rawind par zardari mehal 70 khanay ghaseta road bhi likha Jaye ga or cheif justice ke ghar ke bahir recodiq justice bhi likha Jaye ga