Ahmed thakur
Citizen
آج سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران جج صاب سے کہا گیا ہماری خواھش ہے اس کیس کو آپ لوگ روزانہ کی بنیاد پر سنیں اور انور ظہیر جمالی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے فیصلہ سنا دیں تو ایک جج صاحب نے فرمایا ہماری سالانہ تعطیلات بی آ رہی ہیں تو شاہد شیخ صاحب یا وکیل نے ارض کی کے کیا تعطیلات پے جانا ضروری ہے تو جج صاحب نے فرمایا یه ہماری hard earned holidays ہیں جج صاحبان اور سپریم کورٹ کا احترم سر آنکھوں پر لیکن میں یہاں جج صاحبان سے کچھ سوالات پوچھنا چاھتا ہوں کے جج صاحب جس ملک کی سپریم کورٹ میں 18 لاکھ کیسیس زیر التوا پڑے ہوں تو کیا اس کورٹ کے جج صاحبان کو چھٹیوں پر جانا ذیب دیتا ہے?
جج صاحب جس ملک کی سپریم کورٹ ایک شهری کو مرنے کے دو سال بعد انصاف دیتی ہے کیا وہاں کے ججز کو چٹھیوں پے جانا بنتا ہے? جج صاحب آپ لوگوں کو تو 48,48 گھنٹے کام کر کے اس ملک کے غریب عوام کو انصاف دینا چاہیں جہاں پہلے ہی قانون اور انصاف امی آدمی کی لونڈی بنے ہوۓ ہیں ھاں جج صاحب اس غریب مڈل کلاس طبقہ کو انصاف جس کے ٹیکس کے پیسے سے آپ کے ملک کا نظام چل رہا آپ کی سپریم کورٹ آپ کی تنخواہ آپ لوگوں کے گھروں کے اخرجات بچوں کی فیسز آپ لوگوں کی بلٹ پروف گاڑیوں کے خرچے ووہی مڈل کلاس طبقہ ہی تو محنت کر کے پورے کر رہا جو سال کے بارہ مهینے کأم کرتا ہے لیکن اس کے لئے نہ تو hard earened holidays ہیں اور نہ ہی انصاف جج صاحب کسی یوروپین ملک میں کوئی اس قسم کا مصلاح ہو جائے تو وہ لوگ راتوں کو بی عدالتیں کھول کے بیٹھ جاتے ہیں اور انصاف دیتے ہیں اور آپ همیں بتا رہے ہیں کے آپ نے چٹھیوں پے جانا ہے اور ہمارے ہی پیسے پے عیاشی کرنے ہیں اور ہم انصاف کے لئے انتظار کریں
کیونکہ اس ملک میں یا تو انصاف سویا ہوتا ہے یا چٹھی پے ہوتا ہے جج صاحب اگر انصاف دئے بغیر اسی طرح چٹھیاں ہی کرنی ہیں تو یہ عدالتیں غریب آدمی کو ٹھیکے پر ہی دے دیں آپ کا بی کأم ہو جاۓ گا اور غریب کا بی بهلا پچھلے 8 مہینوں سے قوم پانامہ کیس میں قوم کبھی تو سڑکوں پر پولیس والوں سے ڈنڈے اور انسو گیس کے شیل کھا رهی اور کبھی نیب سے لے کر پارلیمنٹ کی طرف دیکھ رهی جج صاب کبھی تو آپ اس قوم کی درخواست کو ایک مذاق که کر مسترد کر دیتیں اور کبھی چٹھیوں کا بہانا لگا کر اس قوم کا مذاق بناتے ہیں کب تک آخر کب تک جج صاحبان ? شاہد آپ لوگ بھول گے ہیں ایک انصاف کرنے والی ذات اوپر پی بیٹھی ہے جس کی لاٹھی بے آواز ہے .
لیکن ایک دوست نے کیا خوب بات کی تھی همیں پتا ہوتا ہے کے ہماری کرکٹ ٹیم میچ میں کیا نتیجہ دے گی لیکن ہم پھر بی امید لگا کے بیٹھے ھوتے ہیں کے شاہد آج کا میچ اچھا کھیل جائں لیکن آخر میں پھر همیں مایوس ہونا پڑتا ہے یہی حال ہماری سپریم کورٹ کا ہے ہم ہر مرتبہ ان سے امید رکھتے لیکن وہ ہر مرتبہ همیں مایوس کرتے ہیں شاہد غلطی ہم لوگوں کی ہے.
Justice delayed is justice denied!
Twitter::>@Amdtkrpti
جج صاحب جس ملک کی سپریم کورٹ ایک شهری کو مرنے کے دو سال بعد انصاف دیتی ہے کیا وہاں کے ججز کو چٹھیوں پے جانا بنتا ہے? جج صاحب آپ لوگوں کو تو 48,48 گھنٹے کام کر کے اس ملک کے غریب عوام کو انصاف دینا چاہیں جہاں پہلے ہی قانون اور انصاف امی آدمی کی لونڈی بنے ہوۓ ہیں ھاں جج صاحب اس غریب مڈل کلاس طبقہ کو انصاف جس کے ٹیکس کے پیسے سے آپ کے ملک کا نظام چل رہا آپ کی سپریم کورٹ آپ کی تنخواہ آپ لوگوں کے گھروں کے اخرجات بچوں کی فیسز آپ لوگوں کی بلٹ پروف گاڑیوں کے خرچے ووہی مڈل کلاس طبقہ ہی تو محنت کر کے پورے کر رہا جو سال کے بارہ مهینے کأم کرتا ہے لیکن اس کے لئے نہ تو hard earened holidays ہیں اور نہ ہی انصاف جج صاحب کسی یوروپین ملک میں کوئی اس قسم کا مصلاح ہو جائے تو وہ لوگ راتوں کو بی عدالتیں کھول کے بیٹھ جاتے ہیں اور انصاف دیتے ہیں اور آپ همیں بتا رہے ہیں کے آپ نے چٹھیوں پے جانا ہے اور ہمارے ہی پیسے پے عیاشی کرنے ہیں اور ہم انصاف کے لئے انتظار کریں
کیونکہ اس ملک میں یا تو انصاف سویا ہوتا ہے یا چٹھی پے ہوتا ہے جج صاحب اگر انصاف دئے بغیر اسی طرح چٹھیاں ہی کرنی ہیں تو یہ عدالتیں غریب آدمی کو ٹھیکے پر ہی دے دیں آپ کا بی کأم ہو جاۓ گا اور غریب کا بی بهلا پچھلے 8 مہینوں سے قوم پانامہ کیس میں قوم کبھی تو سڑکوں پر پولیس والوں سے ڈنڈے اور انسو گیس کے شیل کھا رهی اور کبھی نیب سے لے کر پارلیمنٹ کی طرف دیکھ رهی جج صاب کبھی تو آپ اس قوم کی درخواست کو ایک مذاق که کر مسترد کر دیتیں اور کبھی چٹھیوں کا بہانا لگا کر اس قوم کا مذاق بناتے ہیں کب تک آخر کب تک جج صاحبان ? شاہد آپ لوگ بھول گے ہیں ایک انصاف کرنے والی ذات اوپر پی بیٹھی ہے جس کی لاٹھی بے آواز ہے .
لیکن ایک دوست نے کیا خوب بات کی تھی همیں پتا ہوتا ہے کے ہماری کرکٹ ٹیم میچ میں کیا نتیجہ دے گی لیکن ہم پھر بی امید لگا کے بیٹھے ھوتے ہیں کے شاہد آج کا میچ اچھا کھیل جائں لیکن آخر میں پھر همیں مایوس ہونا پڑتا ہے یہی حال ہماری سپریم کورٹ کا ہے ہم ہر مرتبہ ان سے امید رکھتے لیکن وہ ہر مرتبہ همیں مایوس کرتے ہیں شاہد غلطی ہم لوگوں کی ہے.
Justice delayed is justice denied!
Twitter::>@Amdtkrpti
Last edited by a moderator: