42 Mumalik Aur Kalmay Ki Taaqat

Wadaich

Prime Minister (20k+ posts)
طلوع اسلام
عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی

اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل
نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی

تڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میں
جدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دے
چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے

سر شک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیلؑ اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

ربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

ترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دے

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زبان تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردراہ ہوں وہ کارواں تو ہے

یہ نکتہ سرگر مشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری محبت کی فراوانی

میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پرواز شاہین کہستانی

گمان آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے

ہوئے مدفون دریا زیرِ دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کے گہر نکلے

غبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

زمین سے نوریانِ آسمان پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پائندہ تر تابندہ تر نکلے

جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا!
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندہ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی

ابھی تک آدمی صید زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریز کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے

پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمین جولاں کہ اطلس قبایان تتاری ہے

بیا پیدا خریدارست جان ناتوانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
 
Last edited: